کیا فرماتے ہیں مفتیاں کرام اس مسئلے کے بارے میں کہ ہماری شادی کو ایک سال ہوچکاہے ، جس سے ہمارا ایک بیٹا بھی ہے، ابھی تقریباً پانچ چھ دن پہلے میری ساس کی وجہ سے ہمارے درمیاں کچھ لڑائی جھگڑا ہوا، جس میں میں نےاپنی بیوی کو یہ جملہ (میں نے تجھے طلاق دی ) تین بار کہہ دیا ، اس صورت میں کتنی طلاقیں واقع ہو گئی ؟ رجوع کی کوئی گنجائش ہے یا نہیں ؟ جبکہ طلاق کی وجہ بھی میری بیوی نہیں، بلکہ ساس ہے۔
صورت مسئولہ میں جب سائل نے واضح الفاظ میں اپنی بیوی کو مذکورجملہ 'میں نے تجھے طلاق دی 'تین بار کہہ دیاہے ، تو اس سے سائل کی بیوی پر مجموعی طور پر تینوں طلاقیں واقع ہوکر حرمت مغلظہ ثابت ہو چکی ہے، اگرچہ طلاق کی وجہ سائل کی بیوی کے بجائے اس کی ساس ہی بنی ہو، لہٰذا اب رجوع کی گنجائش باقی نہیں رہی ، اس لئے سائل اور اس کی بیوی دونوں پر لازم ہے ، کہ ایک دوسرے سے فوراً علیحدگی اختیار کریں ، اور میاں بیوی والا تعلق ہر گز قائم نہ کریں ، ورنہ دونوں گنہگار ہوں گے، جبکہ عورت ایام عدت گزرنے کے بعد دوسری جگہ نکاح کرنے میں بھی آزاد ہوگی۔
کمافی التنزیل :ٱلطَّلَٰقُ مَرَّتَانِۖ (الي قوله) (فَإِن طَلَّقَهَا فَلَا تَحِلُّ لَهُۥ مِنۢ بَعۡدُ حَتَّىٰ تَنكِحَ زَوۡجًا غَيۡرَهُۥ
وفی صحیح البخاری: وقال الليث، عن نافع: كان ابن عمر إذا سئل عمن طلق ثلاثا قال: لو طلقت مرة أو مرتين، فإن النبي صلى الله عليه وسلم أمرني بهذا، فإن طلقتها ثلاثا حرمت حتى تنكح زوجا غيرك(باب من قال لامراتہ انت علی حرام،ج:5، ص : 2015،ناشر:دارالیمامۃ)
وفی الھدایۃ: الطلاق على ضربين صريح وكناية فالصريح قوله أنت طالق ومطلقة وطلقتك فهذا يقع به الطلاق الرجعي" لأن هذه الألفاظ تستعمل في الطلاق ولا تستعمل في غيره فكان صريحا اھ (کتاب الطلاق، ج:1 ص: 225،ناشر: بیروت)