السلام علیکم ورحمۃاللہ وبرکاتہ !کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں ، ایک عورت ہے ان کا یہ دعویٰ ہے کہ میرے شوہر نے یہ الفاظ کہے کہ "تمہیں تین شرطوں پر طلاق ہے" اور شوہر اس دعوے کا انکاری ہے،اور دونوں میاں بیوی حلف اٹھانے کے لیے تیار ہیں،اور دونوں کے پاس کوئی گواہ بھی نہیں ہے،البتہ ایک شخص جو اس موقع پر موجود تھا ، اس کا یہ کہنا ہے کہ میں نے اپنے کانوں سے ایسا کچھ بھی نہیں سنا، لہذا آپ حضرات سے گزارش ہے کہ اس مسئلہ پر شرعی حکم تحریر فرمائیں۔
مفتی غیب نہیں جانتا ، وہ سوال کے مطابق جواب دینے کا پاپند ہوتا ہے ، سوال کے سچ یا جھوٹ پر مبنی ہونے کی ذمہ داری سوال کرنے والےپر عائد ہوتی ہے ،نیز جھوٹ یاغلط بیانی سے فتوی حاصل کرلینے سے کوئی حرام ،حلال نہیں ہوتا، اس تمہید کے بعد واضح ہو کہ صورتِ مسئولہ مذکور خاتون اپنے شوہر پر تین طلاقیں دینے کا دعوی کر رہی ہے ، البتہ اسکے پاس اپنے موقف پرموقع کا کوئی گواہ موجودنہیں ، لیکن وہ اپنے کانوں سے تین بار طلاق کا لفظ سننا بیان کرتی ہے ، اور اس بیان پر حلف بھی اٹھا رہی ہے ، جبکہ اس کاشوہر اس کو طلاق دینے سے انکار کر رہا ہے ، اور وہ بھی اپنی بات کی سچائی پر قسم اٹھا رہا ہے، تو قضاءً تو تین طلاقوں کا حکم نہیں لگے گا،یعنی اگر یہ معاملہ قاضی ( جج) کی عدالت میں چلا جائے اور بیوی اپنے دعوی پر گواہ نہ پیش کر سکے اور قاضی مدعی علیہ ( یعنی خاوند) کی قسم پر بیوی کے خلاف اور شوہر کے حق میں عدمِ طلاق کا فیصلہ دے کر اسے خاوند کے ساتھ بھیج دے تو اس صورت میں وہ اس شوہر کے ساتھ جانے سے اگر چہ گنہگار نہ ہو گی ، لیکن جب اسے تین طلاقیں اپنے کانوں سے سننا واقعۃً یاد ہوں تو "المراۃ کالقاضی :کے اصول کو مدنظر رکھتے ہوئے اسے چاہیئے کہ وہ اپنے آپ کو مطلقہ ثلاثہ سمجھے اور شوہر کو ہر گز اپنے اوپر قدرت نہ دے ،بلکہ اس سے طلاق بالمال یا خلع کے ذریعے علیحدگی حاصل کرلے ۔
کمافی الدرالمختار: (و یقع بھا) ای بھذہ لألفاظ وما بمعناھا من الصریح الخ
وفی الشامیۃ تحت: (قولہ وما بمعناھا من الصریح) أی مثل ما سیذکرہ من نحو: کونی طالقاً (إلی قولہ) قلت: ومنہ فی عرف زماننا تکونی طالقاً، ومنہ: خذی طلاقك فقالت أخذت فقد صحح الوقوع بہ بلا إشتراط النیۃ کما فی الفتح وکذا لا یشترط قولھا أخذت الخ۔(کتاب الطلاق،ج3، ص248، ط: سعید)
وفی الھندیۃ: رجل قال لإمرأتہ خذی طلاقك فقالت أخذت یقع الطلاق وفی العیون شرط النیۃ والاصح أنھا لیست بشرط الخ۔(الفصل الاول فی الطلاق الصریح،ج1، ص359، ط: ماجدیۃ)
وفیھا ایضاً: والمرأة كالقاضي لا يحل لها أن تمكنه إذا سمعت منه ذلك أو شهد به شاهد عدل عندها الخ (الباب الثانی فی ایقاع الطلاق ج1 ص 354 ط: ماجدیۃ)
کما فی البحر الرائق: والمرأة كالقاضي إذا سمعته أو أخبرها عدل لا يحل لها تمكينه هكذا اقتصر الشارحون وذكر في البزازية وذكر الأوزجندي أنها ترفع الأمر إلى القاضي فإن لم يكن لها بينة يحلفه فإن حلف فالإثم عليه الخ (باب الطلاق الصریح، ج 3 ص 257 ط: ماجدیۃ)
وفی رد المحتار تحت: (قوله: كالقضاء باليمين الكاذبة) محترز قول المتن بشهادة قالوا لو ادعت أن زوجها أبانها بثلاث فأنكر فحلفه القاضي فحلف، والمرأة تعلم أن الأمر كما قالت لا يسعها المقام معه، ولا أن تأخذ من ميراثه شيئا وهذا لا يشكل إذا كان ثلاثا لبطلان المحلیۃ للإنشاء قبل زوج آخر وفيما دون الثلاث مشكل؛ لأنه يقبل الإنشاء وأجيب بأنه إنما يثبت إذ قضى القاضي بالنكاح وهنا لم يقض به لاعترافهما به، وإنما ادعت الفرقة زيلعي، وفي الخلاصة ولا يحل وطؤها إجماعا بحر الخ (کتاب القضاء ج 5 ص 407 ط: سعید)