کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام اور مفتیانِ عظام اس مسئلے کے بارے میں کہ جبران عالم کا نکاح بسمہ بی بی سے ہوا، کئی مرتبہ بسمہ نے جبران سے مطالبہ کیا کہ آپ میرے شوہر نہیں، میرا شوہر کوئی اور ہے اور وہ مجھے پسند ہے، قرآن پر ہاتھ رکھو اور مجھے چھوڑو۔ اکثر گھر سے نکل جاتی، کھڑکیوں سے جھانکتی، بے شرمی کے تمام حدود پار کرتی تھی، لیکن شوہر صبر کرتا تھا۔ ایک سال بعد بچہ پیدا ہوا، والدہ بچے کی دیکھ بھال اور پرورش کا بالکل خیال نہیں رکھتی تھی، اپنا دودھ غسل خانے میں ضائع کرلیتی لیکن بچے کو نہیں پلاتی۔ بچہ دادی اور پھو پھیوں کے ہاں بہترین پرورش پاتا رہا، بچے کی پیدائش کے ایک ماہ بعد ماں بچے کو چھوڑ کر گاؤں چلی گئی۔ بچے کی نانی چونکہ سائیکو کی مریضہ ہے اور ماں کی صورتِ حال اوپر ذکر کردی گئی ہے تو آیا بچے کی پرورش اور دیکھ بھال کی ذمہ داری بچے کی دادی اور پھوپھیوں کو دی جاسکتی ہے یا نہیں؟
نوٹ: دادی اور پھوپھیاں مالدار بھی ہیں اور وہ پرورش کرنا چاہتی بھی ہیں اور اب تک بچہ ان کی ہی پرورش میں ہے اور بہترین پرورش پارہا ہے۔ برائے مہربانی قرآن و حدیث کی روشنی میں مسئلے کی مکمل وضاحت فرمائیں اور شکریہ کا موقع دیں۔
واضح ہوکہ جب تک میاں بیوی کا نکاح برقرار ہو تو بچوں کی پرورش کی حق دار ان کی والدہ ہوتی ہے۔ تاہم اگر وہ اس سلسلہ میں اپنی ذمہ داری پوری نہ کرےبلکہ اس کوتاہی کی وجہ سےبچوں کی صحت کو نقصان پہنچنے کا اندیشہ ہو تو اس کے بعد یہ حق بچوں کی نانی کو حاصل ہوتا ہے اور ان کی عدمِ اہلیت کی صورت میں بچوں کی دادی ان کی پرورش کی حق دار ہوگی۔ لہٰذا سائل کا بیان اگر واقعۃً درست اور مبنی بر حقیقت ہو اس میں کسی قسم کی غلط بیانی یا مبالغہ آرائی سے کام نہ لیا گیا ہو اس طور پر کہ سائل کی بیوی اس کے نکاح میں ہوتے ہوئے بھی غیر مرد سے اپنا تعلق جوڑنے کی کوشش کررہی ہو اور اس کی وجہ سےاپنے بچے کی دیکھ بھال اور پرورش میں کوتاہی کا مرتکب ہورہی ہوتو وہ اپنے اس غیر شرعی اور غیر اخلاقی عمل کی وجہ سے سخت گناہ گار ہورہی ہے اور اپنے بچے کی حقِ حضانت سے بھی محروم ہوچکی ہے۔ اب اگر بچے کی نانی بھی واقعۃً ذہنی معذور ہو تو پرورش کے اہل نہ ہونے کی وجہ سےاس بچے کی پرورش کی حق دار بچے کی دادی( سائل کی والدہ ) ہے۔ اور بچے کی والدہ جب تک اپنے ان غیر شرعی اور غیر اخلاقی امور سے باز نہیں آتی اس وقت تک اسے بچے کی پرورش کا حق حاصل نہ ہوگا۔
کما فی الدر المختار: ( تثبت للأم ) ( إلی قولہ ) ( و لو ) ( إلی قولہ ) (بعد الفرقۃ إلا أن تکون مرتدۃ ) ( إلی قولہ ) ( أو فاجرۃ ) فجورا یضیع الولد بہ کزنا و غناء و سرقۃ و نیاحۃ ( إلی قولہ ) ( أو غیر مأمونۃ ) ذکرہ فی المجتبی بأن تخرج کل وقت و تترک الولد ضائعا ( إلی قولہ ) ( أو متزوجۃ بغیر محرم ) الصغیر ( إلی قولہ ) ( ثم ) أی بعد الأم بأن ماتت أو لم تقبل أو أسقطت حقھا أو تزوجت أجنبی ( أم الأم ) و إن علت عند عدم أھلیۃ القربی ( ثم أم الأب و إن علت ) بالشرط المذکور ( إلی قولہ ) ( و ) الحاضنۃ ( یسقط حقھا بنکاح غیر محرمۃ ) أی الصغیر ( و کذا بسکناہ عند المبغضین لہ؛ لما فی القنیۃ: لو تزوجت الأم بآخر فأمسکتہ أم الأم فی بیت الراب فلأب أخذہ ( إلی قولہ ) ( و الحاضنۃ ) أما أو غیرھا ( أحق بہ ) أی بالغلام حتی یستغنی عن النساء و قدر بسبع ( إلی قولہ ) ( و الأم و الجدۃ ) لأم أو لأب ( أحق بھا ) بالصغیرۃ ( حتی تحیض ) أی تبلغ إلخ۔ ( باب الحضانۃ، ج 3، ص 555۔566، ط: سعید )۔
و فیہ أیضاً: و إذا أسقطت الأم حقھا صارت کمیتۃ أو متزوجۃ فتنتقل للجدۃ بحر إلخ۔
و فی الشامیۃ: تحت ( قولہ و لا تقدر الحاضنۃ إلخ ) لکن قیدہ فی الظھیریۃ بأن لا یکون للصغیر ذو رحم محرم، فحینئذ تجبر الأم کی لا یضیع الولد؛ أما لو امتنعت الأم و کان لہ جدۃ رضیت بأمساکہ دفع إلیھا، لأن الحضانۃ کانت حقا للأم فصح إسقاطھا حقھا، و عزی ھذا التعلیل للفقھاء الثلاثۃ: و علؔلہ فی المحیط بأنھا لما أسقطت حقھا، بقی حق الولد، فصارت بمنزلۃ المیتۃ أو متزوجۃ فتکون الجدۃ أولی إلخ۔ ( باب الحضانۃ، ج 3، ص 559، ط: سعید )۔
و فی الھندیۃ: أحق الناس بحضانۃ الصغیر حال قیام النکاح أو بعد الفرقۃ الأم إلا أن تکون مرتدۃ أو فاجرۃ غیر مأمونۃ کذا فی الکافی ( إلی قولہ ) و کذا لو کانت سارقۃ أو مغنیۃ أو نائحۃ فلا حق لھا ھکذا فی النھر الفائق ( إلی قولہ ) و إن لم یکن لہ أم تستحق الحضانۃ بأن کانت غیر أھل للحضانۃ أو متزوجۃ بغیر محرم أو ماتت فأم الأم أولی من کل واحدۃ و إن علت فإن لم یکن للأم أم فأم الأب أولی ممن سواھا و إن علت کذا فی فتح القدیر إلخ۔ ( الباب فی الحضانۃ، ج 1، ص 541، ط: ماجدیۃ )۔