بچوں کو سمجھایا ہےکہ سالگرہ نہیں مناتے وہ ضد کرتے ہیں کہ ہماری کوئی دعوت کریں جس میں سب دوست آئیں اس میں وہ ہمیں تحفہ دیں اور ہم کیک کاٹیں، کیا یہ صحیح ہے؟ ان کو خوش کرنے کا کیا بہانا ہو اگر سالگرہ جائز نہیں جس سے وہ مطمئن ہو جائیں؟
سالگرہ کا اسلام میں تصور نہیں، اس لیے بچوں کی خوشی کے لیے غیروں کے رسم و رواج اور بدعات میں نہیں پڑنا چاہیے، البتہ سالگرہ کی تاریخ گزار کر آگے پیچھے کوئی دعوت کر کے اس میں بچوں کے دوستوں کو مدعو کرنا جائز اور درست ہے۔
فی مشکوٰۃ المصابیح: عن ابن عمر رضی اللہ عنہما، قال قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم ’’من تشبہ بقوم فھو منھم‘‘. رواہ أحمد و أبوداؤد (۲/ ۳۷۵)۔
و فی مرقاۃ المفاتیح: تحت: عن ابن عمر رضي الله تعالى عنهما قال قال رسول الله من تشبه بقوم أي من شبه نفسه بالكفار مثلا في اللباس وغيره أو بالفساق أو الفجار أو بأهل التصوف والصلحاء الأبرار فهو منهم أي في الإثم والخير قال الطيبي هذا عام في الخَلْق والخُلُق والشعار ولما كان الشعار أظهر في الشبه ذكر في هذا الباب قلت بل الشعار هو المراد بالتشبه لا غير۔اھ ( ۲/ ۳۷۵) واللہ اعلم بالصواب