پرورش و تربیت

بچہ کی پرورش سے متعلق حکم

فتوی نمبر :
85294
| تاریخ :
2025-08-13
معاشرت زندگی / اولاد کے مسائل و احکام / پرورش و تربیت

بچہ کی پرورش سے متعلق حکم

کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام اور مفتیانِ عظام اس مسئلے کے بارے میں کہ جبران عالم کا نکاح بسمہ بی بی سے ہوا، کئی مرتبہ بسمہ نے جبران سے مطالبہ کیا کہ آپ میرے شوہر نہیں، میرا شوہر کوئی اور ہے اور وہ مجھے پسند ہے، قرآن پر ہاتھ رکھو اور مجھے چھوڑو۔ اکثر گھر سے نکل جاتی، کھڑکیوں سے جھانکتی، بے شرمی کے تمام حدود پار کرتی تھی، لیکن شوہر صبر کرتا تھا۔ ایک سال بعد بچہ پیدا ہوا، والدہ بچے کی دیکھ بھال اور پرورش کا بالکل خیال نہیں رکھتی تھی، اپنا دودھ غسل خانے میں ضائع کرلیتی لیکن بچے کو نہیں پلاتی۔ بچہ دادی اور پھو پھیوں کے ہاں بہترین پرورش پاتا رہا، بچے کی پیدائش کے ایک ماہ بعد ماں بچے کو چھوڑ کر گاؤں چلی گئی۔ بچے کی نانی چونکہ سائیکو کی مریضہ ہے اور ماں کی صورتِ حال اوپر ذکر کردی گئی ہے تو آیا بچے کی پرورش اور دیکھ بھال کی ذمہ داری بچے کی دادی اور پھوپھیوں کو دی جاسکتی ہے یا نہیں؟
نوٹ: دادی اور پھوپھیاں مالدار بھی ہیں اور وہ پرورش کرنا چاہتی بھی ہیں اور اب تک بچہ ان کی ہی پرورش میں ہے اور بہترین پرورش پارہا ہے۔ برائے مہربانی قرآن و حدیث کی روشنی میں مسئلے کی مکمل وضاحت فرمائیں اور شکریہ کا موقع دیں۔

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

واضح ہوکہ جب تک میاں بیوی کا نکاح برقرار ہو تو بچوں کی پرورش کی حق دار ان کی والدہ ہوتی ہے۔ تاہم اگر وہ اس سلسلہ میں اپنی ذمہ داری پوری نہ کرےبلکہ اس کوتاہی کی وجہ سےبچوں کی صحت کو نقصان پہنچنے کا اندیشہ ہو تو اس کے بعد یہ حق بچوں کی نانی کو حاصل ہوتا ہے اور ان کی عدمِ اہلیت کی صورت میں بچوں کی دادی ان کی پرورش کی حق دار ہوگی۔ لہٰذا سائل کا بیان اگر واقعۃً درست اور مبنی بر حقیقت ہو اس میں کسی قسم کی غلط بیانی یا مبالغہ آرائی سے کام نہ لیا گیا ہو اس طور پر کہ سائل کی بیوی اس کے نکاح میں ہوتے ہوئے بھی غیر مرد سے اپنا تعلق جوڑنے کی کوشش کررہی ہو اور اس کی وجہ سےاپنے بچے کی دیکھ بھال اور پرورش میں کوتاہی کا مرتکب ہورہی ہوتو وہ اپنے اس غیر شرعی اور غیر اخلاقی عمل کی وجہ سے سخت گناہ گار ہورہی ہے اور اپنے بچے کی حقِ حضانت سے بھی محروم ہوچکی ہے۔ اب اگر بچے کی نانی بھی واقعۃً ذہنی معذور ہو تو پرورش کے اہل نہ ہونے کی وجہ سےاس بچے کی پرورش کی حق دار بچے کی دادی( سائل کی والدہ ) ہے۔ اور بچے کی والدہ جب تک اپنے ان غیر شرعی اور غیر اخلاقی امور سے باز نہیں آتی اس وقت تک اسے بچے کی پرورش کا حق حاصل نہ ہوگا۔

