میں علماء کرام سے گزارش کرتا ہوں کہ میری رہنمائی فرمائی جائے کہ ایک مہینہ پہلے کچھ گھریلو ان بن کی وجہ سے میں نے اپنی اہلیہ نوشین کو تین بار لفظ طلاق کہا الفاظ طلاق یہ تھے'' طلاق ،طلاق، طلاق '' تو میں اب بہت پریشان ہوں کہ کیا یہ طلاق واقع ہوئی کیونکہ کچھ علماء کا میں نے سنا ہے کہ چاہے تین کہا ایک مجلس میں، صرف ایک طلاق ہوتی ہے ؟ تو میری رہنمائی فرمائیں۔
صورت مسؤلہ میں جب سائل نے اپنی اہلیہ کو لڑائی کے دوران نام لیئے بغیربھی تین دفعہ " طلاق، طلاق، طلاق " کے الفاظ کہہ دیئے تب بھی اس سے اس کی بیوی پر تین طلاقیں واقع ہوکر حرمت مغلظہ ثابت ہوچکی ہے، جس کے بعدرجوع نہیں ہو سکتا اور حلالہ شرعیہ کے بغیر باہم عقد نکاح بھی نہیں ہوسکتا، اور عورت ایام عدت گزرجانے کے بعد دوسری جگہ نکاح کرنے میں بھی آزاد ہوگی ۔ جبکہ ایک مجلس میں دی جانے والی تین طلاقوں کو ایک قرار دینا صریح نصوص اور جمہور فقہائےکرام کے مؤقف کے خلاف ہے ، اس لئے یہ قول قابل عمل نہیں۔
کما فی الھندیة : متى كرر لفظ الطلاق بحرف الواو أو بغير حرف الواو يتعدد الطلاق الخ ( کتاب الطلاق، الباب الثانی، الفصل الاول فی الطلاق الصریح، ج :1 ، ص : 356 ، مط : ماجدیة )
و فی بدائع الصنائع : وأما الطلقات الثلاث فحكمها الأصلي هو زوال الملك، وزوال حل المحلية ..الی قوله سواء طلقها ثلاثا متفرقا أو جملة واحدةالخ ( کتاب الطلاق ، فصل فی حکم الطلاق البائن ، ج :3 ، ص : 187 ، مط : دار الکتب العلمیة)
وفی ردالمختار تحت قوله: ( لترکه الاضافة ) ولا یلزم کون الاضافۃ صریحة فی کلامه ، لما فی البحر لو قال طالق فقیل له من عنیت ؟ فقال امراتی طلقت امراته الخ( باب الصریح ، ج : 3 ، ص : 248 ، مط : سعید )