السلام علیکم ورحمۃ اللہ
کیا فرماتے ہیں علماء کرام اس بارے میں کہ ایک مسجد کی انتظامیہ نے 30 سال سے کم عمر کے افراد کی اعتکاف میں شمولیت پر پابندی لگا دی ہے حالانکہ یہ اطراف و اکناف میں کوئی دوسری جامع مسجد بھی ایسی نہیں کہ اتنی بڑی نوجوانوں کی تعداد معتکف ہو سکے
کیا یہ فیصلہ دور حاضر کے مطابق خلاف حکمت اور خلاف اصول نہیں ؟
دوسری بات کیا ہے شرعا ایسی پابندی لگانے کا ثبوت موجود ہے کہ بالغان پر اس طرح پابندی لگائی جا سکے؟
تیسری بات کے پابندی کی وجہ چند معتکف حضرات کی بدنظمی اس طور پر کہ حلقہ لگائے بیٹھ جائیں اور دیگر باتیں کریں کیا اس مسئلے کو انفرادی کاروائی اور حسن انتظام سے حل کرنا ممکن نہیں ؟
علماء کرام تفصیلا اس مسئلے کی شرعی وضاحت فرمائیں
سوال میں مذکورہ تفصیل کے مطابق مسجد کی انتظامیہ کے لیے بعض نوجوان معتکفین کی انتظامی بے ضابطگیوں کی بنا پر تیس سال سے کم عمر کے تمام بالغ افراد کے مسجد میں اعتکاف پر عمومی پابندی عائد کرنا شرعاً درست نہیں، بلکہ ناجائز عمل ہے، جس کو ختم کرنا انتظامیہ پر لازم اور ضروری ہے، جبکہ اعتکاف کے دوران بے ضابطگیوں اور مسجد کے تقدّس کی پامالی کو روکنے کے لیے ترغیب و ترہیب اور وعظ و نصیحت کے ساتھ مناسب تدبیر اختیار کی جاسکتی ہے۔
کما فی المجلة: مادة 58 التصرف على الرعية منوط بالمصلحة (ص: 22)
وفی بدائع الصنائع: ...أما ما يرجع إلى المعتكف فمنها: الإسلام والعقل والطهارة عن الجنابة والحيض والنفاس، وإنها شرط الجواز في نوعي الاعتكاف الواجب والتطوع جميعا... وأما البلوغ فليس بشرط لصحة الاعتكاف فيصح من الصبي العاقل؛ لأنه من أهل العبادة، كما يصح منه صوم التطوع.(كتاب الإعتكاف،فصل شرائط الإعتكاف،١٠٨/٢،ط:دارالكتب العلمية)