عرض خدمت یہ ہے کہ میری شادی کو تقریباً 26 سال ہوگئے ہیں ،ایک دن بچوں کے ساتھ جھگڑا ہوگیا ،اس دوران میری بیوی درمیان میں آگئی ،تو میں نے شدید غصے کی حالت میں اپنی بیوی کو بولا کہ " ایک ،دو ،تین تم مجھ پر طلاق ہو " یہ الفاظ میرے منہ سے نکل گئے ، پھر میں چار ماہ کے لئے تبلیغ میں چلا گیا،اب چار ماہ مکمل کرکے گھر واپس آگیا ہوں ، لہذا آپ صاحبان سے گزارش ہے کہ اس مسئلہ میں تین طلاق ہوا ہے یا ایک طلاق ہوا ہے ؟ ہمیں آگے زندگی گزارنے کا آسان حل بتائیں ۔
وا ضح ہوکہ ایک، دو، تین، عدد گنتی کے لئے و ضع ہیں ،نہ کہ طلاق کے لئے،اس لئے اگر کوئی شخص فقط یہی گنتی کے عدد استعمال کرے ،تو اس سے کوئی طلاق واقع نہیں ہوگی ،لیکن اگر ان اعدادکے ساتھ لفظِ طلاق بھی ذکر کر دیا جائے اور عرف میں بھی اس عدد سے طلاق مراد لی جاتی ہو تو اس سے مطلوبہ عدد کے بقدر طلاق واقع ہوجائیگی ۔ لہذا اگر سائل کے ہاں بھی یہی عرف ہو تو اس سے اس کی بیوی پر تینوں طلاقیں واقع ہو کر حرمتِ مغلظہ ثابت ہو چکی ہے،جس کے بعد رجوع نہیں ہوسکتا،اور حلالۂ شرعیہ کے بغیر دوبارہ باہم عقدِ نکاح بھی نہیں ہو سکتا،جبکہ عورت ایامِ عدت کے بعد دوسری جگہ نکاح کرنے میں بھی آزاد ہوگی ۔
اور حلالۂ شرعیہ یہ ہے کہ عورت اپنے شوہر سے علیحدگی اور عدتِ طلاق گزارنے کے بعد بغیر کسی شرط کے کسی دوسرے مسلمان شخص سے نکاح کرے ، ، چنانچہ اب اگر وہ دوسرا شخص بھی اس سے ایک مرتبہ ہمبستری (جو کہ حلالۂ شرعیہ کے لئے ضروری ہے) کے فوراً بعد یا ازدواجی زندگی کے کچھ عرصے بعد طلاق دیدے ، یا بیوی سے پہلے شوہر کا انتقال ہو جائے ، بہر صورت اس کی عدت گزارنے کے بعد اگر وہ پہلے شوہر کے نکاح میں آنا چاہے ، اور پہلا شوہر بھی اس کو رکھنے پر رضامند ہو تو نئے مہر کے تقرر کے ساتھ گواہوں کی موجودگی میں دوبارہ عقدِ نکاح کر کے باہم میاں بیوی کی حیثیت سے زندگی بسر کر سکتے ہیں، تاہم حلالہ اس شرط کے ساتھ کرنا کہ زوجِ ثانی نکاح کے بعد طلاق دے تاکہ زوجِ اول کے لئے عورت دوبارہ حلال ہو جائے ،مکروہِ تحریمی ہے ، اور احادیثِ مبارکہ میں ایسے عمل کرنے والوں کو ملعون قرار دیا گیا ہے ، البتہ بغیر شرط ایسا کرنا بلاشبہ جائز اور درست ہے۔
کما فی الہندیہ : و إن كان الطلاق ثلاثا في الحرة و ثنتين في الأمة لم تحل له حتى تنكح زوجا غيره نکاحا صحيحا و يدخل بها ثم يطلقها أو يموت عنها، كذا في الهداية الخ(473/1 فصل فيما تحل به المطلقة وما يتصل به کتاب الطلاق ط ماجدیہ)۔
و فی در المختار:( و الطلاق يقع بعدد قرن به لا به) نفسه عن ذكر العدد، و عند عدمه الوقوع بالصيغة.اھ(3/287 باب طلاق غير المدخول بها کتاب الطلاق ط سعید)۔
و فی رد المختار : تحت (قوله وإن نوى خلافا)و علم مما ذكرنا أنه لو قرنه بالعدد ابتداء فقال: أنت طالق ثنتين، أو قال ثلاثا يقع لما سيأتي في الباب الآتي أنه متى قرن بالعدد كان الوقوع به اھ(3/250 باب طلاق غير المدخول بها کتاب الطلاق ط سعید)۔
فتاوی محمودیہ میں ہے : لفظ"ایک،دو،تین،" اصالۃً طلاق کے لئے موضوع نہیں بلکہ گنتی کے لئے موضوع ہے جس سے طلاق کی گنتی بھی مراد لی جاتی ہے اور غیر طلاق کی بھی اور عامۃً تو اس کا معدود بھی ذکر کیا جاتا ہے اور کبھی کبھی قرینہ مقام کے لحاظ سے صرف ذکر عدد پر کفایت کی جاتی ہے معدود کو مخاطب بغیر ذکر کئے سمجھ جاتا ہے ۔۔۔۔۔۔ پس اگر زید نے اس لفظ ایک ،دو،تین سے یہ مراد لیا ہے کہ میں نے بیوی کو ایک دو تین طلاق دیدی تو طلاق مغلظہ ہوگئی الخ ((ج 12 ص: 463 ناشر: ادارہ الفاروق کراچی)