طلاق

تین طلاق کی ایک صورت کا حکم

فتوی نمبر :
95336
| تاریخ :
2026-05-14
معاملات / احکام طلاق / طلاق

تین طلاق کی ایک صورت کا حکم

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
معزز مفتی صاحب!
میرے اور میری اہلیہ کے درمیان کافی عرصہ سے گھریلو ناچاقی، بد مزاجی، نافرمانی اور باہمی اختلافات چل رہے تھے۔ اس دوران میری اہلیہ کے گھر والوں کی جانب سے بھی نامناسب رویّہ اور سخت طرزِ عمل سامنے آیا، جس کی وجہ سے معاملات انتہائی کشیدہ ہوگئے، حتیٰ کہ بات تھانہ کچہری تک جا پہنچی۔
اسی دوران ایک معزز بزرگ شخصیت نے صلح کروانے کی غرض سے میرے والد اور میری اہلیہ کے والد کو بٹھایا تاکہ معاملات خوش اسلوبی سے حل ہو سکیں۔ مذاکرات کے دوران میری اہلیہ کے والد نے یہ مؤقف اختیار کیا کہ میری بیوی، رابحہ مرتضیٰ، مجھ سے طلاق لینا چاہتی ہے اور کسی صورت میرے ساتھ واپس رہنے پر آمادہ نہیں۔
میں، عامر حمید، نے اس پر ابتدا میں انکار کیا، کیونکہ ہمارا ایک بیٹا ہے جس کی عمر تقریباً ایک سال ہے، اور میں اپنے بیٹے کو بے سہارا نہیں کرنا چاہتا تھا، اس لیے میں طلاق دینے پر راضی نہیں تھا۔
بعد ازاں، میری اہلیہ کے والد اور مصالحت کروانے والے بزرگ نے یہ تجویز دی کہ میری بیوی اپنا بیٹا میرے حوالے کر دے گی اور اس کے بدلے میں میں اسے طلاق دے دوں گا۔ اس پر میں نے یہ مؤقف اختیار کیا کہ نہ تو اس فیصلے کی قانونی حیثیت واضح ہے، اور نہ ہی اس بات کی کوئی ضمانت ہے کہ بعد میں میری بیوی عدالت کے ذریعے بچہ واپس لینے کا مطالبہ نہیں کرے گی، اس لیے میں اس تجویز سے مطمئن نہیں تھا۔
اس موقع پر میری اہلیہ نے خود یہ کہا کہ:
“مجھے کوئی اعتراض نہیں، میں اپنا بیٹا اس کے والد کے حوالے کرتی ہوں، مجھے طلاق دے دی جائے، اور میں مستقبل میں بچے کی حوالگی کے متعلق عدالت میں کوئی دعویٰ بھی نہیں کروں گی۔”
بہت غور و فکر کے بعد میں مذکورہ فیصلے پر رضامند ہوگیا۔ چنانچہ میں نے ایک سادہ کاغذ پر یہ تحریر لکھ کر اُس معزز بزرگ کے حوالے کی:
“میں عامر حمید ولد عبدالحمید اپنی زوجہ رابحہ مرتضیٰ کو اپنے عقدِ نکاح سے فارغ کرتا ہوں۔”
بعد میں میری اہلیہ نے مطالبہ کیا کہ یہی تحریر اسٹامپ پیپر پر لکھی جائے۔ لہٰذا اگلے دن، مورخہ 2 اپریل 2026ء، میں نے دو گواہوں کی موجودگی میں اسٹامپ پیپر پر یہ الفاظ تحریر کیے اور دستخط کیے:
“میں عامر حمید ولد عبدالحمید اپنی زوجہ رابحہ مرتضیٰ کو طلاق دے کر اپنے نکاح کے بندھن سے آزاد کرتا ہوں۔”
اس دستاویز پر میں نے دو گواہوں کے سامنے دستخط کیے۔
مزید یہ کہ اس سے قبل گزشتہ سال بھی میں نے اپنی اہلیہ کو ایک طلاقِ احسن دی تھی، لیکن عدت کے دوران ہی رجوع کر لیا تھا، لہٰذا وہ طلاق ختم ہوگئی تھی اور نکاح برقرار رہا تھا۔
اب میرا سوال یہ ہے کہ:
مورخہ 14 مئی 2026ء کو، میری اہلیہ نے عدالت میں یہ بیان دیا کہ:
“عامر حمید نے مجھ سے زبردستی بچہ چھین لیا ہے۔”
یعنی اب وہ اپنے سابقہ بیان سے مکر چکی ہیں۔
مذکورہ بالا واقعہ اور الفاظ کے مطابق کتنی طلاق واقع ہوئی ہے؟ ایک طلاق یا مکمل تین طلاقیں؟
جبکہ میری نیت اور ارادہ صرف ایک طلاق دینے کا تھا، تو کیا نیت کا اعتبار ہوگا؟
کیا اس طلاق کے بعد دورانِ عدت رجوع کیا جا سکتا ہے؟
اگر رجوع ممکن ہے تو اس کا شرعی طریقۂ کار کیا ہوگا؟
براہِ کرم قرآن و سنت کی روشنی میں رہنمائی فرما دیں۔
جزاکم اللہ خیراً۔

