میرے شوہر نے مجھے ایک سال پہلے طلاق دی تھی صرف ایک طلاق تھی اور دوبارا کبھی رجوع نہیں کیا اور نہ میں نے اسے معاف کیا تو کیا میری مکمل طلاق ہوچکی ہے اور عدت ختم ہو چکی ہے ؟مجھے فتویٰ لکھوانہ ہے ۔میں دوسرا نکاح کر چکی ہوں۔
سائلہ نے وہ الفاظِ طلاق سوال میں ذکر نہیں کیے ، جن کے ذریعہ شوہر نے اسے طلاق دی تھی ، تاکہ اس کے موافق جواب دیا جاتا ، تاہم شوہر نے اگر صریح الفاظ جیسے " طلاق دیتا ہوں " کے ذریعہ سائلہ کو واقعۃ ایک طلاق دی ہو، جس کے بعد اس نے دوران عدت ( جو کہ ماہواری آنے کی صورت میں تین ماہواریاں ہوتی ہے) منہ زبانی یا جسمانی تعلق قائم کرکے کوئی رجوع نہ کیا ہو، اور اس دوران سائلہ کی تین ماہواریاں بھی گزرچکی ہوں، تو ان ماہواریوں کے گزر جا نے کے بعد سے سائلہ کی عدت مکمل ہوکر میاں بیوی کا نکا ح آپس میں ختم ہوچکا ہے ، اور اس کے بعد سائلہ دو سری جگہ نکاح کرنے میں بھی آزاد تھی ، چنانچہ عدت مکمل ہونے کے بعد کیے جانے والا یہ نکاح شرعا ً درست منعقد ہوچکا ہے ، لہذا بلاوجہ شکوک و شبہات میں پڑنے سے احتراز چاہیئے۔
کما فی المبسوط للسرخسی: وإذا طلقها واحدة في الطهر أو في الحيض أو بعد الجماع فهو يملك الرجعة مادام في العدة لأن النبي - صلى الله عليه وسلم - «طلق سودة - رضي الله تعالى عنها - بقوله اعتدي ثم راجعها» «وطلق حفصة - رضي الله عنها - ثم راجعها بالوطء» ويستوي إن طالت مدة العدة أو قصرت لأن النكاح بينهما باق ما بقيت العدة وقد روي أن علقمة - رضي الله عنه - طلق امرأته فارتفع حيضها سبعة عشر شهرا ثم ماتت فورثه ابن مسعود - رضي الله عنه - منها وقال إن الله تعالى حبس ميراثها عليك فإذا انقضت العدة قبل الرجعة فقد بطل حق الرجعة وبانت المرأة منه، وهو خاطب من الخطاب يتزوجها برضاها إن اتفقا على ذلك اھ (باب الرجعة ج:6 ص:19 ناشر: دار المعرفة - بيروت، لبنان)
وفی الفتاوی الھندیة: إذا طلق الرجل امرأته طلاقا بائنا أو رجعيا أو ثلاثا أو وقعت الفرقة بينهما بغير طلاق وهي حرة ممن تحيض فعدتها ثلاثة أقراء سواء كانت الحرة مسلمة أو كتابية كذا في السراج الوهاج.والعدة لمن لم تحض لصغر أو كبر أو بلغت بالسن ولم تحض ثلاثة أشهر كذا في النقاية اھ (الباب الثالث عشر في العدة ج:1 ص:526 ناشر:المطبعة الكبرى الأميرية ببولاق مصر )