میں اس مسئلہ پر رہنمائی اور فتویٰ چاہتاہوں کہ میری اور میری بیوی کی علیحدگی ہوگئی ہے، وہ سب بچوں کو اپنےساتھ لے گئی ہیں، میرے چھ بچےہیں ،بڑا بیٹا 21سال کا اور باقی بچے، بڑی بیٹی 17 سال 9ماہ، دوسری بیٹی 15 سال 8 ماہ،دوسرا بیٹا تقریباً 14 سال ، پھر بیٹی تقریباً 10 سال اور پھر بیٹی تقریباً 8 سال کی ہے۔ ان بچوں میں سے میری کفالت میں کونسے بچے آئیں گے، ایک وکیل سے مشورہ کیا تھا ، تو اس کا کہنا ہے کہ 7 سال سے بڑے اور 18 سال سے چھوٹے بچے باپ کی تحویل میں آتے ہیں اور 18 سال سے بڑے بچے اپنا فیصلہ خود کرتے ہیں ، براہ مہربانی اس معاملہ میں میری رہنمائی فرمائیں ۔ شکریہ
واضح ہو کہ میاں بیوی کے درمیان علیحدگی کی صورت میں بچے کی عمر سات(7) سال مکمل ہونے تک اور بچی کی عمر (9) سال مکمل ہونے تک اسکی پرورش کا حق ماں کو حاصل ہوتاہے ،بشرطیکہ اس دوران وہ بچوں کے کسی غیر ذی رحم محرم سے شادی نہ کرے، یا وہ اپنے حق سے دستبردار نہ ہو جائے ، ورنہ ان بچوں کی پرورش کاحق نانی کو حاصل ہوجائیگا ،اگر نانی نہ ہو تو پھر ان بچوں کی دادی، خالہ، اور پھوپھی، کو بالترتیب حق پرورش حاصل ہوگا، البتہ مذکور مدت کے بعد باپ بچوں کو اپنی تحویل میں لینا چاہے تو لے سکتا ہے،تاہم بلوغت کے بعد بچہ / بچی کو والدین میں سے کسی ایک کے ساتھ رہنے کا اختیار حاصل ہوگا، چنانچہ وہ جس کے ساتھ رہائش اختیار کرنا چاہے تو اس کو منع نہیں کیا جائے گا ، اور ایساہی اولاد کا والدین سے الگ رہائش اختیار کرنے میں اگر کسی قسم کے فتنے میں مبتلا ہونے کا اندیشہ نہ ہو تو ایسی صورت میں بچے والدین سے علیحدہ بھی رہائش اختیار کر سکتے ہیں، لیکن اگر والدین خدمت کے محتاج ہوں تو اولاد کے ذمہ ان کی خدمت اور دیکھ بھال کی خاطر ان کے ساتھ رہنا اور ان کی خدمت کرنا بہرحال لازم اور ضروری ہوگا،لہذا صورت مسئولہ میں سائل آٹھ (8) سالہ بچی کے علاوہ بقیہ نابالغ اولاد کو اپنی تحویل میں لینےکاشرعاًحق رکھتاہے ، تاہم ماں باپ دونوں کو چاہیے کہ بچوں کے بہتر مستقبل کو مد نظر رکھتے ہوئے باہمی افہام و تفہیم سے بچوں کی نگہبانی اور پرورش کی ذمہ داری کا فیصلہ کرلیں، تاکہ بچوں کی تربیت پر کوئی منفی اثرات مرتب نہ ہوں۔
کما قال اللہ تعالیٰ فی کلامہ المجید: "وقضٰى ربك الا تعبدوا الّا إيّاه وبالوالدين إحسانا إمّا يبلغن عندك الكبر أحدهما أو كلاهما فلا تقل لهما أفّ ولاتنهرهما وقل لهما قولا كريما. واخفض لهما جناح الذل من الرحمة وقل رب ارحمهما كما ربياني صغيرا".(سورةبنى إسرائيل،آيت:23،24)
وفی الفتاویٰ الھندیۃ: أحق الناس بحضانة الصغير حال قيام النكاح أو بعد الفرقة الأم إلا أن تكون مرتدة أو فاجرة غير مأمونة كذا في الكافي. (الیٰ قولہ) وإن لم يكن له أم تستحق الحضانة بأن كانت غير أهل للحضانة أو متزوجة بغير محرم أو ماتت فأم الأم أولى من كل واحدة، وإن علت، فإن لم يكن للأم أم فأم الأب أولى ممن سواها، وإن علت كذا في فتح القدير، الخ (الباب السادس عشر في الحضانة، ج: 1، ص: 541، مط: ماجدیۃ)
وفي الدر المختار: (والحاضنة) أما أو غيرها (أحق به) أي بالغلام حتى يستغني عن النساء وقدر بسبع، وبه يفتى لأنه الغالب.. (والأم والجدة أحق بها حتى تحيض وغيرهما أحق بها حتى تشتهي) وقدر بتسع وبه يفتى (إلى قوله).. قلت: وهذا قبل البلوغ، أما بعده فيخير بين أبويه، وإن أراد الإنفراد فله ذٰلك مؤيد زاده معزيا للمنية وأفاده بقوله (بلغت الجارية مبلغ النساء،إن بكراًضمهاالأب إلى نفسه) إلا إذا دخلت في السن واجتمع لها رأي فتسكن حيث أحبت حيث لا خوف عليها (وإن ثيباً لا)يضمها (إلا إذا لم تكن مأمونة على نفسها)..(والغلام إذا عقل واستغنىٰ برأيه ليس للأب ضمه إلى نفسه)إلا إذا لم يكن مأموناً على نفسه فله ضمه لدفع فتنة أو عار..الخ(باب الحضانة، ج:3،ص:566،67،68،مط: سعيد)
وفی بدائع الصنائع فی ترتیب الشرائع: وأما التي للرجال فأما وقتها فما بعد الاستغناء في الغلام إلى وقت البلوغ وبعد الحيض في الجارية إذا كانت عند الأم أو الجدتين وإن كانا عند غيرهن فما بعد الاستغناء فيهما جميعا إلى وقت البلوغ لما ذكرنا من المعنى وإنما توقت هذا الحق إلى وقت بلوغ الصغير والصغيرة؛ لأن ولاية الرجال على الصغار والصغائر تزول بالبلوغ كولاية المال (الیٰ قولہ) والجارية إن كانت ثيبا وهي غير مأمونة على نفسها لا يخلي سبيلها ويضمها إلى نفسه وإن كانت مأمونة على نفسها؛ فلا حق له فيها ويخلي سبيلها وتترك حيث أحبت وإن كانت بكرا لا يخلي سبيلها وإن كانت مأمونة على نفسها؛ لأنها مطمع لكل طامع ولم تختبر الرجال فلا يؤمن عليها الخداع. (فصل في وقت الحضانة، ج: 4، ص: 43، مط: سعید کراچی)