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

سوال میں درج کردہ تفصیل کے مطابق سائل نے اگر پہلی دفعہ صریح الفاظ(جیسے کہ میں اپنی بیوی کو طلاق دیتا ہوں،یا میری بیوی کوطلاق ہے وغیرہ)میں اپنی بیو ی کوایک طلاق دی ہو اور پھر عدت گزرنے سے قبل رجوع کر چکا ہو تو ایسی صورت میں اگرچہ سائل اور اسکی بیوی کا نکاح حسب سابق برقرار تھا البتہ آئندہ کے لئے سائل کے پاس فقط دو طلاقوں کا اختیار تھا،تاہم اس کے بعد جب سائل نے بیوی کے مطالبے پر ایک سادہ کاغذ پر یہ الفاظ تحریر کئے:
“میں عامر حمید ولد عبدالحمید اپنی زوجہ رابحہ مرتضیٰ کو اپنے عقدِ نکاح سے فارغ کرتا ہوں”تو اس سے سائل کے بیوی پر دوسری طلاق بائن واقع ہوکر نکاح ختم ہوچکا، جس کے بعدتجدید نکاح کی صورت میں آئندہ کے لئے سائل کو فقط ایک طلاق کا اختیار حاصل تھا،لیکن اس کے بعد سائل نے گواہوں کی موجودگی میں اسٹامپ پیپر پر جو الفاظ تحریر کئے :
“میں عامر حمید ولد عبدالحمید اپنی زوجہ رابحہ مرتضیٰ کو طلاق دے کر اپنے نکاح کے بندھن سے آزاد کرتا ہوں۔یہ اگر اس نے دوسری طلاق کی عدت میں تحریر کئے ہوں (جیسا کہ سوال سے بظاہر یہی معلوم ہوتا ہے)توان الفاظ سے اگرچہ سائل کی نیت مزید طلاق دینے کی نہیں تھی لیکن چونکہ ایک تو اسٹامپ پیپر پر لکھے گئے الفاظ سادہ کاغذ پر لکھے گئے الفاظ سے مختلف ہیں،اور ساتھ میں ایسی کوئی صراحت بھی موجود نہیں کہ جس سے یہ معلوم ہوتا ہوکہ سابقہ طلاق کے الفاظ کا تکرار ہے،نیز ان الفاظ سے صریح طلاق واقع ہوتی ہے جودوران عدت طلاق بائن کو محلق ہوجاتی ہے،اس لئے ان الفاظ سے سائل کی بیوی پر مزید ایک طلاق واقع ہوکر مجموعی طور پر تین طلاقوں کے ذریعے حرمت مغلظہ ثابت ہوچکی ہے،اب رجوع نہیں ہوسکتا اور حلالہ شرعیہ کے بغیر دوبارہ باہم عقد نکاح بھی نہیں ہوسکتا،جبکہ عورت عدت گزارنے کے بعد دوسری جگہ نکاح کرنے میں آزاد ہے۔

