میرے شوہر نے آٹھ ماہ پہلے مجھے وائس میسج میں کہا تھا:"میں تمہیں طلاق دیتا ہوں، طلاق دیتا ہوں، طلاق دیتا ہوں۔"اب وہ کہہ رہے ہیں کہ طلاق نہیں ہوئی، اور بار بار یہی بات کہتے ہیں کہ طلاق واقع نہیں ہوئی۔براہِ کرم واضح طور پر بتائیں کہ کیا اس صورت میں طلاق ہو چکی ہے یا نہیں؟
واضح ہو کہ وائس میسج میں طلاق کے الفاظ بولنے سے بھی شرعا طلاق واقع ہوجاتی ہے ۔لہذا سائلہ کا بیان اگر واقعۃ درست ہو تو جب سائلہ کے شوہر نے صریح الفاظ میں تین دفعہ طلاق کے الفاظ کا وائس میسج کردیا ہے "کہ میں تمہیں طلاق دیتا ہوں ،طلاق دیتا ہوں ،طلاق دیتا ہوں "تو اس سے سائلہ پر تینوں طلاقیں واقع ہو کر حرمت ِمغلظہ ثابت ہوچکی ہے ، جس کے بعد رجوع نہیں ہوسکتا ، اور نہ ہی حلالۂ شرعیہ کے بغیر نکاح ہوسکتا ،چنانچہ دونوں میاں بیوی پر لازم ہے کہ فورا ایک دوسرے سے علیحدگی اختیار کریں اور میاں بیوی والا تعلق ہر گز قائم نہ کریں ورنہ دونوں سخت گناہ گار ہونگے جبکہ سائلہ عدت مکمل کرنے کے بعد کسی دوسرے جگہ نکاح کرنے میں بھی آزاد ہوگی۔
كما فى القران المجيد:«{فإن طلقها فلا تحل له من بعد حتى تنكح زوجا غيره} [البقرة: 230)
و فى ردالمحتار:(قوله وركنه لفظ مخصوص) هو ما جعل دلالة على معنى الطلاق من صريح أو كناية فخرج الفسوخ على ما مر، وأراد اللفظ ولو حكما ليدخل الكتابة المستبينة وإشارة الأخرس والإشارة إلى العدد بالأصابع في قوله أنت طالق هكذا كما سيأتي.(ج:3،ص:230)
وفی الھندیۃ: یقع طلاق کل زوج إذا کان بالغا عاقلا سواء کان حرا أو عبدا طائفا أو مکرھا کذا فی الجوھرۃ النیرۃ ( ج:1،ص:353 )