السلام علیکم!میں امید کرتا ہوں آپ خیریت سے ہوں گے۔ میں ایک مسئلہ میں پھنس گیا ہوں، ایک بہت بڑی غلطی کر چکا ہوں اور چاہتا ہوں کہ آپ میری رہنمائی کریں۔میری کافی سال پہلے اپنی وائف سے لڑائی ہوئی، غصہ آیا اور میں نے اسے سنگل طلاق دے دی کہ ”میں تمہیں طلاق دیتا ہوں“۔ اکیلے میں صرف وہ اور میں تھے۔ جب غصہ ٹھنڈا ہوا تو دوبارہ رجوع کر لیا۔پھر کچھ سال بعد پھر سے میں نے ایسے ہی کچھ اختلافات کی وجہ سے دوبارہ لڑائی ہوئی اور غصے میں آ کر دوسری طلاق بھی دے دی، ”میں تمہیں طلاق دیتا ہوں“ دو اٹیمپٹس ہو گئیں۔اب کچھ دن پہلے میں کچھ معاملات کی وجہ سے پھر لڑائی بنی، اور اس وقت میں شدید غصے کی حالت میں تھا، بہت زیادہ جلال میں تھا، اور میں نے قرآن اپنے ہاتھ میں پہلے سے پکڑا ہوا تھا۔ وائف سے کسی بات پر پہلے ہی بحث ہو رہی تھی، کیونکہ وہ اپنے میکے کی وجہ سے جھوٹ بولتی تھی، اس لیے قرآن پر ہاتھ رکھ کر سچ جاننے کی کوشش کر رہا تھا۔پھر جب کوئی حل نہیں نکلا، بار بار جلال میں، طیش میں بولنے کے بعد کہ میری بیوی ٹھیک نہیں ہو رہی، ہماری بحث کا حل نہیں نکل رہا، وہ کہتی ہے میں صحیح ہوں اور میں کہتا ہوں میں صحیح ہوں، پھر میں نے قرآن پکڑ کر اپنی وائف کو 5 دفعہ کہا کہ ”میں نے تمہیں طلاق دی“اس وقت میری والدہ وہاں موجود تھیں۔ہمارے 3 بچے ہیں، 2 بیٹے ہیں اور ایک بیٹی ہے۔ بڑا بیٹا 10 سال کا ہے، چھوٹا بیٹا 8 سال کا اور بیٹی 6 سال کی ہے۔ وہ اپنے گھر نہیں جانا چاہتی اور میں بھی اس کے بغیر نہیں رہنا چاہتا، اور بچے بھی ہیں، تو کیا کوئی حل ہے؟میں سنی حنفی بریلوی مسلک سے تعلق رکھتا ہوں۔میری وائف اگر اپنے گھر چلی جائے گی تو اس کے ماں باپ شاید مر بھی سکتے ہیں، کیونکہ ہماری شادی پہلے ہی لف میرج تھی اور بہت مشکل سے ہوئی تھی، تو وہ اس کو ایکسیپٹ کریں، بہت کم چانس ہیں، اور بچے بھی ہیں، تو اگر کوئی حل نکل سکے بغیر حلالہ کے۔
واضح ہو کہ غصے کی حالت میں طلاق دینے سے بھی شرعاً طلاق واقع ہو جاتی ہے، لہٰذاصورت مسئولہ میں سائل نے اپنی بیوی کو پہلی مرتبہ جب مذکورصریح الفاظ ” میں تمہیں طلاق دیتا ہوں “کے ذریعےایک طلاق دیدی ،تواس سے اس کی بیوی پر ایک طلاق رجعی واقع ہو چکی تھی، پھر دورانِ عدت رجوع کرنے سے رجوع ہو چکاتھا، اور دونوں میاں بیوی کا نکاح حسب سابق برقرارتھا،تاہم آئندہ کے لئے سائل کو فقط دوطلاقوں کا اختیار حاصل تھا، لیکن اس کے کچھ عرصہ بعدجب سائل نے دوبارہ مذکور الفاط” میں تمہیں طلاق دیتا ہوں “کے ذریعےایک اور طلاق دیدی ،تواس سے سائل کی بیوی پر دوسری طلاق بھی واقع ہوچکی تھی اس کے بعداگر سائل نے دورانِ عدت رجوع کرلیاتھا تو دورانِ عدت رجوع کرنے سے رجوع ہو چکاتھا،تاہم آئندہ کے لئے سائل کو فقط ایک طلاق کا اختیار حاصل تھا، پھراس کے بعدجب سائل نے اپنی بیوی کومذکور الفاظ ” میں نے تمہیں طلاق دی “کے ذریعے پانچ مرتبہ طلاق دیدی ،تواس سے سائل کی بیوی پرتیسری طلاق بھی واقع ہوگئی،جوکہ سابقہ دوطلاقوں سے مل کر سائل کی بیوی پر مجموعی طور پر تینوں طلاقیں واقع ہوکر حرمتِ مغلظہ ثابت ہوچکی ہے، جبکہ بقیہ طلاقیں محل نہ ہونے کی وجہ سے لغو ہو چکی ہیں،چنانچہ اب رجوع نہیں ہوسکتا اور بغیرحلالۂ شرعیہ کے دوبارہ باہم عقدِ نکاح بھی نہیں ہوسکتا۔لہذا سائل اور اس کی بیوی پر لازم ہےکہ فوراً ایک دوسرے سے علیحدگی اختیار کریں اور میاں بیوی والے تعلقات ہرگز قائم نہ کریں ،ورنہ دونوں سخت گنہگار ہونگے ،جبکہ عورت ایام عدت گزار کر اپنی مرضی سے دوسری جگہ نکاح کرنے میں آزاد ہے۔
کما قال اللّٰہ تعالیٰ : اَلطَّلاَقُ مَرَّتٰنِ (الی قولہ) فَإِنْ طَلَّقَهَا فَلاَ تَحِلُّ لَہٗ مِنْ بَعْد حَتّٰی تَنْکِحَ زَوْجًا غَیْرَہٗ ۔الآیۃ(البقرۃ آیت : 229،230)
و في الفقه الاسلامي وادلته للزحيلى: طلاق الغضبان: يفهم مما ذكر أن طلاق الغضبان لا يقع إذا اشتد الغضب، بأن وصل إلى درجة لا يدري فيها ما يقول ويفعل ولا يقصده. أو وصل به الغضب إلى درجة يغلب عليه فيها الخلل والاضطراب في أقواله وأفعاله، وهذه حالة نادرة. فإن ظل الشخص في حالة وعي وإدراك لما يقول فيقع طلاقه، وهذا هو الغالب في كل طلاق يصدر عن الرجل؛ لأن الغضبان مكلف في حال غضبه بما يصدر منه من كفر وقتل نفس وأخذ مال بغير حق وطلاق وغيرها.( شروط الركن الأول وهو المطلِّق،ج:9،ص:6882،ط:دار الفكر)
وفی الفتاوی الھندیۃ: وإن كان الطلاق ثلاثا في الحرة وثنتين في الأمة لم تحل له حتى تنكح زوجا غيره نكاحا صحيحا ويدخل بها ثم يطلقها أو يموت عنها كذا في الهداية ولا فرق في ذلك بين كون المطلقة مدخولا بها أو غير مدخول بها كذا في فتح القدير ويشترط أن يكون الإيلاج موجبا للغسل وهو التقاء الختانين هكذا في العيني شرح الكنز،أما الإنزال فليس بشرط للإحلال۔اھ(کتاب الطلاق،ج:1،ص:473،ط:ماجدیۃ)۔