مأخَذُ الفَتوی

کما قال تعالیٰ:ٱلطَّلَٰقُ مَرَّتَانِۖ فَإِمۡسَاكُۢ بِمَعۡرُوفٍ أَوۡ تَسۡرِيحُۢ بِإِحۡسَٰنٖۗ وَلَا يَحِلُّ لَكُمۡ أَن تَأۡخُذُواْ مِمَّآ ءَاتَيۡتُمُوهُنَّ شَيۡـًٔا إِلَّآ أَن يَخَافَآ أَلَّا يُقِيمَا حُدُودَ ٱللَّهِۖ فَإِنۡ خِفۡتُمۡ أَلَّا يُقِيمَا حُدُودَ ٱللَّهِ فَلَا جُنَاحَ عَلَيۡهِمَا فِيمَا ٱفۡتَدَتۡ بِهِۦۗ تِلۡكَ حُدُودُ ٱللَّهِ فَلَا تَعۡتَدُوهَاۚ وَمَن يَتَعَدَّ حُدُودَ ٱللَّهِ فَأُوْلَٰٓئِكَ هُمُ ٱلظَّٰلِمُونَ 229 فَإِن طَلَّقَهَا فَلَا تَحِلُّ لَهُۥ مِنۢ بَعۡدُ حَتَّىٰ تَنكِحَ زَوۡجًا غَيۡرَهُ الخ(البقرۃ:228/229)
و فی صحیح البخاري: وقال اللیث عن نافع کان ابن عمر إذا سئل عمن طلق ثلاثا قال: قال لوطلقت مرۃ أو مرتین فإن النبي صلی اﷲ علیہ وسلم أمرني بہذا فإن طلقہا ثلاثا حرمت حتی تنکح زوجا غیرہ۔ (کتاب الطلاق ج:2,ص:292ط: بشریٰ)
وفی المصنف لابن أبي شیبة: عن حماد قال: إذا کتب الرجل إلی امرأته -إلی- أمابعد! فأنت طالق فهي طالق، وقال ابن شبرمة: هي طالق. اھ(کتاب الطلاق، باب في الرجل یکتب طلاق امرأته بیده، ج:9،ص:562،ط:علوم القرآن)
وفی الفتاوی الھندیۃ: وإن كان الطلاق ثلاثا في الحرة وثنتين في الأمة لم تحل له حتى تنكح زوجا غيره نكاحا صحيحا ويدخل بها ثم يطلقها أو يموت عنها كذا في الهداية ولا فرق في ذلك بين كون المطلقة مدخولا بها أو غير مدخول بها كذا في فتح القدير ويشترط أن يكون الإيلاج موجبا للغسل وهو التقاء الختانين هكذا في العيني شرح الكنز،أما الإنزال فليس بشرط للإحلال۔اھ(کتاب الطلاق،ج:1،ص:473،ط:ماجدیۃ)۔
وفی ردالمحتار:
(قوله ‌الصريح ‌يلحق ‌الصريح) كما لو قال لها: أنت طالق ثم قال أنت طالق أو طلقها على مال وقع الثاني بحر، فلا فرق في الصريح الثاني بين كون الواقع به رجعيا أو بائنا (قوله ويلحق البائن) كما لو قال لها أنت بائن أو خلعها على مال ثم قال أنت طالق أو هذه طالق بحر عن البزازية. ثم قال: وإذا لحق الصريح البائن كان بائنا لأن البينونة السابقة عليه تمنع الرجعة كما في الخلاصة (باب الکنایات،ج:3،ص:306،ط:سعید)
وفیہ ایضاً:
كتب في قرطاس: إذا أتاك كتابي هذا فأنت طالق ثم نسخه في آخر أو أمر غيره بنسخه ولم يمله عليه فأتاها الكتابان طلقت ثنتين قضاء إن أقر أنهما كتاباه أو برهنت، وفي الديانة تقع واحدة بأيهما أتاها ويبطل الآخر؛ ولو قال للكاتب: اكتب طلاق امرأتي كان إقرارا بالطلاق وإن لم يكتب الخ(ج:3،ص:246،ط:دارالفکر ۔بیروت)

