جناب عالی ! گزارش ہے کہ میں کراچی میں رہائش پزیر ہوں۔ جناب میرا ایک بیٹا ہے، جس کی شادی کو 8 سال ہو گئے ہیں۔ میرے بیٹے کی شادی کورٹ میرج تھی، ان کے دو بیٹے بھی ہیں،ایک کی عمر 7 سال ہے اور ایک کی عمر 5 سال ہے۔ جناب ! جس لڑکی سے میرے بیٹے کی شادی ہوئی،وہ لڑکی شادی کے کچھ ٹائم بعد میرے بیٹے سے لڑائی جھگڑے کرنے لگی۔ جناب ! آئے دن میری بہو، بچوں کو گھر پر چھوڑ کر 6 سے 8 ماہ تک اپنی امی کے گھر جا کر رہنے لگتی تھی۔ لیکن میری بیوی نے بھی اس کو بہت سمجھایا، وہ اپنی حرکتوں سے باز نہ آئی۔ جناب! یہ لڑکی شروع سے ہی طلاق کا تقاضہ کرنے لگی اور آخر تک کرتی رہی۔ جب میرا بیٹا نہیں مانا ،تو تیزاب پینے کی دھمکیاں وغیرہ دینے لگی اور خود کو جانی نقصان پہنچانے کی کوشش کرنے لگی۔ پھر میرے بیٹے نے تنگ آکر اس کو مورخہ 2026-06-28 بروز اتوار، تین طلاق دے دی(طلاق کے الفاظ یہ تھے "میں تجھے طلاق دیتا ہوں"یہ جملہ تین بار بولا ہے)۔ لیکن اس لڑکی کے پیٹ میں میرے بیٹے کا ایک بچہ بھی ہے، جس کو چار ماہ ہو گئے ۔ میری آپ سے گزارش ہے کہ قرآن وحدیث کی روشنی میں آپ مجھے بتائیں کہ میری بہو اپنی امی کے گھر نہیں جارہی، تو یہ دونوں ایک ساتھ ایک کمرہ میں رہ سکتے ہیں۔ اس کے مزید مسئلہ مسائل آپ ہمیں بتائیں۔
صورتِ مسئولہ میں جب سائل کے بیٹےنےباہمی اختلافات اور شدید تنازعات کی بناءپر صریح الفاظ "میں تجھے طلاق دیتا ہوں" کے ساتھ اپنی بیوی کو تین طلاقیں دیدی ہیں ،تو اس سے اسکی بیوی پر تینوں طلاقیں واقع ہوکر حرمتِ مغلظہ ثابت ہوچکی ہے،اب نہ رجوع ہوسکتاہے ، اورنہ ہی حلالۂ شرعیہ کے بغیر دوبارہ باہم عقدنکاح ہوسکتا ہے، لہذا دونوں پرلازم ہےکہ فوراً ایک دوسرےسےعلیحدگی اختیار کریں اورمیاں بیوی والےتعلقات ہرگزقائم نہ کریں اور نہ ہی دونوں کمرہ میں ایک ساتھ رہیں ،بلکہ دوران عدت (وضع حمل تک)شوہر سےبالکل الگ رہے،ورنہ دونوں سخت گناہ گارہوں گے، تاہم مطلقہ عورت پر چونکہ شوہر کے گھر عدت گزارنا لازم ہے، اس لئے پردہ شرعیہ کالحاظ رکھتے ہوئےشوہر کے گھر الگ کمرہ میں وہ اپنی عدت پوری کر ے گی بشرطیکہ کسی قسم کے فتنہ کا خوف نہ ہو، البتہ عدت مکمل کرنےکے بعد(جوکہ صورت مسئولہ میں بچے کی پیدائش ہے) وہ کسی دوسری جگہ نکاح کرنےمیں بھی آزاد ہوگی۔
کما فی الفتاویٰ الھندیۃ: على المعتدة أن تعتد في المنزل الذي يضاف إليها بالسكنى حال وقوع الفرقة والموت كذا في الكافي. (الیٰ قولہ) إذا طلقها ثلاثا أو واحدة بائنة وليس له إلا بيت واحد فينبغي له أن يجعل بينه وبينها حجابا حتى لا تقع الخلوة بينه وبين الأجنبية، فإن كان فاسقا يخاف عليها منه فإنها تخرج وتسكن منزلا آخر، الخ (الباب الرابع عشر في الحداد، ج: 1، ص: 535، مط: ماجدیۃ)
و فی بدائع الصنائع : وأما عدة الحبل فهي مدة الحمل، وسبب وجوبها الفرقة أو الوفاة، والأصل فيه قوله تعالى {وأولات الأحمال أجلهن أن يضعن حملهن} [الطلاق: 4] أي: انقضاء أجلهن أن يضعن حملهن، وإذا كان انقضاء أجلهن بوضع حملهن كان أجلهن؛ لأن أجلهن مدة حملهن، وهذه العدة إنما تجب لئلا يصير الزوج بها ساقيا ماءه زرع غيره، وشرط وجوبها أن يكون الحمل من النكاح صحيحا كان أو فاسدا، الخ (فصل في عدة الحبل، ج: 3، ص: 192، مط: سعید کراچی)
وفی الھدایۃ: وإن كان الطلاق ثلاثا في الحرة أو ثنتين في الأمة لم تحل له حتى تنكح زوجا غيره نكاحا صحيحا ويدخل بها ثم يطلقها أو يموت عنها " والأصل فيه قوله تعالى: {فَإِنْ طَلَّقَهَا فَلا تَحِلُّ لَهُ مِنْ بَعْدُ حَتَّى تَنْكِحَ زَوْجاً غَيْرَهُ} [البقرة: 230]( فصل فیما تحل بہ المطلقۃ، ج:2، ص:399،مط:شرکت علمیۃ ملتان)۔