السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ ، مفتی صاحب !آپ سے ایک مسئلہ پوچھنا ہے، اس کی رہنمائی فرمائیں ، ایک شخص نے اپنی بیوی کو یہ میسج کیا کہ میں محمد آصف اپنی بیوی رمشا کو اپنے پورے ہوش و حواس میں طلاق دیتا ہوں، طلاق دیتا ہوں، طلاق دیتا ہوں، یہ تین مرتبہ طلاق کا لفظ کہا ، کیا یہ طلاق ہوئی ہے اور کہا بھی میسج پہ ہے اور وہ خود مانتا بھی ہے کہ میں نے غصے میں آ کر یہ میسج کر دیا اور اب آپ رہنمائی فرمائیں کہ یہ طلاق ہوگئی ہے یا نہیں؟ وہ دوبارہ اپنا گھر بسانا چاہتے ہیں، اب ان کا نکاح باقی رہ سکتاہے یا نہیں؟ رہنمائی فرمائیں۔
واضح ہو کہ موبائل پرمیسج کے ذریعہ طلاق دینے سے بھی شرعاً طلاق واقع ہوجاتی ہے، لہذا صورت مسئولہ میں مسمیٰ محمد آصف نے اگر واقعۃً اپنی بیوی رمشاکو میسج میں مذکور جملہ " میں محمد آصف اپنی بیوی رمشا کو اپنے پورے ہوش و حواس میں طلاق دیتا ہوں ، طلاق دیتا ہوں ، طلاق دیتا ہوں" بھیجا ہو تو اس سے مسماۃ رمشا پر تین طلا قیں واقع ہوکر حرمتِ مغلظہ ثابت ہوچکی ہے ، اب رجوع نہیں ہوسکتا، اور نہ ہی حلالۂ شرعیہ کے بغیر دوبارہ نکاح بھی نہیں ہوسکتا، لہذا دونوں پر لازم ہے کہ ایک دوسرے سے علیحدہ رہیں اور میاں بیوی والے تعلقات قائم نہ کریں ، ورنہ دونوں سخت گناہ گار ہوں گے ، جبکہ عورت ایامِ عدت گزرنے کے بعد اپنی مرضی سے دوسری جگہ نکاح کرنے میں بھی آزاد ہے ۔
جبکہ حلالۂ شرعیہ یہ ہےکہ عورت ایامِ عدت گزارنے کے بعد بغیر کسی شرط کے کسی دوسرےمسلمان سے اپنا عقد نکاح کرے ، چنانچہ اگر وہ دوسراشخص بھی اسے ایک مرتبہ ہمبستری ( جو کہ حلالۂ شرعیہ کے تحقق کے لئے ضروری ہے ) کے فوراً بعد یا ازدواجی زندگی کے کچھ عرصہ بعد طلاق دیدے یا طلاق تو نہ دے ، مگر شوہر کا پہلے انتقال ہو جائے ، بہر صورت اس کی عدت گزارنے کے بعد اگر وہ پہلے شوہر کے عقد نکاح میں آنا چاہے اور پہلا شوہر بھی اسے رکھنے پر رضا مند ہو تو نئے مہر کے تقرر کے ساتھ گواہوں کی موجودگی میں دوبارہ عقدِ نکاح کرکے باہم میاں بیوی کی حیثیت سے زندگی بسر کر سکتے ہیں ، تاہم حلالہ اس شرط کے ساتھ کرنا کہ زوجِ ثانی ہمبستری کے بعد بیوی کو طلاق دیگا ، تاکہ وہ زوجِ اول کے لئے دوبارہ حلال ہوجائے ، مکروہِ تحریمی ہے اور اس پر احادیثِ مبارکہ میں وعیدیں وارد ہوئی ہیں، لہذا اس سے احتراز لازم ہے ، البتہ بلا شرط ایسا کرنا بلا شبہ جائز اور درست ہے۔
کما فی احکام القرآن للجصاص : قال أبو بكر: قوله تعالى : ( الطلاق مرتان فإمساك بمعروف أو تسريح بإحسان ) الآية ، يدل على وقوع الثلاث معامع كونه منهياعنها،اھ(ج: ١ ، ص : ٣٨٦ )
وفیہ ایضاً : فالكتاب والسنة وإجماع السلف توجب إيقاع الثلاث معا و إن كانت،معصية، اھ (ج:١، ص: ٣٨٧ )
و فی الفتاوی الھندیۃ : و إذا قال لامرأتہ أنت طالق و طالق و طالق و لم یعلقہ بالشرط إن کانت مدخولۃ طلقت ثلاثاً اھ (ج:١،ص:٣٥٥،مط: ماجدیۃ)
وفي الدر المختار: كتب الطلاق، وإن مستبينا على نحو لوح وقع إن نوى، وقيل مطلقا، ولو على نحو الماء فلا مطلقا. ولو كتب على وجه الرسالة والخطاب، كأن يكتب يا فلانة: إذا أتاك كتابي هذا فأنت طالق طلقت بوصول الكتاب جوهرة.
وفي رد المحتار تحت (قوله كتب الطلاق إلخ) قال في الهندية: الكتابة على نوعين: مرسومة وغير مرسومة، ونعني بالمرسومة أن يكون مصدرا ومعنونا مثل ما يكتب إلى الغائب. وغير المرسومة أن لا يكون مصدرا ومعنونا، وهو على وجهين: مستبينة وغير مستبينة، فالمستبينة ما يكتب على الصحيفة والحائط والأرض على وجه يمكن فهمه وقراءته.( الى قوله) وإن كانت مرسومة يقع الطلاق نوى أو لم ينو ثم المرسومة لا تخلو إما أن أرسل الطلاق بأن كتب: أما بعد فأنت طالق، فكما كتب هذا يقع الطلاق وتلزمها العدة من وقت الكتابة.(كتاب الطلاق، مطلب في الطلا ق بالكتابة، ج: ٣ ، ص: ٢٤٦، مط: سعيد)
وفی الفقه الاسلامی وأدلته: أما الكتابة المستبينة فهي نوعان: كتابة مرسومة: وهي التي تكتب مصدَّرة ومعنونة باسم الزوجة وتوجه إليها كالرسائل المعهودة، كأن يكتب الرجل إلى زوجته قائلاً: إلى زوجتي فلانة، أما بعد فأنت طالق، وحكمها: حكم الصريح إذا كان اللفظ صريحاً، فيقع الطلاق ولو من غير نية اھ(کتاب الطلاق ، الطلاق بالکتابۃ الی الغائب، ج: ٩، ص: ٦٩٠٢، مط: رشيدية)