کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام اس مسئلے کے بارے میں کہ: ایک شخص نے پہلےاپنی بیوی کو ایک طلاقِ رجعی دی تھی، اور دورانِ عدت اس سے رجوع بھی کر لیا تھا، جس کی تصدیق کے لیے دارالافتاء سے فتویٰ بھی حاصل کیا گیا تھا، چنانچہ نکاح برقرار رہا۔پھر اس واقعہ کے تقریباً ایک سے ڈیڑھ سال بعد اس شخص نے ابھی کچھ دن قبل اپنی بیوی کو ایک پیغام (میسج) بھیجا ، جبکہ اس دوران بیوی اپنی ماں کے گھر تھی،پیغام کے الفاظ یہ تھے: "اگر تم نے کل دوپہرایک بجے تک بچی (آئزل) کو مجھ سے ملنے کے لیے گھر نہ بھیجا تو تم پر میری طرف سے باقی جو دو طلاقیں رہ گئی ہیں وہ واقع ہو جائیں گی۔"بعد ازاں بیوی نے مقررہ وقت تک بچی کو ملنے نہیں بھیجا۔اب دریافت طلب امور یہ ہیں کہ:1. کیا مذکورہ الفاظ طلاقِ معلق (مشروط طلاق) کے زمرے میں آتے ہیں؟ 2. شرط پوری ہونے کی صورت میں کیا باقی دو طلاقیں واقع ہو چکیں؟ 3. اس کے نتیجے میں نکاح کی شرعی حیثیت کیا ہوگی؟ فقہ حنفی کی روشنی میں رہنمائی فرمائیں۔
واضح ہو کہ طلاق کو کسی شرط کے ساتھ معلق کرنے کی صورت میں اس شرط کے پائے جانے سے طلاق واقع ہو جاتی ہے،لہذا صورتِ مسئولہ میں شوہر نے پہلے اىك طلاق دىنے كے بعد دوران عدت جب رجوع كرليا تھا تو رجوع صحيح ہوچكاتھا، پھر اس كے بعد جب شوہر نے ميسج كے ذريعہ اپنى بىوى كو لكھا كہ "اگر تم نے کل دوپہرایک بجے تک بچی (آئزل) کو مجھ سے ملنے کے لیے گھر نہ بھیجا تو تم پر میری طرف سے باقی جو دو طلاقیں رہ گئی ہیں وہ واقع ہو جائیں گی۔" اس كے بعد بىوى نے مقرره وقت تك بچى كو ملنے نہىں بھىجا، تو شرط کے پائے جانے كى وجہ سے بىوى پر باقى دو طلاقىں بھی واقع ہوكر حرمت مغلظہ ثابت ہوچكى ہے، اب رجوع نہىں ہو سكتا ، اور حلالۂ شرعىہ كے بغير دوباره عقد نكاح بھى نہىں ہوسکتا،لہٰذا دونوں پر لازم ہے کہ فوراً ایک دوسرے سے علیحد گی اختیار کریں اور میاں بیوی والا تعلق ہرگز قائم نہ کریں، ورنہ دونوں سخت گنہگار ہوں گے، جبكہ عورت عدت گزرنے كے بعد دوسرى جگہ نكاح كرنے مىں بھى آزاد ہے.
كما في الدر المختار: (هي استدامة الملك القائم) (إلى قوله) (في العدة) أي عدة الدخول حقيقة (إلى قوله) (بنحو) متعلق باستدامة (رجعتك) ورددتك ومسكتك بلا نية لأنه صريح (و) بالفعل مع الكراهة (بكل ما يوجب حرمة المصاهرة) إلخ. (باب الرجعة، ج: 3، ص: 397، ط: إيج إيم سعيد)
وفيه أيضا: (ربط حصول مضمون جملة بحصول مضمون جملة أخرى) ويسمى يمينا مجازا وشرط صحته كون الشرط معدوما على خطر الوجود.اهـ (باب التعليق، ج: 3، ص: 341، ط: إيج إيم سعيد)
وفي رد المحتار: (قوله واصطلاحا ربط إلخ) فهو خاص بالمعنوي والمراد بالجملة الأولى في كلامه جملة الجزاء، وبالثانية جملة الشرط.اهـ (باب التعليق، ج: 3، ص: 341، ط: إيج إيم سعيد)
وفيه أیضا: تحت (قوله على خطر الوجود) أي مترددا بين أن يكون وأن لا يكون لا مستحيلا ولا متحققا لا محالة لأن الشرط للحمل والمنع وكل منهما لا يتصور فيهما شرح التحرير.اهـ (باب التعليق، ج: 3، ص: 342، ط: إيج إيم سعيد)
وفي الهندية: وإذا أضافه إلى الشرط وقع عقيب الشرط اتفاقا مثل أن يقول لامرأته: إن دخلت الدار فأنت طالق.اهـ (الفصل الثالث في التعليق، ج: 1، ص: 420، ط: مكتبة ماجدية)
وفي الدر المختار: (لا) ينكح (مطلقة) من نكاح صحيح نافذ (بها) أي بالثلاث (لو حرة وثنتين لو أمة) ولو قبل الدخول، وما في المشكلات باطل، أو مؤول كما مر (حتى يطأها غيره.اهـ (باب العدة، ج: 3، ص: 409، ط: إيج إيم سعيد)