میری شادی میرے ہی سوتیلے ماموں سے ہوئی (2004) میں ، جب سے شادی ہوئی ہے میری سوتیلی ماں ،نند اور ساس جو بھی بولتے تھے میرے شوہر وہ ہی کرتے تھے جب سے شادی ہوئی ہے مجھے مارتے تھے ، اور اب تو بچوں کے سامنے مارتے اور گالیاں بھی دیتے ہیں ، ہمارے سات(7) بچے ہوئے تھے جن میں سے دو فوت ہوچکے، اس کے بعد جب ہمارے بچے بڑے ہوئےتو میرے بڑے بیٹے نے کہا کہ اب مجھے الگ کمرہ چاہیئے ، ہمارا ایک ہی چھوٹا سا کمرہ تھا اور کچن بھی دھوپ میں تھا ، لیکن میں نے پھر بھی برداشت کیا ، جب میرے بیٹے نے اپنے لیے الگ کمرہ دیکھ لیا تو اس نے کہا کہ میں جارہا ہوں ، الگ ہورہا ہوں، آپ لوگ یہی رہو، اس کے بعد اس کے ابو نے کہا کہ آپ اکیلے کیوں جارہے ہو ہم سب ساتھ میں جاتے ہیں، پھر ہم نے کرائے کا مکان لے لیا ، پھر میری نند نے کہا کہ آپ لوگ واپس آجاؤ، لیکن میں نے کہا نہیں، پھر اس کے ابو نے مجھے مارا جب میں نہیں مانی تو مجھے بار بار کہتے رہے کہ آپ کا اور میرا ختم ، ایک مرتبہ پچیس (25) دن تک ناراض رہیں ، میں اپنے ابو کے گھر نہیں گئی، کیونکہ وہاں میری سوتیلی ماں ہے، ایک مرتبہ رات کے تین بجے مجھے مارا اور کہا کہ آپکا اور میرا ختم، اب میرے گھر سے نکل جاؤ ، اور بار بار یہی کہتے ہیں کہ آپ کا اور میرا ختم ، اور مہمانوں کے سامنے بھی مارتے ہیں ، ااور گالی بھی دیتے ہیں، اب اس رمضان کے دوسرے عشرہ میں مجھے میری بیٹی کے سامنے ایک(1) طلاق دی تھی ، پھر تین مہینے بعد جاکر فتوی نکلوایا، اس فتوی میں یہ تھا کہ اگر تین مہینے تک رجوع نہ کروگے تو آپ دونوں کی طلاق ہوجائے گی، پھر اس کے ابو میرے پاس آئے کہا کہ چلو ہم واپس نکاح کرتے ہیں، لیکن میں نے منع کردیا ، پھر میرے ابو کو لائے ، میرے ابو نے کہا کہ نکاح کروگی ، میں نے اپنے ابو کو بھی منع کردیا ، میں نے دو تین مرتبہ منع کیا توا ب اس کے ابو کہتے ہیں کہ میں نے رجوع کیا ہے،آپ میری بیوی ہو، اب میرے بچوں کو مارتے ہیں، ابھی مجھے بولا کہ آپ خود جاکر فتوی نکال لو ، میں اس کے ساتھ نہیں رہنا چاہتی ، کیونکہ مجھے اب اس سے اپنی جان کا خطرہ ہے، الفاظ طلاق یہ تھے" کہ میں تمہیں طلا قدے رہا ہوں" ان الفاظ کے بعد دو ماہ تک ہماری کوئی بات چیت نہیں ہوئی ، جب میرا تیسرا پیریڈ شروع ہوا تب انہوں نے کا ل کی کہ آپ آجاؤ میں نے کہا نہیں اب میں آپ کے ساتھ نہیں رہنا چاہتی ہوں ، اور اس نے زبر دستی کھینچا اپنی طرف لیکن میں نے منع کیا کہ زبر دستی نہیں کرو۔
صورت مسؤلہ میں مذکور جملہ " آپ کا اور میرا ختم " کا حکم شوہر کی نیت پر موقوف ہے ،اگر اس نے مذکور الفاظ ادا کرتے وقت طلاق کی نیت کی ہو تو ایک طلاق بائن واقع ہوگی جس کے بعد دوبارہ میاں بیوی کی حیثیت سے اکھٹے ساتھ رہنے کے لیے نئے حق مہر کے تقرر کے ساتھ گواہوں کی موجودگی میں تجدید نکاح لازم ہوگا ،اور اگر شوہر کی ان الفاظ کو ادا کرتے وقت طلاق کی نیت نہ ہو تو اس سے کوئی طلاق واقع نہیں ہوئی ،وہ بدستور