واللہ تعالی اعلم بالصواب
سلیم اللہ علیم عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 95336کی تصدیق کریں
0     26
Related Fatawa متعلقه فتاوی
  • تحریر کردہ طلاق نامہ کے ذریعہ طلاق کا حکم

    یونیکوڈ   اسکین   طلاق 7
  • مذاق میں بیوی کو طلاق کاغذ پر لکھ کر دیدی

    یونیکوڈ   اسکین   طلاق 1
  • بیوی کو حرام زادی کہنے سے نکاح متاثرہوگا؟

    یونیکوڈ   اسکین   انگلش   طلاق 2
  • دل دل میں طلاق دینا

    یونیکوڈ   اسکین   طلاق 1
  • ایک کاغذپر تین طلاق لکھ کر دینے سے کتنی طلاقیں واقع ہوں گی؟

    یونیکوڈ   اسکین   طلاق 2
  • تم میری بہن کی طرح ہو کہنے سے بیوی پر طلاق واقع ہوگی؟

    یونیکوڈ   اسکین   طلاق 1
  • بیرون ملک شادی کے لئے پہلی بیوی کے نام عارضی طلاق نام بنوانا

    یونیکوڈ   اسکین   طلاق 2
  • پچپن میں نکاح کے بعد بالغ ہونے پر لڑکا پاگل ہوگیا طلاق کیسے ہوگی؟

    یونیکوڈ   اسکین   طلاق 1
  • اسلام قبول کرنے کے بعد عیسائی شوہرسے نکاح خودبخودختم ہوجاتاہے؟

    یونیکوڈ   اسکین   انگلش   طلاق 0
  • طلاق نامہ پر دستخط کرنے سے طلاق واقع ہوجاتی ہے؟

    یونیکوڈ   طلاق 0
  • حمل کی حالت میں طلاق دینے کا حکم

    یونیکوڈ   طلاق 2
  • طلاق کا واقعہ سنانے سے مزید طلاق واقع ہونے سے متعلق سوال

    یونیکوڈ   طلاق 2
  • "میں تم کو طلاق دیتا ہوں "بیوی کو غصہ میں تین دفعہ بول دینا

    یونیکوڈ   طلاق 2
  • بیوی کی غیر موجودگی میں, سسر کو تین بار کہہ دینا کہ" میں نے تیری بیٹی کو طلاق دیدی "

    یونیکوڈ   طلاق 1
  • ایک مجلس میں تین طلاق دینے کا حکم

    یونیکوڈ   طلاق 0
  • بیوی کو ڈرانے کے لیے الفاظ طلاق بولنا

    یونیکوڈ   طلاق 1
  • واٹس اپ کی ریکارڈنگ کے ذریعے طلاق

    یونیکوڈ   انگلش   طلاق 3
  • بیوی کی غیر موجودگی میں اس کی طرف نسبت کئے بغیر طلاق کا حکم

    یونیکوڈ   طلاق 0
  • وقوع طلاق کے لیے گواہ شرط ہے؟

    یونیکوڈ   طلاق 0
  • بیوی کو طلاق کا مسئلہ سمجھاتے ہوئے الفاظ طلاق کہنے کا حکم

    یونیکوڈ   طلاق 1
  • یونین کونسل کی جانب سے پہلی طلاق کا نوٹس بھیجے جانے سے مزید وقوعِ طلاق کا حکم

    یونیکوڈ   طلاق 0
  • موبائل پر طلاق دینے کا حکم

    یونیکوڈ   طلاق 2
  • لفظِ " فارغ "سے طلاق واقع ہونے کا حکم

    یونیکوڈ   طلاق 4
  • بیوی نے کہا کہ "مہر دو اور جانے دو" جواب میں شوہر کا "ٹھیک ہے " کہنے کا حکم

    یونیکوڈ   طلاق 0
  • "طلاق لو اور جاؤ" کہنے سے طلاق ہوگی یا نہیں؟

    یونیکوڈ   طلاق 0
Related Topics متعلقه موضوعات