میرا نام حسن علی ہے اور میں عبد الولی خان یونیورسٹی مردان میں شعبۂ فارمیسی کا طالبِ علم ہوں۔ ہمارے ڈیپارٹمنٹ میں وقتاً فوقتاً مختلف تقریبات منعقد ہوتی رہتی ہیں، جیسے جونیئر طلبہ کے لیے ویلکم پارٹیز، سینئر طلبہ کے لیے فیرویل پارٹیز، اور دیگر پروگرامز۔ ان پروگرامز میں بعض اوقات میوزک، ڈانس اور دیگر غیر شرعی امور بھی شامل ہوتے ہیں۔ایسے مواقع پر کبھی کبھی مجھے یا دیگر طلبہ کو پروگرام کا آغاز تلاوتِ کلامِ پاک سے کرنے کے لیے کہا جاتا ہے۔ اس سلسلے میں رہنمائی مطلوب ہے کہ:
کیا ایسے پروگرامز، جن میں بعد میں میوزک، ڈانس یا دیگر غیر شرعی سرگرمیاں شامل ہونے والی ہوں، ان کا آغاز تلاوتِ قرآنِ مجید سے کرنا شرعاً جائز ہے یا نہیں؟
اگر جائز ہے تو اس کی حدود و شرائط کیا ہیں؟ اور اگر ناجائز یا مکروہ ہے تو اس کی شرعی وجہ کیا ہے؟
جزاکم اللہ خیراً
سوال میں مذکور مجالس اور پارٹیزمنعقد کرنے کا اصل مقصد اگر صرف گانے بجانے اور دیگر لہو و لعب کے امور انجام دینا ہو تو ایسی مجالس کا قرآن کریم کی تلاوت سے آغاز کرنا شرعاً جائز نہیں بلکہ موجبِ گناہ ہے۔ اور اگر مذکور مجالس اور پارٹیزکے انعقاد کا اصل مقصد گانا بجانا نہ ہو بلکہ ضمناً گانے وغیرہ بھی چلائے جاتے ہوں تو ایسی مجالس کا آغاز قرآن کریم کی تلاوت سے کرنے کی اگرچہ گنجائش ہے،تاہم اس صورت میں بھی اگر تلاوت مع ترجمہ نشر ہو تو زیادہ بہتر ہے۔ کیونکہ اس کے ذریعہ کسی کے دل کو متأثر کیا جا سکتا ہے ۔(ازتبویب بتغییریسیر2662)
ففي البزازية : والمجلس الذي اجتمعوا فيه للغباء والرقص لا يقرأ فيه القرآن كما لا يقرأ في البيع والكناس لأنه مجمع الشيطان اھ (۶/ ۳۳۸)۔
و في الفتاوى الهندية: الكلام منه ما يوجب أجرا كالتسبيح والتحميد وقراءة القرآن والأحاديث النبوية وعلم الفقه وقد يأثم به إذا فعله في مجلس الفسق وهو يعلمه لما فيه من الاستهزاء والمخالفة لموجبه وإن سبح فيه للاعتبار والإنكار وليشتغلوا عما هم فيه من الفسق فحسن اھ (5/ 315)۔