السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ!
درج ذیل معاملہ میں آپ کی رہنمائی درکار ہے :
ایک مسلمان والدین کے بیٹے نے کچھ سال پہلے ایک ہندو لڑکی سے شادی کرلی اور تاحال اس کواسلام قبول کیے بغیر اس کے ساتھ ازدواجی زندگی گزار رہا ہے ۔ والدین کئی سالوں اس سے قطع تعلق کیے رہیں۔مکر کچھ عرصے سے اس کی محبت میں اس سے تھوڑا بہت ملنا شروع کر چکے ہیں ۔مگر اس کی بیوی سے کوئی رابطہ نہیں ہے ۔ وہ جاننا چاہتے ہیں کہ ایسی صورت حال میں شریعت کہاں تک تعلق رکھنے کی اجازت دیتی ہے ۔ کیا ان والدین کو اپنے اس بیٹے سے مکمل قطع تعلق کرلیناچاہیۓ ؟ نیز کیا ایسی اولاد ان کی جائیداد میں اتنے ہی حصے کی حق دار ہے جتنا دوسرے بیٹے ۔ جزاک اللہ خیرا !
واضح ہو کہ کسی مسلمان شخص کا ایک ہندو لڑکی کے مسلمان ہوئے بغیر اس سے نکاح کرنا ناجائز و حرا م ہے ، اور ایسا نکاح شرعا منعقد ہی نہیں ہوتا، اس لیے مذکور لڑکا جتنا عرصہ اس ہندو لڑکی سے ساتھ رہے گا حرام میں مبتلا رہے گا،اور اس کے نتیجہ میں ہونے والی اولاد کا نسب بھی اس سے ثابت نہ ہوگا۔جبکہ مذکور لڑکا بار ہا سمجھائے جانے کے باوجود اگر اپنی اس غلطی پر مصر اور بضد ہو، اس ہندو لڑکی سے ہندو دھرم مانتے ہوئے بھی علیحدگی کے لیے تیار نہ ہو تا ہو، تو اس کے والدین کا قلبی محبت سے مغلوب ہوکر کبھی کبھار اس سے ملنے کی وجہ سے اگرچہ وہ گناہ گار نہیں ہوئے ، مگر انھیں چاہیئے کہ وہ اپنے اس بیٹے سے بالکلیہ لاتعلقی قائم ر کھیں ، تاکہ اسے اپنے اس فعل بد پر مزید تقویت نہ ملے ، اور دیگر لوگ اس فعل قبیح پر جری نہ ہوں ، اور ان کے دلوں میں اس ناجائز فعل کی نفرت کم نہ ہو،لیکن اگر وہ اس کی اصلاح اور سمجھانے کی غرض سے کبھی کبھار ملاقات کرے ، تو اس کی گنجائش ہوسکتی ہے ۔
تاہم اس لڑکے نے اگر خدانخواستہ ہندو مذھب اختیار کرلیا ہو، یا ھندو مذھب کو اختیار نہ کیا ہو ، لیکن وہ ہندو لڑکی سے نکاح کو حلال سمجھتے ہوئے ،اور اس کے حلال ہونے کا اعتقاد رکھتے ہوئے اس کے ساتھ اس عقد میں رہ رہا ہو، تو ایک حرام قطعی و ممنوع چیز کو حلال سمجھنے کی بنا پر وہ دائرہ اسلام سے خارج شمار ہوگا، اور والدین کی میراث میں اس کا کوئی حصہ نہ ہوگا، لیکن اگر اس نے کفریہ عقائد اختیار نہ کیے ہوں اور نہ ہی اس نکاح کو حلال سمجھتا ہو ، مگر نفسانی خواہشات سے مغلوب ہوکر اس کے ساتھ زندگی بسر کر رہا ہو، تو ایسی صورت میں اگرچہ وہ انتہائی گناہ گار ہوگا ، مگر والدین کے حصہ میراث سے محروم نہ ہوگا۔
کما فی تکملة فتح الملھم: ثم ان الھجران الممنوع انما ھو ماکان بسبب دنیوی اما اذا کان بسبب فسق المرء و عصیانه فاکثرالعلماء علی جوازہ (الی قوله)و حاصل ذلک ان الھجران انما یحرم اذا کان جھة غضب نفسانی اما اذا کان علی وجه التغلیظ علی المعصیة و الفسق او علی وجه التادیب کما وقع مع کعب بن مالک و صاحبیه او کما وقع لرسول اللہ ﷺ مع ازواجه(الی قوله) فانه لیس من الھجران الممنوع اھ (باب تحریم الھجر فوق ثلاث ج:5 ص:356 ناشر: مکتبة دارالعلوم کراتشی)
وفیھا ایضا: واجمع العلماء علی ان من خاف من مکالمة احد و صلته ما یفسد علیه دینه او یدخل مضرۃ فی دنیاہ یجوز له مجانبته و بعدہ، و رب صرم جمیل خیر من مخالطة توذیه اھ (باب تحریم الھجر فوق ثلاث ج:5 ص:356 ناشر: مکتبة دارالعلوم کراتشی)
وفی الدر المختار: قلت: وفي مجمع الفتاوى: نكح كافر مسلمة فولدت منه لا يثبت النسب منه ولا تجب العدة لأنه نكاح باطل اھ
وفی رد المحتار تحت: (قوله: لأنه نكاح باطل) أي فالوطء فيه زنا لا يثبت به النسب، بخلاف الفاسد فإنه وطء بشبهة فيثبت به النسب ولذا تكون بالفاسد فراشا لا بالباطل رحمتي، والله سبحانه أعلم اھ (فصل فی ثبوت النسب ج:3 ص:555 ناشر: حلبی)
وفی الفتاوی الھندیة: من اعتقد الحرام حلالا، أو على القلب يكفر أما لو قال لحرام: هذا حلال لترويج السلعة، أو بحكم الجهل لا يكون كفرا، وفي الاعتقاد هذا إذا كان حراما لعينه، وهو يعتقده حلالا حتى يكون كفرا أما إذا كان حراما لغيره، فلا وفيما إذا كان حراما لعينه إنما يكفر إذا كانت الحرمة ثابتة بدليل مقطوع به أما إذا كانت بأخبار الآحاد، فلا يكفر كذا في الخلاصة اھ ( مطلب فی موجبات الکفر ج:2 ص:272 ناشر:المطبعة الكبرى الأميرية ببولاق مصر )