مأخَذُ الفَتوی

کما فی الدر المختار: ( تثبت للأم ) ( إلی قولہ ) ( و لو ) ( إلی قولہ ) (بعد الفرقۃ إلا أن تکون مرتدۃ ) ( إلی قولہ ) ( أو فاجرۃ ) فجورا یضیع الولد بہ کزنا و غناء و سرقۃ و نیاحۃ ( إلی قولہ ) ( أو غیر مأمونۃ ) ذکرہ فی المجتبی بأن تخرج کل وقت و تترک الولد ضائعا ( إلی قولہ ) ( أو متزوجۃ بغیر محرم ) الصغیر ( إلی قولہ ) ( ثم ) أی بعد الأم بأن ماتت أو لم تقبل أو أسقطت حقھا أو تزوجت أجنبی ( أم الأم ) و إن علت عند عدم أھلیۃ القربی ( ثم أم الأب و إن علت ) بالشرط المذکور ( إلی قولہ ) ( و ) الحاضنۃ ( یسقط حقھا بنکاح غیر محرمۃ ) أی الصغیر ( و کذا بسکناہ عند المبغضین لہ؛ لما فی القنیۃ: لو تزوجت الأم بآخر فأمسکتہ أم الأم فی بیت الراب فلأب أخذہ ( إلی قولہ ) ( و الحاضنۃ ) أما أو غیرھا ( أحق بہ ) أی بالغلام حتی یستغنی عن النساء و قدر بسبع ( إلی قولہ ) ( و الأم و الجدۃ ) لأم أو لأب ( أحق بھا ) بالصغیرۃ ( حتی تحیض ) أی تبلغ إلخ۔ ( باب الحضانۃ، ج 3، ص 555۔566، ط: سعید )۔
و فیہ أیضاً: و إذا أسقطت الأم حقھا صارت کمیتۃ أو متزوجۃ فتنتقل للجدۃ بحر إلخ۔
و فی الشامیۃ: تحت ( قولہ و لا تقدر الحاضنۃ إلخ ) لکن قیدہ فی الظھیریۃ بأن لا یکون للصغیر ذو رحم محرم، فحینئذ تجبر الأم کی لا یضیع الولد؛ أما لو امتنعت الأم و کان لہ جدۃ رضیت بأمساکہ دفع إلیھا، لأن الحضانۃ کانت حقا للأم فصح إسقاطھا حقھا، و عزی ھذا التعلیل للفقھاء الثلاثۃ: و علؔلہ فی المحیط بأنھا لما أسقطت حقھا، بقی حق الولد، فصارت بمنزلۃ المیتۃ أو متزوجۃ فتکون الجدۃ أولی إلخ۔ ( باب الحضانۃ، ج 3، ص 559، ط: سعید )۔
و فی الھندیۃ: أحق الناس بحضانۃ الصغیر حال قیام النکاح أو بعد الفرقۃ الأم إلا أن تکون مرتدۃ أو فاجرۃ غیر مأمونۃ کذا فی الکافی ( إلی قولہ ) و کذا لو کانت سارقۃ أو مغنیۃ أو نائحۃ فلا حق لھا ھکذا فی النھر الفائق ( إلی قولہ ) و إن لم یکن لہ أم تستحق الحضانۃ بأن کانت غیر أھل للحضانۃ أو متزوجۃ بغیر محرم أو ماتت فأم الأم أولی من کل واحدۃ و إن علت فإن لم یکن للأم أم فأم الأب أولی ممن سواھا و إن علت کذا فی فتح القدیر إلخ۔ ( الباب فی الحضانۃ، ج 1، ص 541، ط: ماجدیۃ )۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
عبدالروف نواز عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 85294کی تصدیق کریں
0     8
Related Fatawa متعلقه فتاوی
  • بچے کی بیدائش کے فورا بعد شریعت کے کیا احکامات ہیں

