میں اپنے بڑے بھائی کے ساتھ طلاق کا نوٹس بنوانے کے لئے ٹائپ رائٹر کے پاس گیا۔ میرے بھائی نے نوٹس لکھوایا اور میں ساتھ غم کی حالت میں کرسی پہ بیٹھ گیا۔ جب نوٹس ٹائپ ہو کر پرنٹ ہو گیا تو میرے بھائی نے مجھے کہا کہ اسے پڑھ کے اس پہ سائن کر دو۔ میں نے کہا ابھی میرا ارادہ نہیں ہے جب دل کرے گا اس پہ سائن کر دوں گا ابھی میں مزید سوچنا چاہتا ہوں۔ میں نے وہ نوٹس پڑھے بغیر اپنے پاس رکھ لیا اور تقریباً 1.5 ماہ بعد اس نوٹس پہ سائن کر دیے۔ یہ طلاق کب سے واقع ہو گی۔ 1۔ جب طلاق لکھی گئی مگر ارادہ نہیں تھا ؟2۔ یا جس دن ارادہ کیا اور اس کا اقرار کر کے اس پہ سائن کیے؟
صورتِ مسئولہ میں اگر سائل نے طلاق نامہ لکھے جانے سے قبل اپنے بڑے بھائی کو طلاق لکھوانے یا کاتب( رائٹر )کو لکھنے کی صراحتاً یا اشارۃً کسی بھی طریقے سے اجازت نہ دی ہو تو ایسی صورت میں کاتب کے لکھنے کے وقت سے طلاق واقع شمار نہ ہوگی ،بلکہ جس وقت سائل نے سائن کیے ہیں اس وقت سے، طلاق نامہ میں درج طلاقیں واقع ہوں گی۔ بصورت دیگر اگر سائل نے اجازت دی تھی تو لکھتے وقت ہی درج شدہ طلاقیں واقع ہو گئی تھیں اگرچہ سائل نے موقع پر دستخط نہ کیے ہوں ۔اس لئے واقعی صورتحال کو مدِ نظر رکھتے ہوئے اس کے مطابق ،طلاق سے متعلقہ احکام پر عمل کرنے کا اہتمام چاہئیے۔
کما فی الدر المختار: [فروع]كتب الطلاق، وإن مستبينا على نحو لوح وقع إن نوى، وقيل مطلقا، ولو على نحو الماء فلا مطلقا. ولو كتب على وجه الرسالة والخطاب، كأن يكتب يا فلانة: إذا أتاك كتابي هذا فأنت طالق طلقت بوصول الكتاب جوهرة الخ
و فی الشامیۃ تحت(قوله كتب الطلاق إلخ) قال في الهندية: الكتابة على نوعين: مرسومة وغير مرسومة، ونعني بالمرسومة أن يكون مصدرًا ومعنونًا مثل ما يكتب إلى الغائب. وغير المرسومة أن لايكون مصدرًا ومعنونًا، وهو على وجهين: مستبينة وغير مستبينة، فالمستبينة ما يكتب على الصحيفة والحائط والأرض على وجه يمكن فهمه وقراءته. وغير المستبينة ما يكتب على الهواء والماء وشيء لايمكنه فهمه وقراءته. ففي غير المستبينة لايقع الطلاق وإن نوى، وإن كانت مستبينةً لكنها غير مرسومة إن نوى الطلاق وإلا لا، وإن كانت مرسومة يقع الطلاق نوى أو لم ينو ثم المرسومة لا تخلو إما أن أرسل الطلاق بأن كتب: أما بعد فأنت طالق، فكما كتب هذا يقع الطلاق وتلزمها العدة من وقت الكتابة الخ (كتاب الطلاق مطلب في الطلاق بالكتابة ج:3 ص:247 ط: سعيد)۔