میں نے پہلی شادی 2009 میں کی تھی ،جس سے میری کوئی اولاد نہیں ہے ،اب میں نے دوسری شادی کی ہے ، ہمارے کچھ دن خوشی سے گزر بسر ہوئے ،پھر ہم دونوں میں لڑائی جھگڑے شروع ہوگئے بات یہاں تک پہنچ گئی کہ مجھے دوسری بیوی کو طلاق دینی پڑگئی ، جیسے کسی نے مجھ پر جادو کیا ہو ، مسئلہ یہ ہے کہ طلاق دینے کے بعد پتہ چلا کہ میری بیوی امید سے ہے ، کیا اس صورت میں ہماری طلاق ہوگئی ہے ،ہم دونوں ایک دوسرے کے ساتھ رہنا چاہتے ہیں ۔
(1) میں نے دوسری بیوی کو طلاق دی جبکہ وہ حاملہ ہے تو کیا ہماری طلاق ہوگئی ؟ (2) میں حلالہ کروانا چاہتا ہوں تو اس صورت میں میری بیوی کو اپنی عدت پوری کرنی ہوگی ؟
نوٹ : تین طلاق پر مشتمل طلاق نامہ بنواکر دیا ہے جس میں الفاظ طلاق تین بار یہ تھے " کہ میں تجھے طلاق دیتا ہوں " ۔
واضح ہوکہ حمل کی حالت میں بھی طلاق دینے سے شرعاً طلاق واقع ہوجاتی ہے ،لہذا صورت مسئولہ میں اگر سائل نے اپنی بیوی کو تین طلاق پر مشتمل طلاق نامہ بنواکر دیا ہو اگرچہ وہ حمل کی حالت میں ہو تب بھی سائل کی بیوی پر طلاق نامہ میں درج تینوں طلاقیں واقع ہوکر حرمت مغلظہ ثابت ہوچکی ہے اب رجوع نہیں ہوسکتا اور نہ ہی حلالہ شرعیہ کے بغیر دوبارہ باہم عقد نکاح ہوسکتا ہے جبکہ عورت وضع حمل (بچہ کی پیدائش ) کے بعد کسی دوسری جگہ نکاح کرنے میں بھی آزاد ہے ۔
اور حلالہ شرعیہ یہ ہے کہ عورت بچہ کی پیدائش کے بعد بغیر کسی شرط کے کسی دوسرےمسلمان سے اپنا عقد نکاح کرے ، چنانچہ اگر وہ دوسراشخص بھی اسے ایک مرتبہ ہمبستری ( جو کہ حلالہ شرعیہ کے تحقق کے لئے ضروری ہے ) کے فوراً بعد یا ازدواجی زندگی کے کچھ عرصہ بعد طلاق دیدے یا طلاق تو نہ دے ، مگر شوہر کا پہلے انتقال ہو جائے ، بہر صورت اس کی عدت گزارنے کے بعد اگر وہ پہلے شوہر کے عقد نکاح میں آنا چاہے اور پہلا شوہر بھی اسے رکھنے پر رضا مند ہو تو نئے مہر کے تقرر کے ساتھ گواہوں کی موجودگی میں دوبارہ عقد نکاح کرکے باہم میاں بیوی کی حیثیت سے زندگی بسر کر سکتے ہیں ، تاہم حلالہ اس شرط کے ساتھ کرنا کہ زوج ثانی ہمبستری کے بعد بیوی کو طلاق دیگا ، تاکہ وہ زوج اول کے لئے دوبارہ حلال ہوجائے ، مکروہ تحریمی ہے اور اس پر احادیثِ مبارکہ میں وعیدیں وارد ہوئی ہیں، لہذا اس سے احتراز لازم ہے ، البتہ بلا شرط ایسا کرنا بلا شبہ جائز اور درست ہے۔
کمافی الدرالمختار: (وحل طلاقهن) أي الآيسة والصغيرة والحامل (عقب وطء) لأن الكراهة فيمن تحيض لتوهم الحبل وهو مفقود هنا (ج3 ص:232 باب رکن الطلاق ط: ایج ایم سعید)
وفی الفتاوی الھندیۃ: "وعدة الحامل أن تضع حملها كذا في الكافي. سواء كانت حاملا وقت وجوب العدة أو حبلت بعد الوجوب كذا في فتاوى قاضي خان." ( كتاب الطلاق ، الباب الثالث عشر في العدة ، ج:1 ، ص:528 ، ط:دارالفكر )
وفیہ ایضاً: "و إن كان الطلاق ثلاثًا في الحرة و ثنتين في الأمة لم تحل له حتى تنكح زوجًا غيره نكاحًا صحيحًا و يدخل بها ثم يطلقها أو يموت عنها، كذا في الهداية."(کتاب الطلاق، باب فیما تحلّ به المطلقة: 1/473،ط:دار الفکر)