ایک شوہر نے اپنی بیوی کو طلاق دی، ان کے الفاظ یہ ہیں کہ "آپ کو طلاق، طلاق، طلاق دیتا ہوں"ایک جملے میں، بیوی ان دنوں میں ماں بننے والی تھی، تقریباً چھ ماہ بعد اس کی ایک بیٹی پیدا ہوئی ہے، مذکورہ بالا صورت میں کیا طلاق واقع ہو گئی؟ (اگر ہو گئی ہے)تو اب اگر یہ دونوں ساتھ رہنا چاہیں تو اس کی کیا صورت ہوگی؟ عدت، حلالہ، دوبارہ نکاح تمام صورتوں میں شرعی رہنمائی جواب کی صورت میں فرما دیں۔
صورت مسئولہ میں جب مذکورشخص نے اپنی بیوى کو مذکور الفاظ " آپ کو طلاق، طلاق، طلاق دیتا ہوں" کےذریعے تین طلاقیں دیدی ہیں، تو اس سے اس کی بیوی پر تینوں طلاقیں واقع ہوکر حرمتِ مغلظہ ثابت ہوچکی ہے ، اب رجوع نہیں ہو سکتا، اور حلالۂ شرعیہ کے بغیر باہم عقدِ نکاح بھی نہیں ہوسکتا ، لہذا دونوں پر لازم ہے کہ فوراً ایک دوسرے سے علیحدگی اختیار کریں اور میاں بیوی والے تعلقات ہرگز قائم نہ کریں ، ورنہ دونوں سخت گناہ گار ہوں گے ، جبکہ عورت ایام عدت گزرنے کے بعد دوسری جگہ نکاح کرنے میں بھی آزاد ہے ۔
حلالہ شرعیہ یہ ہے کہ عورت اپنے شوہر سے علیحد گی اور عدتِ طلاق گزرنے کے بعد بغیر کسی شرط کے کسی دوسرے مسلمان شخص سے نکاح کرے اور حقوق زوجیت ادا کرے ، اب اگر وہ دوسرا شخص بھی اس سے ایک مرتبہ ہمبستری (جو کہ حلالہ شرعیہ کے تحقیق کے لئے ضروری ہے) کے فوراً بعد یا ازدواجی زندگی کے کچھ عرصہ بعد طلاق دیدے یا بیوی سے پہلے شوہر کا انتقال ہو جائے ، بہر صورت اس کی عدت گزرنے کے بعد اگر وہ پہلے شوہر کے نکاح میں آنا چاہے اور پہلا شوہر بھی اس کو رکھنے پر رضا مند ہو تو نئے مہر کے تقرر کے ساتھ گواہوں کی موجودگی میں دوبارہ عقد نکاح کر کے باہم میاں بیوی کی حیثیت سے زندگی بسر کر سکتے ہیں ، تاہم حلالہ اس شرط کے ساتھ کرنا کہ زوج ثانی نکاح کے بعد طلاق دے تا کہ زوج اول کے لئے عورت دوبارہ حلال ہو جائے مکروہ تحریمی ہے اور احادیث مبارکہ میں ایسے عمل کرنے والوں کو ملعون قرار دیا گیا ہے، البتہ بغیر شرط کے بلا شبہ جائز اور درست ہے۔
كما قال الله تعالى: {فَإِنْ طَلَّقَهَا فَلَا تَحِلُّ لَهُ مِنْ بَعْدُ حَتَّى تَنْكِحَ زَوْجًا غَيْرَهُ } [البقرة:٢٣٠]
وفي تفسير المظهرى: وقوله تعالى فَإِنْ طَلَّقَها فَلا تَحِلُّ له من بعد لان قوله تعالى الطلاق على هذا التأويل يشتمل الطلقات الثلاث أيضا وعلى كلا التأويلين يظهران جمع الطلقتين او ثلاث تطليقات بلفظ واحد أو بألفاظ مختلفة فى طهر واحدحرام بدعة مؤثم خلافا للشافعى فانه يقول لا بأس به- لكنهم أجمعوا على انه من قال لامراته أنت طالق ثلاثا يقع ثلاثا بالإجماع اھ(سورة البقرة:٢٣٠،ج:١،ص:٣٣٤،ط:التراث)
و فی الہندیہ:رجل قال لامرأته أنت طالق أنت طالق أنت طالق فقال عنيت بالأولى الطلاق وبالثانية والثالثة إفهامها صدق ديانة وفي القضاء طلقت ثلاثا كذا في فتاوى قاضي خان اھ(الفصل الأول في الطلاق الصريح،ج:١،ص:٣٥٦،مط:ماجديه)
وفيها ايضاََ: وإذا قال لامرأته أنت طالق وطالق وطالق ولم يعلقه بالشرط إن كانت مدخولة طلقت ثلاثا وإن كانت غير مدخولة طلقت واحدة وكذا إذا قال أنت طالق فطالق فطالق أو ثم طالق ثم طالق أو طالق طالق كذا في السراج الوهاج اھ(الفصل الأول في الطلاق الصريح،ج:١،ص:٣٥٦،مط:ماجديه)
وفيها ايضاً : إذا كان الطلاق بائنا دون الثلاث فله أن يتزوجها في العدة وبعد انقضائها وإن كان الطلاق ثلاثا في الحرة وثنتين في الأمة لم تحل له حتى تنكح زوجا غيره نكاحا صحيحا ويدخل بها ثم يطلقها أو يموت عنها كذا في الهداية ولا فرق في ذلك بين كون المطلقة مدخولا بها أو غير مدخول بها كذا في فتح القدير اھ(فصل فيما تحل به المطلقة وما يتصل به،ج:١،ص:٤٧٣،ط:ماجدية)