میاں بیوی کی حیثیت سے زندگی بسر کرسکتے ہیں ، تاہم اس کے بعد سائلہ کے شوہر نے جب سائلہ کو مذکور الفاظ" میں تمہیں طلاق دے رہاہوں " ایک مرتبہ کہے تو اس سے سائلہ پر ایک طلاق رجعی واقع ہوچکی ، جس کے بعد عدت کے اندر شوہر کو رجوع کرنے کا حق حاصل ہے ،جبکہ رجوع کے لیے ہمبستری کرنایادوبارہ نکاح کرنالازم نہیں ، بلکہ بیوی کی رضامندی کے بغیربھی زبان سے رجوع کے الفاظ ادا کرنے یا بیوی کو شہوت کے ساتھ چھولینےسے رجوع ہوجاتاہے ، لہذا سوال میں مذکور بیان کے مطابق اگر سائلہ کے شوہر نے تیسرے پریڈ ختم ہونے سے پہلے اس سے زبانی طورپررجوع کرلیاہو یاسائلہ کو اپنی طرف شہوت کے ساتھ کھینچا یا شہوت کے ساتھ چھولیاہو، تو اسے شرعاًرجوع قراردیاجائے گا ، اور سائلہ اوراس کے شوہر حسب سابق میاں بیوی کی طرح زندگی گزارسکتے ہیں ۔ لیکن اگرسائلہ کوواقعۃً شوہرکے پاس واپس جانے میں جان کاخطرہ ہواوراس حالت میں وہ اس کے ساتھ رہنے پرآمادہ نہ ہو،توخاندان کےمعزز اورذمہ دارافراد کے ذریعہ اس معاملہ کوافہام وتفہیم سے حل کرنے کی کوشش کرنی چاہیئے ۔
كما في الهندية: في المحيط لو قال بالعربية أطلق لا يكون طلاقا إلا إذا غلب استعماله للحال فيكون طلاقا،(كتاب الطلاق، الفصل السادس في الطلاق بالألفاظ الفارسية، ج: ١، ص: ٣٨٤، مط: ماجدية)
وفی الخانیۃ: ولو قال لم يبق بيني وبينك عمل يقع الطلاق إذا نوى و کذا لو قال أنا بریء من نکاحک یقع الطلاق اذا نوی،(فصل فی الکنایات والمدلولات، ج: ١، ص: ٤٦٨، مط: ماجدية)
وفي رد المحتار: وكذا المضارع إذا غلب في الحال مثل أطلقك كما في البحر. قلت: ومنه في عرف زماننا: تكوني طالقا، ومنه: خذي طلاقك فقالت أخذت، فقد صرح الوقوع به بلا اشتراط نية كما في الفتح،( كتاب الطلاق ، باب صريح الطلاق، ج: ٣، ص: ٢٤٨، مط: سعيد)
وفي الدر المختار: (هي استدامة الملك القائم) بلا عوض ما دامت (في العدة) أي عدة الدخول حقيقة إذ لا رجعة في عدة الخلوة ابن كمال، وفي البزازية: ادعى الوطء بعد الدخول وأنكرت فله الرجعة لا في عكسه.
وتصح مع إكراه وهزل ولعب وخطإ (بنحو) متعلق باستدامة (رجعتك) ورددتك ومسكتك بلا نية لأنه صريح (و) بالفعل مع الكراهة (بكل ما يوجب حرمة المصاهرة) كمس
وفي رد المحتار تحت (قوله: كمس) أي بشهوة كما في المنح، ويفيده قوله: بما يوجب حرمة المصاهرة ح. قال في البحر: ودخل الوطء، والتقبيل بشهوة على أي موضع كان، فما أو خدا، أو ذقنا، أو جبهة، أو رأسا ، والمس بلا حائل أو بحائل يجد الحرارة معه بشهوة ، والنظر إلى داخل الفرج بشهوة بأن كانت متكئة ، وخرج ما إذا كانت هذه الأفعال بغير شهوة، أو نظر إلى داخل الفرج بشهوة ولو إلى حلقة الدبر فإنه لا يكون مراجعا لكنه مكروه كما في الولوالجية. وفي القنية ويصير مراجعا بوقوع بصره على فرجها بشهوة من غير قصد المراجعة. اهـ. وفي المحيط: ويكره التقبيل واللمس بغير شهوة إذا لم يرد الرجعة. اهـ (باب الرجعة ، ج: ٣، ص: ٣٩٧-٣٩٩، مط: سعيد)