کیا فرماتے ہیںٖ علماء کرام مندرجہ ذیل مسئلہ میں کہ ہم میاں بیوی کے درمیان بیٹے کی وجہ سے لڑائی ہورہی تھی، تو شوہر نے غصہ میں کہاکہ "میں چھوڑ کے جارہاہوں" تو میں نے کہا کہ ایک مہینے کے لئے کیوں جارہے ہو، کلیئر کرکے جاؤ ،فارغ کر کے چلے جاؤ، تو شوہر نے کہا کہ " میں تمہیں طلاق دے رہاہوں "یہ جملہ تین مرتبہ کہا ۔شوہر کا بھی یہی بیان ہے، موقع پر موجود بیٹی بعمر بارہ12سال ان کا بھی یہی بیان ہے، اب معلوم یہ کرنا ہے کہ اس صورت میں کتنی طلاقیں واقع ہوگئی اور اب آئندہ ہمارے لئے کیا حکم ہے ؟کیونکہ ہم ساتھ رہنا چاہتے ہیں ، جوبھی حکم ہو ،تحریر فرمائیں ۔
صورت مسئولہ میں سائلہ کےمطالبہ پراس کے شوہرنےجب مذکور جملہ "میں تمہیں طلاق دے رہا ہوں "تین مرتبہ کہہ دیا تو اس سے سائلہ پر تینوں طلاقیں واقع ہوکر حرمتِ مغلظہ ثابت ہوچکی ہے ، اب رجوع نہیں ہو سکتا، اور حلالۂ شرعیہ کے بغیر باہم عقدِ نکاح بھی نہیں ہوسکتا ، لہذا دونوں پر لازم ہے کہ فوراً ایک دوسرے سے علیحدگی اختیار کریں اور میاں بیوی والے تعلقات ہرگز قائم نہ کریں ، ورنہ دونوں سخت گناہ گار ہوں گے ، جبکہ عورت ایام عدت گزرنے کے بعد دوسری جگہ نکاح کرنے میں بھی آزاد ہے ۔اور حلالہ شرعیہ یہ ہے کہ عورت ایّام عدت گزارنے کے بعد بغیر کسی شرط کے کسی دوسرےمسلمان سے اپنا عقد نکاح کرے ، چنانچہ اگر وہ دوسراشخص بھی اسے ایک مرتبہ ہمبستری ( جو کہ حلالہ شرعیہ کے تحقق کے لئے ضروری ہے ) کے فوراً بعد یا ازدواجی زندگی کے کچھ عرصہ بعد طلاق دیدے یا طلاق تو نہ دے ، مگر شوہر کا پہلے انتقال ہو جائے ، بہر صورت اس کی عدت گزارنے کے بعد اگر وہ پہلے شوہر کے عقد نکاح میں آنا چاہے اور پہلا شوہر بھی اسے رکھنے پر رضا مند ہو تو نئے مہر کے تقرر کے ساتھ گواہوں کی موجودگی میں دوبارہ عقد نکاح کرکے باہم میاں بیوی کی حیثیت سے زندگی بسر کر سکتے ہیں ، تاہم حلالہ اس شرط کے ساتھ کرنا کہ زوج ثانی ہمبستری کے بعد بیوی کو طلاق دیگا ، تاکہ وہ زوج اول کے لئے دوبارہ حلال ہوجائے ، مکروہ تحریمی ہے اور اس پر احادیثِ مبارکہ میں وعیدیں وارد ہوئی ہیں، لہذا اس سے احتراز لازم ہے ، البتہ بلا شرط ایسا کرنا بلا شبہ جائز اور درست ہے۔
كما قال الله تعالى: {فَإِنْ طَلَّقَهَا فَلَا تَحِلُّ لَهُ مِنْ بَعْدُ حَتَّى تَنْكِحَ زَوْجًا غَيْرَهُ } [البقرة:٢٣٠]
وفي تفسير المظهرى: وقوله تعالى فَإِنْ طَلَّقَها فَلا تَحِلُّ له من بعد لان قوله تعالى الطلاق على هذا التأويل يشتمل الطلقات الثلاث أيضا وعلى كلا التأويلين يظهران جمع الطلقتين او ثلاث تطليقات بلفظ واحد أو بألفاظ مختلفة فى طهر واحدحرام بدعة مؤثم خلافا للشافعى فانه يقول لا بأس به- لكنهم أجمعوا على انه من قال لامراته أنت طالق ثلاثا يقع ثلاثابالإجماع اھ(سورة البقرة:٢٣٠،ج:١،ص:٣٣٤،ط:التراث)
و فی الہندیہ:رجل قال لامرأته أنت طالق أنت طالق أنت طالق فقال عنيت بالأولى الطلاق وبالثانية والثالثة إفهامها صدق ديانة وفي القضاء طلقت ثلاثا كذا في فتاوى قاضي خان اھ(الفصل الأول في الطلاق الصريح،ج:١،ص:٣٥٦،مط:ماجديه)
وفيها ايضاََ: وإذا قال لامرأته أنت طالق وطالق وطالق ولم يعلقه بالشرط إن كانت مدخولة طلقت ثلاثا وإن كانت غير مدخولة طلقت واحدة وكذا إذا قال أنت طالق فطالق فطالق أو ثم طالق ثم طالق أو طالق طالق كذا في السراج الوهاج اھ(الفصل الأول في الطلاق الصريح،ج:١،ص:٣٥٦،مط:ماجديه)
وفيها ايضاً : إذا كان الطلاق بائنا دون الثلاث فله أن يتزوجها في العدة وبعد انقضائها وإن كان الطلاق ثلاثا في الحرة وثنتين في الأمة لم تحل له حتى تنكح زوجا غيره نكاحا صحيحا ويدخل بها ثم يطلقها أو يموت عنها كذا في الهداية ولا فرق في ذلك بين كون المطلقة مدخولا بها أو غير مدخول بها كذا في فتح القدير اھ(فصل فيما تحل به المطلقة وما يتصل به،ج:١،ص:٤٧٣،ط:ماجدية)