السلام علیکم مفتی صاحب
میرا مسئلہ یہ ہے کہ میں نے اپنی بیوی کو پہلے ایک مرتبہ واضح لفظ "طلاق" کے ساتھ طلاق دی تھی، پھر عدت کے اندر رجوع کر لیا تھا۔
اس کے بعد غصے میں میں نے یہ الفاظ کہے:
"اگر میری اجازت کے بغیر اپنی بہن یا خالہ کے گھر گئی تو میری طرف سے فارغ"
اس وقت میری نیت طلاق کی تھی، لیکن میری بیوی اس کے بعد اپنی بہن یا خالہ کے گھر نہیں گئی۔
اب میں اسے اجازت دینا چاہتا ہوں کہ وہ اپنی بہن یا خالہ کے گھر جا سکے۔
براہِ کرم رہنمائی فرمائیں:
1۔ کیا اس صورت میں دوسری طلاق واقع ہوئی ہے یا نہیں؟
2۔ اگر میں اب اجازت دے دوں تو کیا وہ جا سکتی ہے؟
3۔ کیا اس معلق طلاق کو ختم کرنے کا کوئی طریقہ ہے؟
جزاکم اللہ خیراً
صورتِ مسئولہ میں مذکور جملہ ”اگر میری اجازت کے بغیر اپنی بہن یا خالہ کے گھر گئی تو میری طرف سے فارغ“ سے سائل کی بیوی پر ایک طلاق معلق ہوچکی ہے، لہذا سائل کی بیوی جب بھی سائل کی اجازت کے بغیر اپنی خالہ یا بہن کے گھر جائے کی تو اس پر ایک طلاقِ بائن واقع ہوجائے گی۔ لیکن سائل نے چونکہ اپنی اجازت کے ساتھ تعلیقِ طلاق کی ہے، اس لیے اب اس تعلیق کو ختم کرنے کے لیے (تاکہ طلاق واقع نہ ہو) اگر سائل اپنی بیوی کو دائمی اجازت دے دے اور یوں کہہ دے کہ 'تم جب جب بھی اپنی خالہ اور بہن کے گھر جاؤ گی تو میری طرف سے اجازت ہوگی' تو اس سے یہ تعلیق ختم ہوجائے گی، جس کے بعد سائل کی بیوی کا اپنی بہن یا خالہ کے گھر جانے سے اس پر طلاق واقع نہ ہوگی۔
وفی الھندیۃ:واذا أضافہ الی الشرط وقع عقیب الشرط اتفاقاًمثل أن یقول کامرأتہ ان دخلت الدار فأنت طالق الخ (کتاب الطلاق الباب الرابع فی الطلاق بالشرط، ج:1، ص:488، ط:ماجدیہ)
و فیہ ایضاً : و لو قال لھا اذا دخلت الدار أو کلمت فلانا أو صلیت الظھر اذا جاء رأس الشھر فانت طالق ثنتین ( الی قولہ ٰ) لان الرجوع عن التعلیق لا یصح فلا یمکنہ التدارک۔ الخ ( باب فی الاقرار بالنکاح،ج:4،ص: 209،ماجدیۃ )
و في رد المختار:(وفيها) كلها (تنحل) أي تبطل (اليمين) ببطلان التعليق (إذا وجد الشرط مرة إلا في كلما...من نكاح أو يمين (لا يبطل اليمين) فلو أبانها أو باعه ثم نكحها أو اشتراه فوجد الشرط طلقت وعتق لبقاء التعليق ببقاء محله (وتنحل) اليمين (بعد) وجود (الشرط مطلقا) لكن إن وجد في الملك طلقت وعتق، وإلا لا،»(كتاب الطلاق، باب التعليق،ص: 221، ط: دار الکتب العلمیۃ)
کما في الدر المختار: ونحو اعتدي واستبرئي رحمك، أنت واحدة، أنت حرة، اختاري أمرك بيدك سرحتك، فارقتك لا يحتمل السب والرد (الى قوله) (وفي الغضب) توقف (الأولان) إن نوى وقع وإلا لا اھ(باب الکنایات،ج:3،ص:300،ط:سعید)