گزارش یہ ہے کہ میں زاہدہ ولد کالا خان 11.08.23 کو میری شادی شیراز ولد شیر بہادر سے ہوئی، مجھے حق مہر میں ایک تولہ سونا، ایک کمرے کا مکان دیا گیا، گھر میں ماں بیٹے کا اخراجات کی وجہ سے جھگڑا ہوا، اور مجھے میرے شوہر شیراز نے تین طلاقیں دے دیں، مؤرخہ 07.04.2026 کو یہ مکان شاہ لطیف ٹاؤن، یوسی محمد گوٹھ سیکٹر 22/A میں آر سی سی ،ٹائل اور ماربل پر بنا ہوا ہے، جس میں دو کمرے اور ایک بیٹھک گراؤنڈ میں بنا ہواہے اس میں سے مجھے ایک کمرہ دیا گیا، میری شادی کا سامان اسی میں موجود ہے، تین کمروں کی ویلیو مالیت 95 لاکھ روپے ہے، میرے حق میں ایک کمرہ لکھا ہوا ہے، آپ مجھے بتائیں کے اس میں میرا کتنا حصہ بنتا ہے؟
صورت مسئولہ میں اگر بطور حق مہر ایک تولہ سونے کے ساتھ واقعۃ تعیین اور تخصیص کے ساتھ مذکور مکان میں ایک کمرہ بطور مہر سائلہ کیلئے طے کیا گیا تھا، اور پھر عملا وہ ایک کمرہ سائلہ کو دیا گیا تھا، تو شرعا ایک تولہ سونا اور مذکور کمرہ سائلہ کا حق ہے، چنانچہ اب اگر سائلہ مذکور کمرے کے عوض قیمت وصول کرنا چاہے، تو موجودہ مارکیٹ ویلیو کے حساب سے مذکور کمرے کی جو قیمت بنتی ہے، وہ سائلہ کاحق ہے، جس کی ادائیگی سسرال والوں پر لازم ہے۔
جبکہ مذکور کمرے کی قیمت کا تناسب معلوم کرنے کے لئے برادری کے بڑوں کو بٹھایا جائے، تاکہ وہ پراپرٹی ڈیلران سے رابطہ کرکے کمرے کی قیمت کا تناسب معلوم کریں، اور سائلہ کو اس کے حق کی ادائیگی کردیں۔
کما فی الفقہ الاسلامی و ادلتہ: يصح كون المهر معجلًا أو مؤجلًا كله أو بعضه إلى أجل قريب أو بعيد أو أقرب الأجلين: الطلاق أو الوفاة، عملًا بالعرف والعادة في كل البلدان الإسلامية، (ج 9، ص 6787، ط: دار الفکر)۔
وفي الهندية : والمهر يتأكد بأحد معان ثلاثة الدخول والخلوة الصحيحة وموت أحد الزوجين سواء كان مسمىً أو مهر المثل حتى لا يسقط منه شيئ بعد ذلك الا بالابراء من صاحب الحق كذا في البدائع الخ (ج 1 ص 33 ط: ما جدية)۔
وفی بحرالرائق: "فالحاصل أن الاعتبار ليوم العقد في حق التسمية وليوم القبض في حق دخوله في ضمانها." (باب المھر، ج:3، ص:153، ط:دار الکتاب الإسلامي)
و فی الھندیہ: "المهر يتأكد بأحد معان ثلاثة: الدخول، والخلوة الصحيحة، وموت أحد الزوجين سواء كان مسمى أو مهر المثل حتى لا يسقط منه شيء بعد ذلك إلا بالإبراءمن صاحب الحق، كذا في البدائع." (كتاب النكاح، الباب السابع في المهر، الفصل الثاني فيمايتاكد به المهر، ج: 1، ص: 304، ط: دارالفکر)