مىرى شادى كو 6 مہىنے ہو گئىے، تو مىں نے اپنى بىوى كے ساتھ كوئى بات طلاق كى نہىں كى، اور نہ نىت تھى، نہ دىنے كا اراده تھا، مىرى ماں ماموں كے گھر گئى تھى، مىں امى كے پاس آىا ، ويسے مىں نے امى سے جھوٹ بولا كہ مىں نے تىرى بہو كو سات طلاق دے ديا ہے، طلاق دىنا نہىں چاہتا تھا ، مسئلہ كاپتہ نہىں تھا ، اور حمل بھى ٹھہرا ہوا ہے دو مہىنے كا ، جبكہ مىں نے بىوى كو كوئى طلاق نہىں دى تھى، اب معلوم كرنا ہے كہ اس صورت مىں طلاق واقع ہوگى كہ نہىں ؟ اور اب ہمارے لئے كىا حكم ہے؟
واضح ہوکہ طلاق کا جھوٹا اقرار کرنے سے بھی شرعاًطلاق واقع ہوجاتی ہے؛ یعنی اگر کوئی شخص اپنے بارے میں یہ اقرار کرے کہ “میں نے اپنی بیوی کو طلاق دے دی ہے” تو قضاءً اس کے اقرار کو معتبر مانا جاتا ہے اور طلاق مؤثراورواقع سمجھی جاتی ہے، اگرچہ حقیقت میں اس نے طلاق نہ دی ہو۔
لہٰذا صورتِ مسئولہ میں جب سائل نے اپنی والدہ کے سامنے یہ کہا کہ"میں نے اپنی بیوی کو سات طلاق دے دی ہیں"، تو یہ اقرار طلاق شمار ہوگا، اور چونکہ عدد (7 )کے ساتھ طلاق کا اقرارکیا ہے، چنانچہ اس کی بیوی پرتین طلاقیں واقع ہوکرحرمت مغلظہ ثابت ہوچکی اورباقی عدد(4)بیوی کے طلاق کامحل نہ ہونے کی وجہ سے لغوقرارپائے گا،اب رجوع نہیں ہو سکتا ہے، اور حلالۂ شرعیہ کے بغیر دوبارہ باہم عقد نکاح بھی نہیں ہو سکتا،
لہٰذاسائل اوراس کی بیوی دونوں پر لازم ہے کہ فوراً ایک دوسرے سے علیحد گی اختیار کریں اور میاں بیوی والے تعلق ہرگز قائم نہ کریں، ورنہ دونوں سخت گنہگار ہوں گے، جبکہ عورت ایام عدت (جو كه اس صورت مىں وضع حمل ہے) کے بعد دوسری جگہ نکاح کرنے میں آزاد ہوگى.
كما في المبسوط للسرخسي: (والثاني) أن من أقر بطلاق سابق يكون ذلك إيقاعا منه في الحال؛ لأن من ضرورة الاستناد الوقوع في الحال، وهو مالك للإيقاع غير مالك للإسناد.اهـ (باب من الطلاق، ج: 6، ص: 133، ط: مطبعة السعادة - مصر)
وفي موسوعة الفقه على المذاهب الأربعة: فذهب الحنفية والشافعية إلى أن من أقر بالطلاق كاذبا فإنه يقع قضاء لا ديانة، فتبقى زوجته في الباطن، وأما في حكم القضاء فإنها مطلقة؛ لأن الإقرار لا يقوم مقام الإنشاء، والإقرار إخبار محتمل للصدق والكذب، يؤاخذ عليه صاحبه ظاهرا، أما ما بينه وبين الله فالمخبر عنه كذبا لا يصير بالإخبار عنه صدقا، فلهذا لا يقع طلاقه باطنا.قال ابن نجيم رحمه الله: ولو أقر بالطلاق وهو كاذب وقع في القضاء. اهـ (كتاب الطلاق، ج: 17، ص: 246، ط: دار التقوى، القاهرة مصر)
وفي فتح القدير: وفي موطأ مالك: بلغه أن رجلا قال لعبد الله بن عباس: إني طلقت امرأتي مائة تطليقة فماذا ترى علي؟ فقال ابن عباس: طلقت منك ثلاثا وسبع وتسعون اتخذت بها آيات الله هزوا. وفي الموطأ أيضا: بلغه أن رجلا جاء إلى ابن مسعود فقال: إني طلقت امرأتي ثماني تطليقات، فقال: ما قيل لك. فقال: قيل لي بانت منك، قال: صدقوا، هو مثل ما يقولون وظاهره الإجماع على هذا الجواب.اهـ (كتاب الطلاق، ج: 3، ص: 469، ط: شركة مكتبة ومطبعة مصفى البابي الحلبي وأولاده بمصر)
وفي الدر المختار: (وكره) التزوج للثاني (تحريما) لحديث «لعن المحلل والمحلل له» (بشرط التحليل) كتزوجتك على أن أحللك (وإن حلت للأول) (إلى قوله) (أما إذا أضمر ذلك لا) يكره (وكان) الرجل (مأجورا) لقصد الإصلاح، وتأويل اللعن إذا شرط الأجر ذكره البزازي.اهـ (باب الرجعة، ج: 3، ص: 415، ط: إيج إيم سعيد)