کیا فرماتے ہیں علماء کرام مندرجہ ذيل مسئلہ میں کہ میں مسماة شبانہ رحمن کو میرے شوہر مسمى مؤمن خان نے تحریری طور پر تین طلاق دی ہے، تو معلوم یہ کرنا ہے کہ ىہ طلاقىں واقع ہوئی کہ نہیں؟ اور میرے حق مہر کا کیا حکم ہے ؟حق مہر تین تولہ سونا کی ادائیگی ان کی ذمہ لازم ہے کہ نہیں؟ اور عدت کے خرچہ کا کیا حكم ہے؟
صورت مسئولہ میں جب سائلہ کے شوہر نے اسے منسلکہ طلاق نامہ کے ذریعہ تحریری طور پر تین طلاقیں دیدی ہیں، تو اس سے سائلہ پر تینوں طلاقیں واقع ہوکر حرمتِ مغلظہ ثابت ہوچکی ہے،اب رجوع نہیں ہوسکتا اور حلالہ شرعیہ کے بغیر دوبارہ باہم عقدِ نکاح بھی نہیں ہوسکتا، لہذا دونوں پر لازم ہے کہ فوراً ایک دوسرے سے علیحد گی اختیار کریں اور میاں بیوی والے تعلقات ہرگز قائم نہ کریں ورنہ سخت گناه گار ہوں گے، جبکہ عورت ایام عدت گزارنے کے بعد دوسری جگہ نکاح کرنے میں بھی آزاد ہوگی ۔جبکہ طلاق ہو جانے کی صورت میں اگر اب تک شوہر نے سائلہ کا حق مہر ادا نہ کیا ہو، تو اس پر مقرر شدہ مہر کی ادائیگی لازم ہو گی ۔ نیز سائلہ اگر عدت کے ایام شوہر کے گھر ہی میں گزار رہی ہو یا شوہر کی رضامندی سے میکے میں گزار رہی ہو ، توبہر دو صورت عدت کا خرچہ دینا شوہر پر لازم ہوگا ، البتہ سائلہ اگر شوہر کی طرف سے عدت گزارنے کے لئے رہائش وغیرہ کا بند و بست ہونے کے باوجود اپنی مرضی سے دوسری کسی جگہ چلی جاتی ہے اور عدت شوہر کے گھر نہیں گزارتی تو ایسی صورت میں ایامِ عدت کا نان نفقہ شوہر پر لازم نہ ہوگا ۔
كما في القران الكريم: ﴿فَإِن طَلَّقَهَا فَلَا تَحِلُّ لَهُۥ مِنۢ بَعۡدُ حَتَّىٰ تَنكِحَ زَوۡجًا غَيۡرَهُۥۗ﴾ [سورة البقرة: 230]
وفي صحيح البخاري: عن عائشة رضي الله عنها، «أن رجلا طلق امرأته ثلاثا، فتزوجت فطلق، فسئل النبي صلى الله عليه وسلم: أتحل للأول؟ قال: لا، حتى يذوق عسيلتها كما ذاق الأول. اهـ [كتاب الطلاق، باب من أجاز طلاق الثلاث، رقم الحديث (٥٢٦١) ج:7 ص: 43 ط: بالمطبعة الكبرى الأميرية ببولاق مصر المحمية سنة 1311 ه]
وفي الهداية: وطلاق البدعة أن يطلقها ثلاثا بكلمة واحدة أو ثلاثا في طهر واحد فإذا فعل ذلك وقع الطلاق وكان عاصيا اهـ [كتاب الطلاق، باب طلاق السنة، ج:1 ص:221 ط: دار إحياء التراث العربي بيروت)]
وفي رد المحتار: (قوله: كتب الطلاق إلخ) قال في الهندية: الكتابة على نوعين: مرسومة وغير مرسومة، ونعني بالمرسومة أن يكون مصدرا ومعنونا مثل ما يكتب إلى الغائب، (إلى قوله) وإن كانت مرسومة يقع الطلاق نوى أو لم ينو اهـ [كتاب الطلاق، مطلب في الطلاق بالكتابة، فروع، ج:3 ص:246 ط: ايچ ايم سعيد)]
وفي الدر المختار: (وتعتدان) أي معتدة طلاق وموت (في بيت وجبت فيه) ولا يخرجان منه (إلا أن تخرج أو يتهدم المنزل، أو تخاف) انهدامه، أو (تلف مالها، أو لا تجد كراء البيت) ونحو ذلك من الضرورات فتخرج لأقرب موضع إليه اهـ (كتاب الطلاق، فصل في الحداد، ج: 3، ص: 536، ط: سعيد)
وفي الفتاوى الهندية: المعتدة عن الطلاق تستحق النفقة والسكنى كان الطلاق رجعيا أو بائنا، أو ثلاثا حاملا كانت المرأة، أو لم تكن كذا في فتاوى قاضي خان الأصل أن الفرقة متى كانت من جهة الزوج فلها النفقة، وإن كانت من جهة المرأة إن كانت بحق لها النفقة، وإن كانت بمعصية لا نفقة لها، وإن كانت بمعنى من جهة غيرها فلها النفقة اهـ (كتاب الطلاق، الباب السابع عشر في النفقات، الفصل الثالث في نفقة المعتدة، ج 1، ص 557، ط: دار الفكر، بيروت)
وفي البحر الرائق: المعتدة إذا خرجت من بيت العدة تسقط نفقتها ما دامت على النشوز فإن عادت إلى بيت الزوج كان لها النفقة والسكنى، ثم الخروج عن بيت العدة على سبيل الدوام ليس بشرط لسقوط نفقتها فإنها إذا خرجت زمانا وسكنت زمانا لا تستحق النفقة اهـ (کتاب الطلاق، باب النفقة، ج4، ص 217، ط: دار الكتاب الإسلامي)