میں شادی شدہ ہوں، میرے دو بچے ہیں ، بیٹی تقریبا 5 سال کی اور بیٹا تین سال کا ہے، میں نے عائشہ عرفان سے تقریبا 6 سال پہلے شادی کی ،شادی سے پہلے وہ قادیانی تھی، وہ مسلمان ہوئی تو میں نے اس سے نکاح کیا ، اب تقریبا 2 سال سے پھر وہ قادیانیت کی طرف ہو رہی ہے، میں نے بہت سمجھایا، اسکے نہ سمجھنے کی وجہ سے تقریباً ایک سال میں علیحدگی ہوگئی ہے لیکن طلاق نہیں دی،بچے ابھی تک مال کے پاس ہیں ، میں نے فتو ی لینا ہے کہ کیا میں اس سے زبردستی بچے لے سکتا ہوں ، کیونکہ وہ بچے نہیں دے رہی براہ کرم رہنمائی فر مائیں ۔
اولا ً تو سائل کو چاہیے کہ وہ اپنی بیوی کو اس حرکت سے باز رکھنے کی مقدور بھر کوشش کرے تاکہ اس کا ایمان سلامت رہے اور عذاب اخروی سے سبکدوش ہو سکے لیکن اگر اسکے باوجود وہ نہیں مانتی تو اسے ایک طلاق دیدے اور پھر رجوع نہ کرے۔ جبکہ دوبارہ قادیانیت کی طرف چلے جانے سے اسکا حق حضانت ختم ہو جائے گا اور سائل فی الفور اس سے اپنے بچے واپس لے سکتاہے اور اگر وہ مسلمان رہے تو بچے کی سات سال عمر ہونے تک اور بچی کے بلوغ تک جس کی کم از کم مدت نو سال ہے وہ اسی کے پاس رہیں گے۔
کمافی الدرالمختار: تربية الولد.(تثبت للأم) .النسبية (ولو) كتابية، أو مجوسية أو (بعد الفرقة) (إلا أن تكون مرتدة) فحتى تسلم لأنها تحبس (أو فاجرة) فجورا يضيع الولد به كزنا وغناء وسرقة ونياحة كما في البحر والنهر بحثا.(الی قولہ) (أو غيرمأمونة) ذكره في المجتبى بأن تخرج كل وقت وتترك الولد ضائعا اھ(3/555)
وفی الھندیہ: والأم والجدة أحق بالغلام حتى يستغني وقدر بسبع سنين(الی قولہ) والأم والجدة أحق بالجارية حتى تحيض(الی قولہ) وبعدما استغنى الغلام وبلغت الجارية فالعصبة أولى يقدم الأقرب فالأقرب اھ(1/542)