میرے شوہر نے فون پر مجھے طلاق دی تھی،میں نے دو بار سنا تھا پھر فون کاٹ دیا،اس کے بعد ہم رجوع کرلیا،اب مجھے بار بار شک اور وہم ہوتا ہے کہ میرے شوہر نے تین بار نہ کہا ہو،اور میں نے شوہر سے پوچھا بھی ،انہوں نے کہا کہ دو طلاقیں ہی دی ہیں۔یہ بات بہت پریشان کرتی ہیں وسوسوں کی صورت میں۔
سوال میں درج کردہ تفصیل کے مطابق، اگر سائلہ نے موبائل فون پر گفتگو کے دوران اپنے شوہر کی زبان سے فقط دو مرتبہ طلاق کے الفاظ سنے ہوں، جس کے بعد سائلہ نے فون کاٹ کر رابطہ منقطع کردیا ہو، اور شوہر نے اس کے بعد مزید کوئی طلاق نہ دی ہو، (جیسا کہ بعد میں سائلہ کے استفسار پر شوہر نے بھی مزید طلاقیں نہ دینے کی یقین دہانی کرائی) تو ایسی صورت میں سائلہ پر فقط دو طلاقیں واقع ہوئی ہیں۔
اس کے بعد دوران عدت رجوع کرنے سے شرعاً رجوع بھی درست ہوگیا، اور دونوں میاں بیوی کا نکاح حسبِ سابق برقرار ہے۔ چنانچہ سائلہ اور اس کے شوہر کے لیے میاں بیوی کی حیثیت سے زندگی بسر کرنا شرعاً جائز اور درست ہے۔
لہٰذا سائلہ کو بلاوجہ شکوک و شبہات میں مبتلا ہونے کی ضرورت نہیں۔ تاہم چونکہ شوہر کے پاس اب صرف ایک طلاق کا اختیار باقی ہے، اس لیے شوہر کو آئندہ طلاق کے معاملے میں نہایت احتیاط سے کام لیتے ہوئے طلاق کے الفاظ استعمال کرنے سے اجتناب کرنا چاہیے۔
کما قال تعالیٰ:ٱلطَّلَٰقُ مَرَّتَانِۖ فَإِمۡسَاكُۢ بِمَعۡرُوفٍ أَوۡ تَسۡرِيحُۢ بِإِحۡسَٰنٖۗ وَلَا يَحِلُّ لَكُمۡ أَن تَأۡخُذُواْ مِمَّآ ءَاتَيۡتُمُوهُنَّ شَيۡـًٔا إِلَّآ أَن يَخَافَآ أَلَّا يُقِيمَا حُدُودَ ٱللَّهِۖ فَإِنۡ خِفۡتُمۡ أَلَّا يُقِيمَا حُدُودَ ٱللَّهِ فَلَا جُنَاحَ عَلَيۡهِمَا فِيمَا ٱفۡتَدَتۡ بِهِۦۗ تِلۡكَ حُدُودُ ٱللَّهِ فَلَا تَعۡتَدُوهَاۚ وَمَن يَتَعَدَّ حُدُودَ ٱللَّهِ فَأُوْلَٰٓئِكَ هُمُ ٱلظَّٰلِمُونَ 229 فَإِن طَلَّقَهَا فَلَا تَحِلُّ لَهُۥ مِنۢ بَعۡدُ حَتَّىٰ تَنكِحَ زَوۡجًا غَيۡرَهُ الخ(البقرۃ:228/229)
و فی صحیح البخاري: وقال اللیث عن نافع کان ابن عمر إذا سئل عمن طلق ثلاثا قال: قال لوطلقت مرۃ أو مرتین فإن النبي صلی اﷲ علیہ وسلم أمرني بہذا فإن طلقہا ثلاثا حرمت حتی تنکح زوجا غیرہ۔(کتاب الطلاق ج:2,ص:292ط: بشریٰ)
وفی الھدایۃ:
وإذا طلق الرجل امرأته تطليقة رجعية أو تطليقتين فله أن يراجعها في عدتها رضيت بذلك أو لم ترض " لقوله تعالى: {فَأَمْسِكُوهُنَّ بِمَعْرُوفٍ} [البقرة: 231] من غير فصل ولا بد من قيام العدة لأن الرجعة استدامة الملك ألا ترى أنه سمى إمساكا وهو الإبقاء وإنما يتحقق الاستدامة في العدة لأنه لا ملك بعد انقضائها " والرجعة أن يقول راجعتك أو راجعت امرأتي " وهذا صريح في الرجعة ولا خلاف فيه بين الأئمة.(ج:2،ص:254،ط:دار احیاء التراث العربی،بیروت،لبنان)