السلام عليکم!ميرا مسئلہ يہ ہے کہ ميں نے اپريل 2021 ميں اپنی بيوی کو پہلی طلاق دی۔ اس دن ميں نے نفلی روزہ رکھا تھا، ميں تقريباً صبح 9 بجے اٹھا اور موبائل ديکھا تو گھر سے کال آئی ہوئی تھی۔ ميں نے واپس فون کيا تو کسی بات پر ہم دونوں ميں فون پر لڑائی ہو گئی۔ مجھے شديد غصہ آيا اور ميں نے غير ارادی طور پر ايک طلاق دے دی۔ اس وقت ميں کراچی سرکاری کام سے آيا ہوا تھا، ميں نے فوراً چھٹی لی اور اسی رات رجوع کر ليا اور کسی کو اس بات کی خبر نہ ہونے دی۔دوسری مرتبہ جنوری 2024 کو طلاق دی۔ ہوا یوں کہ ميں نے گھر فون کيا اور کسی بات پر ہم دونوں ميں لڑائی ہو گئی۔ مجھے بہت غصہ آيا اور ميں نے غير ارادی طور پر اسے ايک اور طلاق دے دی۔ اس وقت ميری تيسری بيٹی 10 ماہ کی تھی اور ماں کا دودھ پی رہی تھی۔ اگلے دن ميں چھٹی پر گھر آ گيا اور رجوع کر ليا، اور اس بار بھی کسی کو کچھ نہيں بتايا۔اور تيسری طلاق 19 مئی 2026 رات 9:00 بجے دی۔ ميں گھر ميں تھا، دن کو ہم نے مباشرت کی تھی اور خوش تھے، ليکن رات کو کسی مسئلے پر بحث ہوئی، مجھے غصہ آيا اور ميں نے تيسری طلاق دے دی۔ميری تين بيٹياں ہيں؛ بڑی 8 سال، منجھلی 6 سال، اور چھوٹی 3 سال کی ہے۔ ميں اور ميری بيوی ساتھ رہنا چاہتے ہيں۔ آپ سے التجا ہے کہ کوئی شرعی راستہ بتا ديجيے، ہم دونوں بہت پريشان ہيں۔ اللہ جزائے خير عطا فرمائے۔
نوٹ:پہلی مرتبہ ان الفاظ سے طلاق دی: "کہ ميں آپ کو طلاق دیتا ہوں"۔دوسری مرتبہ بھی یہی الفاظ بولے تھے: "کہ ميں آپ کو طلاق دیتا ہوں۔اور اب تيسری مرتبہ ان الفاظ سے طلاق دی: "کہ ميں تمہيں طلاق ديتا ہوں"۔
واضح ہو کہ غصہ کی حالت میں بھی طلاق دینے سے شرعاً طلاق واقع ہوجاتی ہے ، لہذا صورت مسئولہ میں جب سائل نے اپنی بیوی کو غصے کی حالت میں صریح الفاظ میں یکے بعد دیگرے " میں تمہیں یا آپ کو طلاق دیتا ہوں " کے ذریعہ تین د فعہ مختلف مواقع پر طلاق دیدی ہے اور پہلی دو طلاقوں میں بر وقت رجوع بھی کرلیا تھا تواس کی بیوی پر مجموعی طور پر تین طلاقیں واقع ہوکر حرمت مغلظہ ثابت ہوچکی ہے ، لہذا اب رجوع نہیں ہوسکتا ،اور حلالۂ شرعیہ کے بغیر باہم عقد ِنکاح بھی نہیں ہو سکتا، جبکہ عورت ایام ِعدت گزرنے کے بعد دوسری جگہ نکاح کرنے میں بھی آزاد ہوگی۔
اور حلالۂ شرعیہ یہ ہے کہ عورت اپنے شوہر سے علیحد گی اور عدت ِطلاق گزارنے کے بعد بغیر کسی شرط کے کسی دوسرے مسلمان شخص سے نکاح کرے اور حقوق زوجیت ادا کرے، ایسا کرنے سے وہ دوسرے شخص کی بیوی بن جائے گی ، اب اگر وہ دوسرا شخص بھی اس سے ایک مرتبہ ہمبستری (جو کہ حلالۂ شرعیہ کے تحقق کے لئے ضروری ہے) کے فوراً بعد یا ازدواجی زندگی کے کچھ عرصہ بعد طلاق دیدے یا بیوی سے پہلے شوہر کا انتقال ہو جائے ، بہر صورت اس کی عدت گزرنے کے بعد اگر وہ پہلے شوہر کے نکاح میں آنا چا ہے اور پہلا شوہر بھی اس کو رکھنے پر رضامند ہو تو نئے مہر کے تقرر کے ساتھ گواہوں کی موجودگی میں دوبارہ عقد نکاح کر کے باہم میاں بیوی کی حیثیت سے زندگی بسر کر سکتے ہیں، تاہم حلالہ اس شرط کے ساتھ کرنا کہ زوج ثانی نکاح کے بعد طلاق دے تاکہ زوج اول کے لئے عورت دوبارہ حلال ہو جائے ،مکروہِ تحریمی ہے اور احادیثِ مبارکہ میں ایسے عمل کرنے والوں کو ملعون قرار دیا گیا ہے البتہ بغیر شرط کے حلالۂ بلا شبہ جائز اور درست ہے۔
كما في الهندية: وإن كان الطلاق ثلاثا في الحرة وثنتين في الأمة لم تحل له حتى تنكح زوجا غيره نكاحا صحيحا ويدخل بها ثم يطلقها أو يموت عنها كذا في الهداية ولا فرق في ذلك بين كون المطلقة مدخولا بها أو غير مدخول بها كذا في فتح القدير ۔اھ (كتاب الطلاق ،فصل فيما تحل به المطلقة وما يتصل به، ج: ١، ص: ٤٧٣، مط: ماجدية )
وفي الدر المختار: (وينكح مبانته بما دون الثلاث في العدة وبعدها بالإجماع) ومنع غيره فيها لاشتباه النسب (لا) ينكح (مطلقة) من نكاح صحيح نافذ (بها) أي بالثلاث (لو حرة وثنتين لو أمة) حتى يطأها غيره ولو) الغير (مراهقا) يجامع مثله۔ اھ(باب الرجعة، ج: ٣، ص: ٤١٠، مط: سعيد)
و في تحفة الفقهاء:وههنا حكمان أحدهما أن وقوع الطلاق بهذه الألفاظ يفتقر إلى نية الطلاق أم لا والثاني إذا قال المتكلم ما عنيت بهذا اللفظ الطلاق هل يصدق أم لا فنقول أما بيان الحكم الأول إذا ذكر لفظا يصلح للطلاق في غير حال مذاكرة الطلاق وحال الغضب كيفما كان فإذا نوى به الطلاق يقع وإن لم يكن له نية لا يقع لأنه كما يصلح للفرقة لأمر آخر فإن قوله بائن يحتمل بينونة الطلاق ويحتمل البينونة عن الخير أو عن الشر۔اھ(کتاب الطلاق،ج:2،ص:181،ط:دار الکتب العلمیہ)