میرے اور میرے شوہر کے مالی حالات بدلنے ک لیے ہم دونوں گیارہ سال سے محنت کر رہے ہیں تین بچوں کے ساتھ ار زندگی کی بنیادی ضروریات پوری نہ ہونے کی وجہ اکثر نوبت تو تو میں میں بھی ہو جاتی ہے ھم کافی عرصے سے کراے کے گھر میں ھیں۔ اب میں چاہتی ہوں گورنمنٹ اسکیم آشیانہ کے تحت لون لے کے گھر بنالوں۔ لیکن وہ ایک کروڑ میں سے دس لاکھ خود لیں گیں اور باقی کی رقم ہمیں دیںگیں۔ ہم اسے آہستہ آہستہ ادا کردیںگیں لیکن کیا یہ دس جو وہ پہلے ہی اپنے پاس رکھیں گیں وہ سود ہے کیونکہ میں گورنمنٹ امپلای ہوں اور مجھے سخت ضرورت ہے بچوں کے سر پہ چھت ہو۔ دوسرا میرے مرنے کے بعد اسکی کوئی ادایگی نہیں میرے بچوں یا شوہر سے اگر انتقال ہوگیا تو قرضہ معاف ہوگا۔ ایسا قرضہ مجھے کوئی اور نہیں دے سکتا لیکن میں سود سے ڈر رہی ہوں لیکن اگر وہ سروس چارجز ہیں تو آپ مجھے بتا دیں۔ آپکا بہت شکریہ ۔میں مالک مکان کے رویوں سے انکا مینٹیننس نہ کروانا اور جب چا ہے خالی کروا دینے سے پریشان ہوں۔ یہ اک بزنس بن چکا ہے ۔ جس میں کسی ضرورت مند کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔بجلی کے بل میں لوازمات اور ریٹس کے حساب سے الگ کھال اتاری جارہی ہے۔
سوال میں مذکورہ گورنمنٹ اسکیم "میرا گھر میرا آشیانہ" کی سہولت اگر کسی سودی مالیاتی ادارے سے حاصل کی جائےتو یہ شرعاً جائز نہیں،کیونکہ سودی ادارے اس کےلئے قرض فراہم کرتے ہیں،اور قرض پر اضافی رقم لینا سود اور حرام ہے، البتہ مذکورہ اسکیم کی سہولت غیر سودی مالیاتی ادارے جو مستند اور قابلِ اعتماد علماء کرام کے زیر نگرانی اپنے امور سر انجام دیتے ہوں اور شرعی طریقۂ تمویل مثلاً شرکتِ متناقصہ وغیرہ کے تحت یہ سہولت فراہم کرتے ہوں،تو ایسے غیر سودی اداروں سے مذکورہ گورنمنٹ اسکیم کی سہولت شرعاً حاصل کی جاسکتی ہے۔
قرض کی مدت پوری ہونے پر, قرضخواہ کا مقروض کے کاروبار میں, خود کو شریک سمجھ کر نفع کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ قرض 0