کیا فرماتے ہیں علماء کرام و مفتیان عظام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ہمارے جامعہ کے فنڈ سے مدرسہ کی ضروریات کے لیے ایک عدد گاڑی خریدی گئی ہے، جو عمومی طور پر ادارہ جاتی کاموں، مثلاً اساتذہ و طلبہ کے نقل و حمل ، سامان کی ترسیل، اور دیگر انتظامی امور کے لیے استعمال کی جاتی ہے، اب سوا ل یہ ہے کہ اگر کبھی مہتمم صاحب کو کسی ذاتی ضرورت کے لیے گاڑی کی عارضی طور پر ضرورت پیش آجائے، تو کیا ان کے لیے اس گاڑی کو ذاتی کام میں استعمال کرنا شرعاً جائز ہے؟ اگر جائز ہو تو اس کی شرائط و حدود کیا ہوں؟ نیز ہم چاہتے ہیں کہ آپ حضرات کے فتوی کی روشنی میں اس مسئلے کو باقاعدہ مدرسہ کے آئین و ضوابط میں شامل کیا جائے ، تاکہ آئندہ کے لیے واضح رہنمائی موجود ہو، براہ کرم اس مسئلہ میں ہماری رہنمائی فرمائیں۔
مذکورہ گاڑی چونکہ جامعہ کے فنڈ سے ادارہ جاتی ضروریات کے لیے خریدی گئی ہے، اس لیے وہ جامعہ کی ملكيت اور امانت ہے، لہٰذا اصولاً اسے انہی مقاصد کے لیے استعمال کیا جائے جن کے لیے وہ خریدی گئی ہے، البتہ اگر جامعہ کے مجاز اربابِ اختیار (مثلاً مجلسِ منتظمہ یا متعلقہ بااختیار کمیٹی) کی اجازت سے، ادارہ کے مفاد کو نقصان پہنچائے بغیر، کبھی کبھار مہتمم صاحب کو کسی عارضی ذاتی ضرورت کے لیے گاڑی استعمال کرنے کی ضرورت پیش آجائے،اور اس سے جامعہ کا کوئی مالی یا انتظامی نقصان نہ ہو،اور ذاتی استعمال کا اضافی ایندھن یا دیگر اخراجات کی ادائیگی کر دی جائے ،تو اس کی گنجائش ہے،لہٰذا مناسب ہے کہ جامعہ کے آئین میں یہ ضابطہ شامل کر لیا جائے کہ ادارہ کی گاڑی کا اصل مصرف ادارہ جاتی امور ہوں گے، البتہ مجاز انتظامیہ کی اجازت سے بوقتِ ضرورت محدود ذاتی استعمال کی اجازت ہوگی، اور اس سے متعلقہ اضافی اخراجات استعمال کنندہ کے ذمہ ہوں گے۔
کما فی الدر المختار: ليس للمتولي أخذ زيادة على ما قرر له الواقف أصلا
وفی رد المحتار تحت (قوله: ويجب صرف إلخ) حاصل ما ذكره المصنف أنه سئل عن قرية موقوفة يريد المتولي أن يأخذ من أهاليها(الی قولہ) لكن أفتى في الخيرية بأنه إذا كان في ريع الوقف عوائد قديمة معهودة يتناولها الناظر بسعيه له طلبها لقول الأشباه عن إجارات الظهيرية والمعروف عرفا كالمشروط شرطا فهو صريح في استحقاقه ما جرت به العادة اهـ ملخصا. قلت: ويؤيده ما في البحر من جواز أخذ الإمام فاضل الشمع في رمضان إذا جرت به العادة(کتاب الوقف، مطلب في تحرير حكم ما يأخذه المتولي من عوائد، ج: ٤، ص: ٤٥٠، مط: سعيد)
وفي البحر الرائق: وفي منية المفتي أقسام المتصرفين تصرف الأب والجد والوصي ومتولي الوقف لا يجوز إلا بمعروف أو بغبن يسير (كتاب الوكالة، فصل الوكيل بالبيع و الشراء لايعقد ، ج: ٧، ص: ١٦٨، مط: رشيدية)
وفي الدر المختار: ليس للقاضي أن يقرر وظيفة في الوقف بغير شرط الواقف، ولا يحل للمقرر الأخذ إلا النظر على الواقف بأجر مثله قنية.
وفي رد المحتار تحت (قوله: بأجر مثله) وعبر بعضهم بالعشر والصواب أن المراد من العشر أجر المثل حتى لو زاد على أجر مثله رد الزائد كما هو مقرر معلوم، ويؤيده أن صاحب الولوالجية بعد أن قال: جعل القاضي للقيم عشر غلة الوقف فهو أجر مثله، ثم رأيت في إجابة السائل، ومعنى قول القاضي للقيم عشر غلة الوقف أي التي هي أجر مثله لا ما توهمه أرباب الأغراض الفاسدة إلخ بيري على الأشباه من القضاء. قلت: وهذا فيمن لم يشرط له الواقف شيئا وأما الناظر بشرط الواقف فله ما عينه له الواقف: ولو أكثر من أجر المثل كما في البحر(كتا ب الوقف، مطلب ليس للقاضي أن يقرر وظيفة في الوقف إلا النظر، ج: ٤، ص: ٤٣٥، مط: سعيد)