السلام علیکم!میرے شوہر سے میری شادی کو 4 سال ہو گئے ہیں۔ وہ کچھ پراپر کام نہیں کرتے، آن لائن کام کرتے ہیں، گھر بیٹھ کر، جس سے ہمارے گھر کا کرایہ بہت مشکل سے ادا ہوتا ہے، اور کھانا پینا اکثر لوگوں کے گھر سے مانگنے کے لیے بھیج دیتے ہیں۔میں نے اپنے ہزبنڈ کو جاب وغیرہ پر جانے کا کہا، لیکن وہ جاب نہیں کرنا چاہتے۔ گھر کا گزارہ بہت مشکل ہے۔میں نے پوچھنا یہ ہے کہ کیا ایسے ہزبنڈ سے ون سائیڈڈ خلع لے کر میں آزادی حاصل کر لوں تو کیا یہ خلع حلال ہوگی یا حرام ہوگی، جس میں شوہر کو علم بھی نہ ہو اور نہ وہ عدالت میں پیش ہو؟میری وکیل سے بات ہوئی ہے، وہ کہہ رہا ہے کہ 20 دن میں خلع ہو جائے گی، تو اس پر کیا حکم ہے؟ کنڈلی فتویٰ دے دیں۔
سوال میں ذکر کردہ بیان اگر واقعۃً درست اور مبنی بر حقیقت ہو،اس میں کسی قسم کی غلط بیانی سے کام نہ لیا گیا ہو تو خاوند کامذکور رویہ شرعاً درست نہیں، وہ حقوق واجبہ کی ادائیگی نہ کرنے کی وجہ سے گناہ گار ہورہاہے، اُسے اپنے اس ناجائز طرز عمل سے احتراز لازم ہے،البتہ جہاں تک یکطرفہ خلع کا تعلق ہے ،تو واضح ہو کہ خلع بھی دیگر عقود کی طرح ایک عقد ہے جس کے درست ہونے کیلئے فریقین کی باہمی رضامندی اور باقاعدہ ایجاب و قبول شرط ہے ، جبکہ عدالتی یک طرفہ خلع میں عموماً یہ شرط مفقود ہونے کی وجہ سے ایسی ڈگری شرعا معتبر نہیں ہوگی۔لہذسائلہ کو چاہئےکہ ا س معاملہ میں خاندان کے بڑوں کےذریعے اس کو سمجھا کر ادائیگی حقوق اور مذکور رویہ کے ترک پر آمادہ کریں ، اگر اس کے باوجودوہ اپنے رویہ پر قائم رہے تو سائلہ شوہر کو طلاق یا خلع پر آمادہ کریں تاکہ ہرایک اپنے بہتر مستقبل کا سوچ سکے۔تاہم اگر سائلہ کا شوہر سمجھانے کے باوجود نہ سائلہ کے حقوق ادا کرےاور نہ ہی سائلہ کو طلاق اور خلع دینے پر آمادہ ہوتو ایسی صورت میں سائلہ نان و نفقہ کی عدم ادائیگی کی بنیاد پر بذریعہ عدالت اپنا نکاح فسخ کراسکتی ہے،جس کا طریقہ کار یہ ہے کہ سائلہ اپنا مقدمہ مسلمان حاکم (حج) کے سامنے پیش کرے اور جس کے سامنے یہ مقدمہ پیش ہو وہ معاملہ کی شرعی شہادت وغیرہ کے ذریعے پوری تحقیق کرے اور اگر عورت کا دعویٰ صحیح ثابت ہو جائے تو اس کے خاوند سے کہا جاوے کہ اپنا گھر بسا کر بیوی کے حقوق ادا کرو یا طلاق دو ، ورنہ ہم تفریق کر دیں گے، اس کے باوجود اگر وہ ظالم کسی صورت پر عمل کرنے کو تیار نہ ہو تو بغیر کسی انتظار و مہلت کے قاضی اس کا قائم مقام بن کر اس کی بیوی پر طلاق واقع کر دے، چنانچہ ایسا کرنے سے اس عورت پر ایک طلاقِ بائن واقع ہو جائے گی اور وہ عورت عدت کے بعد اپنی مرضی سے دوسری جگہ نکاح بھی کر سکے گی، اور عدت کی ابتدا قاضی کے فیصلہ کے دن سے ہو گی۔
كما قال اللہ تعالیٰ: فَإِنْ خِفْتُمْ أَلَّا يُقِيمَا حُدُودَ اللَّهِ فَلَا جُنَاحَ عَلَيْهِمَا فِيمَا افْتَدَتْ بِهِ تِلْكَ حُدُودُ اللَّهِ فَلَا تَعْتَدُوهَا وَمَنْ يَتَعَدَّ حُدُودَ اللَّهِ فَأُولَئِكَ هُمُ الظَّالِمُونَ (البقرہ:٢٢٩)
وفی الدرالمختار:(ولا بأس به عند الحاجة) للشقاق بعدم الوفاق (بما يصلح للمهر)بغير عكس كلي لصحة الخلع بدون العشرة وبما في يدها وبطن غنمها وجوز العيني انعكاسها(باب الخلع،ج:٣ ،ص:٤٤١ ،مط:سعید)
وفیہ ایضا: (وكره) تحريما (أخذ شيء) ويلحق به الإبراء عما لها عليه (إن نشزاالخ۔(باب الخلع، ج: 3، ص: 445، مط:سعید)
وفی ردالمحتار: (قوله: للشقاق) أي لوجود الشقاق وهو الاختلاف والتخاصم. وفي القهستاني عن شرح الطحاوي: السنة إذا وقع بين الزوجين اختلاف أن يجتمع أهلهما ليصلحوا بينهما، فإن لم يصطلحا جاز الطلاق والخلع(باب الخلع،ج:٣،ص:٤٤١ ،مط:سعید)
وفیہ ایضا: (قوله: و شرطه كالطلاق) و هو أهلية الزوج و كون المرأة محلا للطلاق منجزا، أو معلقا على الملك و أما ركنه فهو كما في البدائع: إذا كان بعوض الإيجاب و القبول لأنه عقد على الطلاق بعوض، فلا تقع الفرقة، و لا يستحق العوض بدون القبول(باب الخلع،ج:٣،ص؛٤٤١،مط:سعید)
وفی حیلۃ الناجزۃ للحلیلۃ العاجزۃ: واما المتعنت الممتنع عن الانفاق ففی مجموع الامیر ما نصہ: ان منعھا نفقۃ الحال فلھا القیام فان لم یثبت عسرہ انفق أو طلق،والا طلق علیہ،قال محشیہ ای طلق علیہ الحاکم من غیر تلوم اھ(73)۔