کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ تقریباً تین دن پہلے میرا اور بیوی کا فون پر جھگڑا ہوگیا تھا، تو اس دوران میں نے غصہ کی حالت میں اپنی بیوی کو یہ الفاظ "ایک طلاق ،دو طلاق،تین طلاق "بول دیے تھے،اس دوران میں نے بیوی کا نام نہیں لیا،تو اب معلوم یہ کرنا ہے کہ طلاق واقع ہوگئی ہے یا نہیں؟اور اب ہمارے لئے کیا حکم ہے؟قرآن و سنت کی روشنی میں جواب عنایت فرمائیں۔شکریہ
واضح ہوکہ طلاق واقع ہونے کیلئے بیوی کا سامنے موجود ہونا یا اس کا نام لیکر طلاق دینا شرعاً ضروری نہیں ،بلکہ اس کے بغیر بھی طلاق دینے سے شرعاً طلاق واقع ہوجاتی ہے،لہذا صورت مسئولہ میں سائل نےلڑائی جھگڑے کے دوران جب اپنی بیوى کو مذکور الفاظ " ایک طلاق،دو طلاق،تین طلاق" کہہ دیے تو اس سے سائل کی بیوی پر تینوں طلاقیں واقع ہوکر حرمتِ مغلظہ ثابت ہوچکی ہے ، اب رجوع نہیں ہو سکتا، اور حلالۂ شرعیہ کے بغیر باہم عقدِ نکاح بھی نہیں ہوسکتا ، لہذا دونوں پر لازم ہے کہ فوراً ایک دوسرے سے علیحدگی اختیار کریں اور میاں بیوی والے تعلقات ہرگز قائم نہ کریں ، ورنہ دونوں سخت گناہ گار ہوں گے ، جبکہ عورت عدت (تین ماہواریاں) گزارنے کے بعد کسی دوسری جگہ نکاح کرنے میں بھی آزاد ہے ۔
كماقال الله قال الله تعالى: {فَإِنْ طَلَّقَهَا فَلَا تَحِلُّ لَهُ مِنْ بَعْدُ حَتَّى تَنْكِحَ زَوْجًا غَيْرَهُ } [البقرة:٢٣٠]
وفي تفسير المظهرى: وقوله تعالى فَإِنْ طَلَّقَها فَلا تَحِلُّ له من بعد لان قوله تعالى الطلاق على هذا التأويل يشتمل الطلقات الثلاث أيضا وعلى كلا التأويلين يظهران جمع الطلقتين او ثلاث تطليقات بلفظ واحد أو بألفاظ مختلفة فى طهر واحد «2» حرام بدعة مؤثم خلافا للشافعى فانه يقول لا بأس به- لكنهم أجمعوا على انه من قال لامراته أنت طالق ثلاثا يقع ثلاثا بالإجماع اھ(سورة البقرة:٢٣٠،ج:١،ص:٣٣٤،ط:التراث)
و فی الہندیہ:رجل قال لامرأته أنت طالق أنت طالق أنت طالق فقال عنيت بالأولى الطلاق وبالثانية والثالثة إفهامها صدق ديانة وفي القضاء طلقت ثلاثا كذا في فتاوى قاضي خان (الفصل الأول في الطلاق الصريح،ج:١،ص:٣٥٦،مط:ماجديه)
وفيها ايضاََ: وإذا قال لامرأته أنت طالق وطالق وطالق ولم يعلقه بالشرط إن كانت مدخولة طلقت ثلاثا وإن كانت غير مدخولة طلقت واحدة وكذا إذا قال أنت طالق فطالق فطالق أو ثم طالق ثم طالق أو طالق طالق كذا في السراج الوهاج اھ(الفصل الأول في الطلاق الصريح،ج:١،ص:٣٥٦،مط:ماجديه)
وفيها ايضاً : إذا كان الطلاق بائنا دون الثلاث فله أن يتزوجها في العدة وبعد انقضائها وإن كان الطلاق ثلاثا في الحرة وثنتين في الأمة لم تحل له حتى تنكح زوجا غيره نكاحا صحيحا ويدخل بها ثم يطلقها أو يموت عنها كذا في الهداية ولا فرق في ذلك بين كون المطلقة مدخولا بها أو غير مدخول بها كذا في فتح القدير اھ(فصل فيما تحل به المطلقة وما يتصل به،ج:١،ص:٤٧٣،ط:ماجدية)