میرا چھوٹا بھائی ایک لڑکی کو پسند کرتاہے، لیکن ابو اس رشتے کے لیے رضامند نہیں ہیں، اس کی وجہ سے ان دونوں کے درمیان بحث ہو رہی تھی۔ اس دوران امی نے درمیان میں آکر بحث کو روکنے کی کوشش کی تو ابو نے کہا: "اگر تم نے کبھی اس رشتے کی بات کی تو تم بھی فارغ ہو۔" اس کے بعد جب ہم نے کہا کہ آپ نے یہ کیا بات کہی ہے، اپنے الفاظ واپس لیں، تو ابو نے کہا: "میں نے کچھ غلط نہیں کہا، میرا وہ مطلب نہیں تھا۔" لیکن امی نے پھر بھی کہا کہ اگر وہ مطلب نہیں تھا تو اپنے الفاظ واپس لے لیں۔ اس پر ابو نے کہا: "واپس لیا۔" اب معلوم کرنا یہ ہے کہ کیا یہ الفاظ طلاق کے زمرے میں آئیں گے؟
واضح ہو كہ " فارغ " کا لفظ چونكہ عرف مىں طلاق صريح بائن كے لىئے استعمال ہوتاہے اور اس سے بغير نىت بھى طلاق واقع ہوجاتى ہے،لہذا صورت مسئولہ میں جب سائل کے والد نے اپنی بیوی کو مخاطب کرکے مذکور جملہ "اگر تم نے کبھی اس رشتے کی بات کی تو تم بھی فارغ ہو۔" کہہ دیا تو اس سے سائل کی والدہ پر ایک طلاق بائن معلق ہوچکی ہے، اور سائل کے والد کااپنے الفاظ واپس لینے سے یہ تعلیق ختم نہیں ہوتی بلکہ بدستور برقرار رہیگی ،اب اگر سائل کی والدہ نےاس رشتہ سے متعلق کوئی بات کی تو اس پر ایک طلاق بائن واقع ہوکر دونوں کا نکاح ختم ہوجائے گا، اور عدت مکمل ہونے کے بعد دوسری جگہ نکاح کرنے میں آزاد ہوگی ۔جس کے بعد ان دونوں کا ازداوجی حیثیت سے ساتھ رہنے کےلئے ( دوران عدت یا عدت مکمل ہونے بعد بھی)نئے حق مہر کے ساتھ باقاعدہ گواہان کی موجود گی میں باباضابطہ ایجاب وقبول کرکے تجدید نکاح لازم ہوگا، تاہم اس کے بعد سائل کے والد کے پاس فقط دوطلاقوں کا اختیار باقی رہیگا، اس لئے آئندہ طلاق کے معاملہ میں احتیاط کی ضرورت ہوگی۔
كما في الهداية: وإذا أضافه إلى شرط وقع عقيب الشرط مثل أن يقول لامرأته إن دخلت الدار فأنت طالق وهذا بالاتفاق( باب الايمان في اطلاق ج:٢ ص:٨١،ناشر: انعامية)
وفی الفتاوى الهندية: ولو قال لها إذا دخلت الدار أو إذا كلمت فلانا أو صليت الظهر أو إذا جاء رأس الشهر فأنت طالق اثنتين، ثم أقرت بالرق، ثم وجد الشرط طلقت اثنتين وملك الزوج رجعتها؛ لأن الرجوع عن التعليق لا يصح فلا يمكنه التدارك وإنما علق بشرط الرجعة فلو حرمت حرمة غليظة يتضرر بقولها. (باب السادس عشر في الإقرار بالنكاح،ج:4،ص:209)
بدائع الصنائع: والأصل الذي عليه الفتوى في زماننا هذا في الطلاق بالفارسية أنه إن كان فيها لفظ لا يستعمل إلا في الطلاق فذلك اللفظ صريح يقع به الطلاق من غير نية إذا أضيف إلى المرأة، مثل أن يقول في عرف ديارنا: دها كنم أو في عرف خراسان والعراق بهشتم؛ لأن الصريح لا يختلف باختلاف اللغات وما كان في الفارسية من الألفاظ ما يستعمل في الطلاق وفي غيره فهو من كنايات الفارسية فيكون حكمه حكم كنايات العربية في جميع الأحكام والله أعلم. (102/3، ط: دار الكتب العلمية)