کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام اس مسئلے کے بارے میں کہ میرے بھائی مسمیٰ محمد ارسلان نے 2026-03-31ء کو مسماۃ مسرت بیگم بنت غلام محمد سے نکاح کیا ہے۔ یہ لڑکی بھائی کے ساتھ فیکٹری میں کام کرتی تھی۔ بوقتِ نکاح، نکاح فارم میں چند شرائط لکھی گئی ہیں جن سے متعلق دریافت کرنا ہے:
1۔ حق مہر دو تولہ سونا مقرر ہوا، جس کی ادائیگی بھائی کے ذمہ لازم ہے اور وہ اس کی ادائیگی کے لیے تیار بھی ہے۔
2۔ دوسری شرط یہ لکھی گئی ہے کہ "اگر اس نے دوسری شادی کر لی، تو پانچ لاکھ روپے جرمانہ ادا کرے گا"۔ معلوم یہ کرنا ہے کہ از روئے شرع اس شرط کا کیا حکم ہے؟
3۔ چونکہ مسرت کے ساتھ اس کے پہلے خاوند سے ایک بیٹی ہے، اس لیے نکاح فارم میں بوقتِ نکاح یہ شرط لکھی گئی ہے کہ "اس بچی کی کفالت مسمیٰ محمد ارسلان کے ذمہ ہوگی"۔ معلوم یہ کرنا ہے کہ اگر بھائی اپنی بیوی کو طلاق دے دیتا ہے، تو کیا تب بھی اس بچی کی کفالت میرے بھائی کے ذمہ لازم ہوگی؟ شریعتِ مطہرہ کی روشنی میں اس شرط کی کیا حیثیت ہے؟ جواب عنایت فرمائیں۔
صورتِ مسئولہ میں حق مہر دو تولہ سونے کے علاوہ دیگر شرائط (دوسری شادی کی صورت میں پانچ لاکھ کی ادائیگی، سابقہ شوہر سے بیٹی کی کفالت) غیر شرعی اور مالی جرمانے کے زمرے میں آنے کی بنا پر ان پرعمل درآمد سائل کے بھائی کے ذمہ شرعاً لازم نہیں، اور نہ ہی اسے ان شرائط پر عمل کرنے کے لیے مجبور کرنا جائز ہے، اس لیے اس سے احتراز لازم ہے۔
کما فی الدر المختار تحت:(قوله لا بأخذ مال في المذهب) قال في الفتح: وعن أبي يوسف يجوز التعزير للسلطان بأخذ المال. وعندهما وباقي الأئمة لا يجوز. اهـ. ومثله في المعراج، وظاهره أن ذلك رواية ضعيفة عن أبي يوسف. قال في الشرنبلالية: ولا يفتى بهذا لما فيه من تسليط الظلمة على أخذ مال الناس فيأكلونه...والحاصل أن المذهب عدم التعزير بأخذ المال،اھ(كتاب الحدود، باب التعزير، مطلب فى التعزير باخذالمال، ج:4، ص:61، ط:ايج ايم سعيد)
و فی رد المختار تحت:( قولہ والنكاح) كتزوجتك على أن لا يكون لك مهر فيصح النكاح ويبطل الشرط ويجب مهر المثل، ومن هذا القبيل ما في الخانية تزوجتك على أني بالخيار يجوز النكاح ولا يصح الخيار لأنه ما علق النكاح بالشرط بل باشر النكاح وشرط الخيار اهـ وليس منه إن أجاز أبي أو رضي لأنه تعليق والنكاح لا يحتمله فلا يصح۔اھ(باب المتفرقات من أبوابها،ج:5،ص:249،ط:سعید)۔
و فیہ ایضاً: ولکن لا یبطل النکاح (بالشرط الفاسد ) وانما (یبطل الشرط دونہ) یعنی لو عقد مع شرط فاسد لم یبطل النکاح بل الشرط۔الخ۔(کتاب النکاح:ج:3،ص:53،ط:سعید)
و في بدائع الصنائع :النكاح لا تبطله الشروط الفاسدة فبطل الشرط وبقي النكاح صحيحا.اھ(كتاب النكاح،فصل التأبيد، ج:2،ص:273، ط:سعيد)
و في موسوعۃ القواعد الاسلامیۃ:إذا اشترط في عقد النّكاح شرط فاسد لا يُخِلّ بمقتضى وموجَب العقد فإنّ العقد صحيح والشّرط باطل؛ لأنّ عقد النّكاح لا تبطله الشّروط الفاسدة، وإنّما الذي يبطله ما كان شرطاً يضادّ مقصوده، فمع وجود الشّرط الفاسد يصحّ العقد ويبطل الشّرط. لكن البيع بخلاف النّكاح قد يبطله الشّرط الفاسد.اھ(القواعد فی النکاح و الشرط،ج:١١،ص:١٢٤٥،ط:مؤسسۃ الرسالیۃ)