میں نے چار سال پہلے بیوی کو کہا کہ "میں ایک طلاق دیتا ہوں" اور پھر دو دن کے اندر رجوع کر لیا اور اللہ تعالی نے بیٹی سے نوازا،اب چار سال گزر گئے اور معاملات میں اس قدر خرابیاں پیدا ہوئیں کہ میں بہت عرصہ برداشت کرنے کے بعد یہ الفاظ کہے "میں تمہیں دوسری طلاق دیتا ہوں"
تو اب کیا شرائط ہیں؟
سوال میں درج کردہ تفصیل کے مطابق سائل نے جب چار سال قبل اپنی بیوی کو یہ الفاظ کہے "میں ایک طلاق دیتا ہوں"تو اس سے سائل کی بیوی پر ایک طلاق رجعی واقع ہوچکی ،جس کے بعد عدت کے دوران رجوع کرنے سے رجوع بھی درست ہوچکا اور دونوں کا میاں بیوی کی طرح رہنا جائز تھا البتہ ائندہ کے لئے سائل کے پاس فقط دو طلاقوں کا اختیار تھا،لیکن اب حالیہ واقعہ میں جب سائل نے بیوی کو یہ الفاظ کہے"میں تمہیں دوسری طلاق دیتاہوں"تو اس سے سائل کی بیوی پر دوسری طلاق رجعی بھی واقع ہوچکی ہے،جس کے بعد سائل کو دوران عدت رجوع کرنے کا اختیار حاصل ہے،چنانچہ اگر سائل عدت کے دوران رجوع کر لیتا ہے تو دونوں میاں بیوی کا نکاح حسب سابق برقرار رہےگا،لیکن اگر سائل نے عدت میں رجوع نہ کیا تو عدت گزرنے سے یہ رجعی طلاق،طلاق بائن بن جائے گی جس سے دونوں کا نکاح ختم ہوجائے گا،جس کے بعد دوبارہ ساتھ رہنے کے لئے باہمی رضامندی سے نئے حق مہر کے تقرر کے ساتھ تجدید نکاح لازم ہوگا،تاہم اس رجوع یا نکاح کے بعد آئندہ کے لئے سائل کےپاس فقط ایک طلاق کا اختیار ہوگا،اس لئے سائل کو آئندہ کے لئےطلاق کے معاملے میں احتیاط سے کام لینا چاہئے۔
کما قال تعالیٰ:ٱلطَّلَٰقُ مَرَّتَانِۖ فَإِمۡسَاكُۢ بِمَعۡرُوفٍ أَوۡ تَسۡرِيحُۢ بِإِحۡسَٰنٖۗ وَلَا يَحِلُّ لَكُمۡ أَن تَأۡخُذُواْ مِمَّآ ءَاتَيۡتُمُوهُنَّ شَيۡـًٔا إِلَّآ أَن يَخَافَآ أَلَّا يُقِيمَا حُدُودَ ٱللَّهِۖ فَإِنۡ خِفۡتُمۡ أَلَّا يُقِيمَا حُدُودَ ٱللَّهِ فَلَا جُنَاحَ عَلَيۡهِمَا فِيمَا ٱفۡتَدَتۡ بِهِۦۗ تِلۡكَ حُدُودُ ٱللَّهِ فَلَا تَعۡتَدُوهَاۚ وَمَن يَتَعَدَّ حُدُودَ ٱللَّهِ فَأُوْلَٰٓئِكَ هُمُ ٱلظَّٰلِمُونَ 229 فَإِن طَلَّقَهَا فَلَا تَحِلُّ لَهُۥ مِنۢ بَعۡدُ حَتَّىٰ تَنكِحَ زَوۡجًا غَيۡرَهُ الخ(البقرۃ:228/229)
و فی صحیح البخاري: وقال اللیث عن نافع کان ابن عمر إذا سئل عمن طلق ثلاثا قال: قال لوطلقت مرۃ أو مرتین فإن النبي صلی اﷲ علیہ وسلم أمرني بہذا فإن طلقہا ثلاثا حرمت حتی تنکح زوجا غیرہ۔(کتاب الطلاق ج:2,ص:292ط: بشریٰ)
وفی الھدایۃ:
وإذا طلق الرجل امرأته تطليقة رجعية أو تطليقتين فله أن يراجعها في عدتها رضيت بذلك أو لم ترض " لقوله تعالى: {فَأَمْسِكُوهُنَّ بِمَعْرُوفٍ} [البقرة: 231] من غير فصل ولا بد من قيام العدة لأن الرجعة استدامة الملك ألا ترى أنه سمى إمساكا وهو الإبقاء وإنما يتحقق الاستدامة في العدة لأنه لا ملك بعد انقضائها " والرجعة أن يقول راجعتك أو راجعت امرأتي " وهذا صريح في الرجعة ولا خلاف فيه بين الأئمة.(ج:2،ص:254،ط:دار احیاء التراث العربی،بیروت،لبنان)
وفیہ ایضاً:
وإذا كان الطلاق بائنا دون الثلاث فله أن يتزوجها في العدة وبعد انقضائها " لأن حل المحلية باق لأن زواله معلق بالطلقة الثالثة فينعدم قبله ومنع الغير في العدة لاشتباه النسب ولا اشتباه في إطلاقه " وإن كان الطلاق ثلاثا في الحرة أو ثنتين في الأمة لم تحل له حتى تنكح زوجا غيره نكاحا صحيحا ويدخل بها ثم يطلقها أو يموت عنها " والأصل فيه
قوله تعالى: {فَإِنْ طَلَّقَهَا فَلا تَحِلُّ لَهُ مِنْ بَعْدُ حَتَّى تَنْكِحَ زَوْجاً غَيْرَهُ} [البقرة: 230](ج:2،ص:257،ط:دار احیاء التراث العربی،بیروت،لبنان)