کیا فرماتے ہیں علماء کرام مندرجہ ذیل مسئلہ میں کہ میری بیٹی کا نکاح ایک لڑکے سے دونوں گھرانوں کی رضامندی سے آج سے تقریباً تین سال قبل ہوگیا تھا،لیکن نکاح کے بعد سے اب تک رخصتی کا مطالبہ نہیں تھا نہ ہی ہماری طرف سے کوئی ممانعت اور رکاوٹ تھی، لیکن اب اچانک انہوں نے اپنے کپڑے وغیرہ واپس منگوالئے کہ ہم خود لڑکی کے کپڑے سلائی کراکے شادی کے موقع پر لائیں گے، وہ کپڑے انگوٹھی لیکر چلے گئے اب وہ کہتے ہے کہ ہم لڑکی کو چھوڑنا چاہتے ہیں تین طلاق دینا چاہتے ہیں اور یہ سب کچھ بلا وجہ کررہے ہیں ، تو معلوم یہ کرنا ہے کہ اس صورت میں میری بیٹی کے حق مہر دو تولہ سونا اور تین سال کے نان نفقہ کا کیا حکم ہے یہ بنتا ہے کہ نہیں ؟جبکہ ہم لوگ اب رشتہ دینے اور رخصتی کرانے کے لئے تیار ہیں لیکن ان لوگوں کی طرف سے بلا وجہ انکار ہے اس سلسلے میں جو بھی شرعی حکم ہو تحریر فرمائیں، (نوٹ)ان کے کہنے پر ملازمت بھی چھوڑ دی تھی۔
واضح ہوکہ نکاح کا رشتہ اللہ تعالیٰ کی بہت بڑی نعمت اور سکون کی زندگی گزارنے کا ایک بہترین ذریعہ ہے، لہذا میاں بیوی کو حتی الامکان اس رشتے کو نبھانےکے لیے ہر ممکن صورت اختیار کرنی چاہیے اور بغیر کسی عذر کے طلاق کے ذریعے نکاح جیسی عظیم نعمت کو ختم نہیں کرنا چاہئے۔تاہم اگر پھر بھی کسی وجہ سے میاں بیوی رخصتی سے پہلے اس رشتہ کو ختم کرنا چاہتے ہوں تو اس کا بہتر طریقہ یہ کہ شوہر بیوی کو ایک طلاق دے کر اپنے رشتہ ازدواج سے آزاد کردے، البتہ اس صورت میں رخصتی اور خلوت صحیحہ سے پہلے طلاق کی وجہ سے عورت نصف مہر کی مستحق ہوگی،جبکہ نکاح ہوجانے کے بعد بیوی کا نان و نفقہ اگر چہ شوہر پر لازم ہوجاتاہے لیکن اگر نان ونفقہ کی مقدار اور ہر ماہ یا مقررہ عرصہ کے دوران اس کی ادئیگی باہم طے شدہ نہ ہو تو گزرے زمانے کا نان ونفقہ شوہر پر لازم نہیں ہوتا، لہذا مذکور صورت میں اگر تین سال تک شوہر نے نفقہ ادا نہیں کیا اور وہ باہم طے شدہ بھی نہ تھا تو اب سائل کا ان سے ان تین سالوں کے نفقہ کا مطالبہ درست نہ ہوگا ۔
کما فی القرآن الکریم: وَإِن طَلَّقۡتُمُوهُنَّ مِن قَبۡلِ أَن تَمَسُّوهُنَّ وَقَدۡ فَرَضۡتُمۡ لَهُنَّ فَرِيضَةٗ فَنِصۡفُ مَا فَرَضۡتُمۡ سورۃ البقرۃ ،آیۃ نمبر237)
وفی الدر المختار:(ولو هي في بيت أبيها) إذا لم يطالبها الزوج بالنقلة به يفتى؛ وكذا إذا طالبها ولم تمتنع أو امتنعت (للمهر أو مرضت في بيت الزوج) فإن لها النفقة استحسانا لقيام الاحتباس اھ( کتاب الطلاق،النفقۃ،ج:3،ص:575،مط: ایچ ایم سعید)
وفی رد المحتار تحت قوله ولو هي في بيت أبيها) تعميم لقوله فتجب للزوجة، وهذا ظاهر الرواية، فتجب النفقة من حين العقد الصحيح وإن لم تنتقل إلى منزل الزوج إذا لم يطلبها. وقال بعض المتأخرين: لا تجب ما لم تزف إلى منزله، وهو رواية عن أبي يوسف واختاره القدوري وليس الفتوى عليه، وتمامه في الفتح (قوله إذا لم يطالبها إلخ) الأخصر والأظهر أن يقول به يفتى إذا لم تمتنع من النقلة بغير حق إلخ (کتاب الطلاق باب النفقۃ،ج:3،ص:575،مط:ایط ایم سعید)
وفی الدر المختار ایضاً: (والنفقة لا تصير دينا إلا بالقضاء أو الرضا) أي اصطلاحهما على قدر معين أصنافا أو دراهم، فقبل ذلك لا يلزم شيء، وبعده ترجع بما أنفقت ولو من مال نفسها بلا أمر قاض.اھ(کتاب الطلاق باب النفقۃ،ج:3،ص:594 ،مط:ایط ایم سعید)
و فی الرد تحت (قوله والنفقة لا تصير دينا إلخ) أي إذا لم ينفق عليها بأن غاب عنها أو كان حاضرا فامتنع فلا يطالب بها بل تسقط بمضي المدة. قال في الفتح: وذكر في الغاية معزوا إلى الذخيرة أن نفقة ما دون الشهر لا تسقط فكأنه جعل القليل مما لا يمكن الاحتراز عنه، إذ لو سقطت بمضي يسير من الزمان لما تمكنت من الأخذ أصلا. اهـ ومثله في البحر، وكذا في الشرنبلالية عن البرهان ووجهه في غاية الظهور لمن تدبر فافهم(کتاب الطلاق، باب النفقۃ،ج:3،ص:594 ،مط:ایط ایم سعید)