کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ میں (شوہر ) نے لڑائی جھگڑے کے دوران اپنی بیوی کو تین بار مذکور الفاظ " طلاق ،طلاق ،طلاق " بول دیئے ہیں ،جبکہ میری بیوی حاملہ ہے ، کیا اس صورت میں طلاق واقع ہوجاتی ہے یا نہیں ؟
واضح ہوکہ حمل کی حالت میں بھی طلاق دینے سے شرعاً طلاق واقع ہوجاتی ہے ،لہذا صورت مسئولہ میں جب سائل نے دوران لڑائی جھگڑے اپنی بیوی کو مذکور الفاظ " " طلاق ،طلاق ،طلاق " کہہ دیئے تو اس سے سائل کی بیوی پر تین طلاقیں واقع ہوکر حرمت مغلظہ ثابت ہوچکی ہے اب رجوع نہیں ہوسکتا اور نہ ہی حلالہ شرعیہ کے بغیر دوبارہ باہم عقد نکاح ہوسکتا ہے جبکہ عورت وضع حمل (بچہ کی پیدائش ) کے بعد کسی دوسری جگہ نکاح کرنے میں بھی آزاد ہے ۔
کمافی الدرالمختار: (وحل طلاقهن) أي الآيسة والصغيرة والحامل (عقب وطء) لأن الكراهة فيمن تحيض لتوهم الحبل وهو مفقود هنا (ج3 ص:232 باب رکن الطلاق ط: ایج ایم سعید)
وفی الفتاوی الھندیۃ: "وعدة الحامل أن تضع حملها كذا في الكافي. سواء كانت حاملا وقت وجوب العدة أو حبلت بعد الوجوب كذا في فتاوى قاضي خان." ( كتاب الطلاق ، الباب الثالث عشر في العدة ، ج:1 ، ص:528 ، ط:دارالفكر )
وفیہ ایضاً: "و إن كان الطلاق ثلاثًا في الحرة و ثنتين في الأمة لم تحل له حتى تنكح زوجًا غيره نكاحًا صحيحًا و يدخل بها ثم يطلقها أو يموت عنها، كذا في الهداية."(کتاب الطلاق، باب فیما تحلّ به المطلقة: 1/473،ط:دار الفکر)