کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ تقریباً تین ماہ قبل میرا بىوی کے ساتھ جھگڑا ہوا، جس پر میری بیوی نے بدتمىزی کی، جس کی وجہ سے میں نے غصہ کے اندر طلاق کے الفاظ بولے تھے۔ اور یہ الفاظ ایک سانس میں تقریباً دس سے بارہ مرتبہ بولے کہ" تمہیں طلاق ہے"، اور اس کے بعد میں نے منسلکہ طلاق نامہ جاكر بنوایا ہے ، اب معلوم یہ کرنا ہے کہ ہماری طلاق ہوئی ہے یانہیں؟ اگر ہوچکی ہے تو اب واپسی کی کیا صورت ہوگی ؟ قرآن و سنت کی روشنی میں جواب عنایت فرمائىں.
صورت مسؤلہ مىں جب سائل نے غصہ كى حالت مىں اپنی بیوی کو دس سے بارہ مرتبہ " تمہیں طلاق ہے"، كہا تو ابتدائى تىن بار كہنے سے اس کی بیوی پرتینوں طلاقیں واقع ہوکر حرمتِ مغلظہ ثابت ہوچكى، جبكہ باقی الفاظ بیوی کے محل ِطلاق نہ ہونے کی وجہ سے لغوہوگئے ہىں،اب رجوع نہىں ہو سكتا، اور حلالۂ شرعیہ کے بغیر دوباره باہم عقدِ نکاح بھى نہىں ہوسکتا ۔ لہٰذا دونوں پر لازم ہے کہ فوراً ایک دوسرے سے علیحد گی اختیار کریں اور میاں بیوی والے تعلق ہرگز قائم نہ کریں، ورنہ دونوں سخت گنہگار ہوں گے، جبكہ عورت عدت مکمل کرنے کے بعد دوسری جگہ نکاح کرنے میں بھى آزاد ہوگى۔
اور حلالۂ شرعیہ یہ ہے کہ عورت اپنے شوہر سے علیحدگی اور عدت کے بعد بغیرکسی شرط کے کسی دوسرے مسلمان شخص سے اپنا نکاح کرے ،چنانچہ اگروہ دوسراشخص بھی ایک مرتبہ ہمبستری (جوکہ حلالۂ شرعیہ کے تحقق کے لئے ضروری ہے)کے فوراً بعد یا ازدواجی زندگی کے کچھ عرصہ بعد طلاق دیدے یا طلاق تو نہ دے، مگر بیوی سے پہلے اس کا انتقال ہوجائے، بہرصورت اس کی عدت گزرنے کے بعد وہ پہلے شوہر کے عقدِنکاح میں آناچاہے اور پہلاشوہربھی اسے رکھنے پر رضامندہوتو نئے مہرکیساتھ گواہوں کی موجودگی مىں دوبارہ عقدِنکاح کرکے باہم میاں بیوی کی حیثیت سے زندگی بسرکرسکتے ہیں۔تاہم حلالہ اس شرط کے ساتھ کرناکہ زوجِ ثانی ہمبستری کے بعدبیوی کو طلاق دےگا، تاکہ زوج اول دوبارہ اس کے ساتھ عقدِنکاح کرے، یہ مکروہِ تحریمی ہے، اور اس پر حدیث شریف میں وعید بھی وارد ہوئی ہے، اس لئے اس سے احتراز لازم ہے۔
كما في الدر المختار: (واعتبار عدده بالنساء) (إلى قوله) (فطلاق حرة ثلاث، وطلاق أمة ثنتان) مطلقا.اهـ (مطلب في الطلاق بالكناية، ج: 3، ص: 246، ط: إيج إيم سعيد)
وفي بدائع الصنائع : وأما الطلقات الثلاث فحكمها الأصلي هو زوال الملك، وزوال حل المحلية (إلى قوله) سواء طلقها ثلاثا متفرقا أو جملة واحدة. ( کتاب الطلاق ، فصل فی حکم الطلاق البائن ، ج: 3، ص: 187، ط: إيج إيم سعيد)
وفي الدر المختار أيضا: (لا) ينكح (مطلقة) من نكاح صحيح نافذ (إلى قوله) كما سنحققه (بها) أي بالثلاث (لو حرة وثنتين لو أمة) ولو قبل الدخول (إلى قوله) (حتى يطأها غيره إلخ (باب الرجعة، ج: 3، ص: 409-410، ط: إيج إيم سعيد)
وفيه أيضا: (وكره) التزوج للثاني (تحريما) لحديث «لعن المحلل والمحلل له» (بشرط التحليل) كتزوجتك على أن أحللك (وإن حلت للأول) (إلى قوله) (أما إذا أضمر ذلك لا) يكره (وكان) الرجل (مأجورا) لقصد الإصلاح، وتأويل اللعن إذا شرط الأجر ذكره البزازي.اهـ (باب الرجعة، ج: 3، ص: 415، ط: إيج إيم سعيد)