السلام علیکم! میں اپنی شادی کی موجودہ حیثیت کے بارے میں ایک باضابطہ شرعی حکم (فتویٰ) جاننے کے لیے لکھ رہا ہوں، جو ان تین واقعات کے بعد پیدا ہوئی ہے جن میں لفظ "طلاق" استعمال کیا گیا۔ ہم شدید فکرمند ہیں اور اس بات کو یقینی بنانا چاہتے ہیں کہ ہماری ازدواجی زندگی شریعت کے حدود کے اندر رہے۔واقعہ 1:استعمال شدہ الفاظ: "میں تمہیں طلاق دیتا ہوں۔"شوہر کی کیفیت: شوہر کا دعویٰ ہے کہ اس نے یہ الفاظ صرف دھمکانے یا جھگڑا ختم کرنے کے لیے کہے تھے، اور شادی ختم کرنے کا کوئی حقیقی ارادہ نہیں تھا۔واقعہ 2:استعمال شدہ الفاظ: "میں تمہیں طلاق دیتا ہوں۔"شوہر کی کیفیت: یہ الفاظ جھگڑے کے دوران پورے ارادے کے ساتھ کہے گئے تھے۔واقعہ 3 (سب سے حالیہ):پس منظر: ہمارے درمیان سخت بحث و تکرار ہو رہی تھی۔ میری بیوی نے مجھے کمرے سے باہر جانے سے جسمانی طور پر روکا اور توہین آمیز الفاظ اور تھپڑ مار کر مجھے اشتعال دلایا۔ میں نے اسے خبردار کیا: "اگر تم نے مجھے ایک بار اور تھپڑ مارا تو میں تمہیں طلاق دے دوں گا۔" اس نے مجھے دوبارہ تھپڑ مارا۔الفاظ کی ادائیگی: شدید اور بے قابو غصے کی حالت میں، میں نے کہا: "میں تمہیں طلاق دیتا ہوں۔"ذہنی کیفیت (اغلاق): اس لمحے، مجھے محسوس ہوا کہ میں "اپنے ہوش و حواس میں نہیں ہوں" اور اشتعال انگیزی کی وجہ سے پھنس گیا ہوں۔ الفاظ ادا ہوتے ہی مجھے فوراً پچھتاوا ہوا اور میں اپنی بیوی کے ساتھ رونے لگا۔ ہم شادی ختم نہیں کرنا چاہتے تھے لیکن اس لمحے کی شدت کی وجہ سے خود کو مجبور محسوس کیا۔دارالافتاء المصریہدارالافتاء المصری+4ہمارے سوالات:کیا شدید اشتعال انگیزی اور "اغلاق" (ذہنی کیفیت کا مفلوج یا بند ہو جانا) کی حالت کے پیشِ نظر تیسری بار کہے گئے الفاظ (طلاق) مؤثر/نافذ ہوں گے؟کیا پہلے واقعے میں شوہر کا یہ دعویٰ کہ "کوئی ارادہ نہیں تھا" اس طلاق کے نفاذ پر اثر انداز ہوتا ہے؟کیا ہم اسلامی قانون کے مطابق اب بھی میاں بیوی ہیں؟اسلام ویب ، تفصیلات: مسلک/مکتبہ فکر: [حنفی، لیکن میں کسی مخصوص مسلک کے بارے میں سخت گیر نہیں ہوں، قرآن و سنت کی پیروی کرنا چاہتا ہوں]مقام: ملتان، پاکستانشادی کا دورانیہ: [تقریباً ایک سال ہونے والا ہے]اولاد: [ابھی کوئی اولاد نہیں ہے لیکن میری بیوی اس وقت سات ماہ کی حاملہ ہے]
واضح ہو کہ غصہ کی حالت میں بھی طلاق دینے سے شرعاً طلاق واقع ہوجاتی ہے ، لہذا صورت مسئولہ میں جب سائل نے مختلف مواقع میں تین مرتبہ اپنی بیوی کو مذکورہ الفاظ"میں تمہیں طلاق دیتاہوں" کہہ دیے ،اور پہلے دو طلاقوں میں سے ہر ایک طلاق کے بعد دوران عدت رجوع بھی کر چکاہو ، تو اس سے اس کی بیوی پر تینوں طلاقیں واقع ہوکر حرمتِ مغلظہ ثابت ہوچکی ہے، اب رجوع نہیں ہوسکتا اور حلالۂ شرعیہ کے بغیر دوبارہ باہم عقدِ نکاح بھی نہیں ہوسکتا ، لہذا دونوں پر لازم ہے کہ فوراً ایک دوسرے سے علیحدگی اختیار کریں اور میاں بیوی والے تعلقات ہرگز قائم نہ کریں ، ورنہ دونوں سخت گناہ گار ہونگے ، جبکہ عورت ایامِ عدت (جو کہ صورت مسئولہ میں وضع حمل ہے)گزارنے کے بعد اپنی مرضی سے دوسری جگہ نکاح کرنے میں بھی آزاد ہے۔
کما فی احکام القرآن للجصاص : قال أبو بكر: قوله تعالى : (الطلاق مرتان فإمساك بمعروف أو تسريح بإحسان) الآية، تدل على وقوع الثلاث معا مع كونه منهيا عنها اھ ( سورۃ البقرۃ، ایت : 230، ج:2، ص: 83،ناشر: بیروت)
و فیہ ایضاً : فالكتاب والسنة وإجماع السلف توجب إيقاع الثلاث معا و إن كانت معصية اھ ( سورۃ البقرۃ، ایت : 230، ج:2، ص: 84،ناشر: بیروت)
و فی الشامیۃ : و ذهب جمهور الصحابة و التابعين و من بعدهم من أئمة المسلمين إلى أنه يقع ثلاث اھ (کتاب الطلاق، ج:3،ص:233، ناشر:سعید)
وفي الفتاوى الهندية: وإن كان الطلاق ثلاثا في الحرة وثنتين في الأمة لم تحل له حتى تنكح زوجا غيره نكاحا صحيحا ويدخل بها ثم يطلقها أو يموت عنها كذا في الهداية ولا فرق في ذلك بين كون المطلقة مدخولا بها أو غير مدخول بها كذا في فتح القدير. اهـ [الباب السادس في الرجعة وفيما تحل به المطلقة وما يتصل به، فصل فيما تحل به المطلقة وما يتصل به، ج:١ ص: ٤٧٣ ط: رشيدية]
وفی بدائع الصنائع : وحال الغضب ومذاكرة الطلاق دليل إرادة الطلاق ظاهرًا فلايصدق في الصرف عن الظاهر اھ(كتاب الطلاق،ج:3، ص: 102، ط:سعید)