السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!
کیافرماتےہیں مفتیان کرام مندرجہ ذیل مسئلہ کےبارےمیں کہ زید نے تقریباً آج سےدس سال قبل اپنی بیٹی کا نکاح اپنے سگےبھتیجےکے ساتھ شرعی طریقے سے کردیاتھا،جبکہ نکاح کے وقت لڑکی کی عمر تقریباً 11سال تھی اور جیسے ہی اس کواپنے نکاح کے متعلق معلوم ہوا تولڑکی نے اسی وقت اس لڑکے کے ساتھ نکاح کرنے سےانکار کردیاتھا۔ نکاح کے بعد سے اب تک لڑکے اور اس کے گھر والوں کی طرف سے رخصتی کروانے اور نباہ کرنے میں شدید غفلت، بےرخی اور لاپرواہی کا معاملہ رہا۔اس پورے عرصے میں،لڑکے نے نہ رخصتی کروائی اور نہ ہی اس کیلئے کوئی معتاد کوشش شروع کی۔ یہاں تک کہ مسلسل دس سال تک لڑکی اپنے والدین کے گھر شادی کےانتظارمیں بیٹھی رہی،اور اہل علاقہ کے لوگوں کی طرح طرح کی باتوں کانشانہ بنی رہی۔ اورپھرمزیدیہ کہ لڑکے اور اس کے خاندان کی طرف سے خوشی، غمی، شادی بیاہ یا دیگر خاندانی معاملات میں کوئی تعلق داری، میل جول یا شرکت نہیں رکھی گئی۔ خاص طورپرعلاقائی رسم و رواج کے تقاضے بھی پورے نہیں کیے گئے،جیساکہ لڑکی کے لیے کچھ اخراجات یاتحفہ تحائف وغیرہ کا سلسلہ جاری رکھنا،جبکہ اس لڑکی کی ایک دوسری بہن کا بھی رشتہ ہوچکاہےاور ان کے خاندان کی طرف سے ہرقسم کاتعلق اور میل جول جاری رہتاہے،لیکن نہ ان دس سالوں میں لڑکا کبھی لڑکی کے گھر کی طرف آیااور نہ ہی ان کے گھر والوں نے آنے کی زحمت کی۔نیز اس دوران لڑکی کے والد بھی بارہا اپنے بھائی اور بھتیجے کو سمجھاتے رہے ، لیکن مسلسل ٹال مٹول اور بےتوجہی سے کام لیا جاتا رہا۔
اس مسلسل بےرخی، غفلت اور طویل انتظار کی وجہ سے لڑکی شدید بددل، ذہنی اذیت اور اضطراب کا شکار ہو گئی، اور اب اس نے واضح طور پر یہ کہہ دیا ہے کہ وہ کسی بھی قیمت پر اس لڑکے کے ساتھ ازدواجی زندگی گزارنے یا رخصتی ہونے پر آمادہ نہیں ہے۔چنانچہ لڑکی کے والد نے اپنے بھائی اور بھتیجے سے کہا کہ اب جبکہ لڑکی اس نکاح کو نبھانے پر راضی نہیں اور تم لوگوں نے بھی دس سال تک اسے عملاً معلق رکھا، لہٰذا مناسب طریقے سے اسے آزاد کر دو اور طلاق دے کر نکاح ختم کر دو تاکہ لڑکی کی زندگی کا مسئلہ حل ہو سکے۔
اس پر لڑکے نے یہ کہا کہ وہ نکاح ختم کرنے اور طلاق دینے کے لیے تیار ہے، لیکن اس شرط کے ساتھ کہ لڑکی والے اسے سات لاکھ روپے ادا کریں۔ واضح رہے کہ یہ رقم مہر نہیں ہے، نہ ہی لڑکے کی طرف سے لڑکی پر کوئی قابلِ ذکر اخراجات کیے گئے ہیں، لڑکی کی رخصتی بھی نہیں ہوئی، صرف نکاح ختم کرنے کے عوض سات لاکھ روپے کا مطالبہ کیا جا رہا ہے، جبکہ لڑکی والے مالی حالات کے اعتبار سے بھی کمزور ہے، اب معلوم یہ کرنا ہے کہ ایسی صورت میں کیا لڑکے کا صرف نکاح ختم کرنے کے بدلے سات لاکھ روپے کا مطالبہ شرعاً درست ہے، جبکہ اس نے لڑکی پر کوئی اخراجات بھی نہیں کیے؟ اگر یہ مطالبہ شرعاً درست نہیں تو کیا یہ محض ظلم اور ناجائز مطالبہ شمار ہوگا؟ کیا ایسی صورت میں سات لاکھ روپے دے کر خلع کی کوئی صورت بن سکتی ہے، یا لڑکے کو بلا عوض طلاق دینے یا فسخِ نکاح پر آمادہ کیا جائے گا؟ اگر لڑکا طلاق دینے میں ٹال مٹول کرے اور ناجائز رقم کا مطالبہ کرے تو شرعی طور پر اس مسئلے کا درست حل کیا ہوگا؟ قرآن و سنت اور فقہِ اسلامی کی روشنی میں مفصل رہنمائی فرما کر عند اللہ ماجور ہوں۔و السلام
