کیا فرماتے ہیں علماء کرام مندرجہ ذیل مسئلہ میں ،کہ مجھے آج سے پندرہ سال قبل میرے شوہر نے میسج کے ذریعہ ایک طلاق سینڈ کردی تھی، کہ" میں نے تمہیں طلاق دی" لیکن میرے شوہر نے ایک مقامی مفتی صاحب کے سامنے حلفیہ بیان دیا تھا کہ یہ میسج میں نے نہیں کیا ہے، اور آج بھی وہ اپنی اس بات پر حلفیہ بیان دے رہا ہےکہ یہ میسج میں نے نہیں کیا ،اس کے بعد ہم دونوں میاں بیوی کی طرح رہتے رہے،پھر کچھ عرصہ بعد دوران لڑائی دو مرتبہ طلاق کے الفاظ بولے"شمائلہ میں تمہیں طلاق دیتا ہوں،طلاق دیتا ہوں"اس کے بعد ہم ساتھ رہے، ایک بچی بھی پیدا ہوئی، پھر لڑائی کے دوران میں نے اپنے شوہر کو کہا کہ "مجھے چھوڑدو"تو میرے شوہر نے کہا کہ "میں نے تمہیں چھوڑدیا"،اس کے بعد میں والدین کے گھر گئی،اور پھر عدالت سے یکطرفہ خلع حاصل کرلیا، اب معلوم یہ کرنا ہے کہ اس صورت میں ہمارے لئے کیا حکم ہے؟ اگر ہم اپنا گھر آباد کرنا چاہیں تو کیا طریقہ کار ہے؟
نوٹ :سائلہ اوراس کا شوہردونوں اس بیان پرمتفق ہیں ۔
صورتِ مسئولہ میں اگرواقعۃ سائلہ کاشوہر میسج کے ذ ریعہ بھیجی گئی طلاق کا منکرہو اور وہ اس بات پرحلفیہ بیان بھی دے چکا ہو، تو شرعاً اس میسج کی بنیاد پر کوئی طلاق واقع نہیں ہوئی، اس کے بعد لڑائی جھگڑے کے دوران سائلہ کے شوہر نے صریح الفاظ میں جب دو مرتبہ کہا"میں تمہیں طلاق دیتا ہوں، طلاق دیتا ہوں" تو ان الفاظ سے دو طلاق رجعی واقع ہوگئی تھیں، جس کے بعدشوہرکوعدت کے دوران رجوع کاحق حاصل تھا،چنانچہ اس کے بعدسائلہ اوراس کا شوہرچونکہ بدستور میاں بیوی کی طرح ساتھ رہے، اس لیے یہ رجوع درست ہوکر نکاح برقرار رہا۔پھر بعد میں بیوی کے مطالبہ پر شوہر نےجویہ الفاظ کہے "میں نے تمہیں چھوڑ دیا"تو یہ الفاظ عرفاً طلاقِ صریح کے لیے استعمال ہوتے ہیں، اس لیے اس سے تیسری طلاق بھی واقع ہوکرحرمت مغلظہ ثابت ہوچکی ہے،اب رجوع نہیں ہوسکتا،اورحلالہ شرعیہ کے بغیردوبارہ باہم عقدنکاح بھی نہیں ہوسکتا، لہذا دونوں پر لازم ہے کہ وہ ایک دوسرے سے علیحدگی اختیار کرے، اور میاں بیوی والے تعلقات ہرگز قائم نہ کرے ورنہ وہ دونوں سخت گناہ گار ہوں گے، جبکہ سائلہ عدت گزارنے کے بعددوسری جگہ نکاح کرنے میں بھی آزادہوگی۔
اور حلالہ شرعیہ یہ ہے کہ عورت اپنے شوہر سے علیحدگی اور عدتِ طلاق گزارنے کے بعد بغیر کسی شرط کے کسی دوسرے مسلمان شخص سے نکاح کرے ، چنانچہ اگر وہ دوسرا شخص بھی اس سے ایک مرتبہ ہمبستری (جو کہ حلالۂ شرعیہ کے تحقق کے لئے ضروری ہے) کے فوراً بعد یا ازدواجی زندگی کے کچھ عرصہ بعد طلاق دیدے یا بیوی سے پہلے شوہر کا انتقال ہو جائے، بہردوصورت اس کی عدت گزارنے کے بعد اگر وہ پہلے شوہر کے نکاح میں آنا چاہے اور پہلا شوہر بھی اس کو رکھنے پر رضامند ہو تونئے مہر کے ساتھ گواہوں کی موجودگی میں دوبارہ عقدِ نکاح کر کے باہم میاں بیوی کی حیثیت سے زندگی بسر کر سکتے ہیں ،تاہم حلالہ اس شرط کے ساتھ کرنا کہ زوجِ ثانی بیوی کو نکاح کے بعد طلاق دیدے گا تا کہ وہ زوجِ اول کے لئے حلال ہو جائے مکروہ تحریمی ہے ، جس پر احادیثِ مبارکہ میں سخت وعیدیں وارد ہوئی ہیں، البتہ بغیر کسی شرط کے اس کے ساتھ نکاح کر نا بلاشبہ جائز اور درست ہے۔
کما جاء فی التنزیل العزیز: فَإِن طَلَّقَهَا فَلَا تَحِلُّ لَهُۥ مِنۢ بَعۡدُ حَتَّىٰ تَنكِحَ زَوۡجًا غَيۡرَهُ ۥۗ ، الآیۃ (البقرۃ:230)
وفی صحیح البخاری: عن عائشة، أن رجلا طلق امرأته ثلاثا، فتزوجت فطلق، فسئل النبي صلى الله عليه وسلم: أتحل للأول؟ قال: "لا حتى يذوق عسيلتها كما ذاق الأول"(کتاب الطلاق،باب من اجاز طلاق الثلاث،ج:5،ص:2014،ط:دار ابن الکثیر،رقم:4961)
وفی الدرالمختار: وذهب جمهور الصحابة والتابعين ومن بعدهم من أئمة المسلمين إلى أنه يقع ثلاث.(ج:3،ص:233،مط: سعید)
وفی الھندیۃ: متى كرر لفظ الطلاق بحرف الواو أو بغير حرف الواو يتعدد الطلاق۔(ج:1،ص:156،مط:ماجدیہ)
و فی الشامیۃ: ويدل على ذلك ما ذكره البزازي عقب قوله في الجواب المار إن المتعارف به إيقاع البائن لا الرجعي، حيث قال ما نصه: بخلاف فارسية قوله سرحتك وهو " رهاء كردم " لأنه صار صريحا في العرف على ما صرح به نجم الزاهدي الخوارزمي في شرح القدوري اهـ(کتاب الطلاق،باب الکنایات،ج:3،ص:299،ط:سعید)