    یونیکوڈ   اسکین   پرورش و تربیت 1
  • بچوں کی سالگرہ کرنا

    یونیکوڈ   اسکین   انگلش   پرورش و تربیت 0
  • عورت کا دنیاوی وعصری تعلیم حاصل کرنا

    یونیکوڈ   اسکین   انگلش   پرورش و تربیت 1
  • بچوں کی پرورش کا حق کس کو ہے؟ - کیا پرورش کا حق دادی اور چچا کو دیا جا سکتا ہے؟

    یونیکوڈ   پرورش و تربیت 0
  • مطلقہ عورت کا بچوں کی پرورش پر معاضہ لینا

    یونیکوڈ   پرورش و تربیت 0
  • بچیوں کی پرورش کا حق چچا اور والدہ میں سے کس کو ہوگا؟

    یونیکوڈ   پرورش و تربیت 0
  • والد کے انتقال ہوجانے کی صورت میں بچوں کے پرورش کا حق کس کو ہے؟

    یونیکوڈ   پرورش و تربیت 0
  • طلاق کی صورت میں بچوں کے پرورش کا حقدار کون ہے ؟

    یونیکوڈ   پرورش و تربیت 1
  • بچی کی پرورش کا حق

    یونیکوڈ   پرورش و تربیت 0
  • بچوں کی تربیت کے غرض سے بچوں کی پیدائش میں وقفے کا حکم

    یونیکوڈ   پرورش و تربیت 0
  • طلاق اور علیحدگی ہوجانے کے بعد بچوں کی پرورش کا حکم

    یونیکوڈ   پرورش و تربیت 0
  • چلڈرن ڈے پر اسکول والوں کا بچے کو کالا ٹیکہ لگانا

    یونیکوڈ   پرورش و تربیت 0
  • بچی کی پرورش کا حق

    یونیکوڈ   پرورش و تربیت 0
  • کیا بیوی اپنے سابقہ شوہر سے بچوں کے معاملات میں مشورہ کرسکتی ہے؟

    یونیکوڈ   پرورش و تربیت 1
  • یتیم بچیوں کی پرورش اور ان کے نان نفقہ کا حکم

    یونیکوڈ   پرورش و تربیت 0
  • میاں بیوی کی جدائی ہوجانے کے بعد بچہ کے پرورش کے متعلق شرعی ٖضابطہ

    یونیکوڈ   پرورش و تربیت 2
  • کیاقادیانی مذھب اختیارکرنے والی بیوی سے بچے لینا جائز ہے ؟

    یونیکوڈ   پرورش و تربیت 0
  • ماں کا غلطی پر ہونے کے باوجود بددعا دینا

    یونیکوڈ   پرورش و تربیت 0
  • وقوعِ طلاق کے بغیر ناراضگی کی صورت میں بچہ کی پرورش سے متعلق حکم

    یونیکوڈ   پرورش و تربیت 0
  • بچوں کی تربیت کے لئے کونسی کتابوں کا مطالعہ مفید رہےگا؟

    یونیکوڈ   پرورش و تربیت 0
  • مطلقہ کا پہلے شوہر کے بچے کی نسبت دوسرے شوہر کی طرف کرنا اور والد کے خانہ میں دوسرے شوہر کا نام لکھنا

    یونیکوڈ   پرورش و تربیت 0
  • پہلے بچے کے نو عمر ہونے کی وجہ سے اسقاط حمل کا حکم

    یونیکوڈ   پرورش و تربیت 0
  • باپ کےانتقال کے بعدبچی کی پرورش کاحق کس کوحاصل ہوگا؟

    یونیکوڈ   پرورش و تربیت 0
  • بچہ کی پرورش سے متعلق حکم

    یونیکوڈ   پرورش و تربیت 0
  • ماں کے انتقال کے بعدبچوں کی کفالت کاحقدارکون ہے؟

    یونیکوڈ   پرورش و تربیت 0
Related Topics متعلقه موضوعات