صورتِ مسئولہ میں لڑکے اور اس کے خاندان کی طرف سے دس سال تک رخصتی اور ازدواجی حقوق کی ادائیگی میں مسلسل غفلت، بےرخی اور لاپرواہی شرعاً سخت ناپسندیدہ اور ظلم کے مترادف ہے، اس لیے لڑکے والوں کو چاہیے کہ ضد، لاپرواہی اور ٹال مٹول چھوڑ کر سنجیدگی کے ساتھ رخصتی اور نباہ کی صورت اختیار کریں ، اور لڑکی والوں کو بھی حتی المقدور طلاق یا نکاح ختم کرنے کے بجائے اصلاحِ احوال اور گھر آباد کرنے کی کوشش کرنی چاہیے، کیونکہ بلا ضرورت نکاح ختم کرنا شرعاً پسندیدہ نہیں۔
البتہ اگر حالات اس حد تک خراب ہوچکے ہوں کہ نباہ کی کوئی معقول صورت باقی نہ رہے، تو محض نکاح ختم کرنے یا طلاق دینے کے عوض سات لاکھ روپے کا مطالبہ، جبکہ لڑکے کی طرف سے کوئی قابلِ ذکر اخراجات بھی نہیں کیے گئے، شرعاً درست نہیں، بلکہ ناجائز مطالبہ ہے ،جس سے بہرصورت احترازلازم ہے ۔
لہٰذا فریقین کو چاہیے کہ خاندان کے سنجیدہ بڑوں کی موجودگی میں باہمی مشاورت سے معاملہ خوش اسلوبی کے ساتھ حل کریں۔ اگر نباہ ممکن ہوجائے تو یہی بہتر ہے، ورنہ لڑکے کو چاہیے کہ بلاعوض یا کم از کم مناسب طریقے سے طلاق دے کر لڑکی کو آزاد کردے،تاکہ وہ اپنے مستقبل کا فیصلہ کرنے میں آزاد ہو۔
کما فی الاختيار لتعليل المختار: قال: (ويكره أن يأخذ منها شيئا إن كان هو الناشز) قال تعالى: {وإن أردتم استبدال زوج مكان زوج وآتيتم إحداهن قنطارا فلا تأخذوا منه شيئا} [النساء: 20] فحملناه على الكراهية عملا بالنص الأول، وقيل هي نهي توبيخ لا تحريم، (وإن كانت هي الناشزة كره له أن يأخذ أكثر مما أعطاها) لما روي «أن جميلة بنت عبد الله بن أبي ابن سلول، وقيل حبيبة بنت سهل كانت تحت ثابت بن قيس بن شماس، فأتت رسول الله صلى الله عليه وسلم فقالت: يا رسول الله لا أنا ولا هو، فأرسل رسول الله إلى ثابت، فقال: قد أعطيتها حديقة، فقال لها: " أتردين عليه حديقته وتملكين أمرك؟ فقالت نعم وزيادة، قال: أما الزيادة فلا، فقال عليه الصلاة والسلام: يا ثابت خذ منها ما أعطيتها ولا تزدد وخل سبيلها. ففعل وأخذ الحديقة، فنزل قوله تعالى: {ولا يحل لكم أن تأخذوا مما آتيتموهن شيئا} [البقرة: 229] إلى قوله: {فلا جناح عليهما فيما افتدت به} [البقرة: 229] » . (وإن أخذ منها أكثر مما أعطاها حل له) بمطلق الآية.
قال: (وكذلك إن طلقها على مال فقبلت وقع الطلاق بائنا) لما قلنا، (ويلزمها المال بالتزامها) ولأنه ما رضي بالطلاق إلا ليسلم له المال المسمى، وقد ورد الشرع به فيلزمها.( باب الخلع، ج: 3، ص: 157، مطبعة الحلبي - القاهرة)