اگر کسی کی بیوی جس کے تین بچے بھی ہو اور وہ کسی غیر مرد سے فون پر بات کرتی ہو دو تین سالوں سے اپنے شوہر سے چھپ کر، تو اس کے لیے شریعت میں کیا حکم ہے؟ اور پکڑے جانے کے بعد وہ بولے کے میں نے توبہ کر لی ہے اب میں ایسا کبھی نہیں کرونگی تو اسے ساتھ رکھا جائے یا ہمیشہ کے لیے چھوڑ دیا جائے ۔
سائل کا بیان اگر واقعۃًدرست اور مبنی بر حقیقت ہو ، تو مذکور عورت کا کسی غیر مرد کیساتھ موبائل پر بات چیت کرنا اور دوستانہ تعلق رکھنا ناجائز اور حرام عمل ہے، جس کی وجہ سے وہ سخت گناہ گا ر ہوئی ہے ، اس پر لازم ہے کہ اپنے اس گناہ پر بصدق دل توبہ واستغفار کے ساتھ ساتھ شوہر سے بھی معافی مانگے اور آئندہ دوبارہ اس قسم کے ناجائز تعلقات سے مکمل اجتناب کرے ، چنانچہ اگر مذکور عورت توبہ تائب ہوجائے، اور آئندہ کے لیئے غیر مردوں سے بات چیت اور تعلق نہ رکھنے کی یقین دہانی کرائے اور شوہر کو اسکی بات پر اعتماد ہو تو ایسی صورت میں بیوی کو طلاق دینے کے بجائے اسے معاف کردینا چاہیئے، بصورت دیگر شوہر اس کو ایک طلاق دیکر اپنی زوجیت سے علیحدہ بھی کرسکتا ہے، اس صورت میں شوہر گناہ گار بھی نہ ہوگا۔
کمافی الاحکام القرآن للجصاص: ولهن مثل الذي عليهن بالمعروف وللرجال عليهن درجة والله عزيز حكيم: قال أبو بكر رحمه الله أخبر الله تعالى في هذه الآية أن لكل واحد من الزوجين على صاحبه حقا(الاقولہ) واللاتی تخافون نشوزھن فعظوھن واھجروھن فی المضاجع واضربوھن، فان اطعنکم فلاتبتغوا علیھن سبیلاً، یدل علیٰ ان علیھا طاعتہ فی نفسھا وترک النشوز علیہ الخ(باب حقوق الزوج علیٰ المراۃ وحقوق المراۃ علیٰ الزوج اھ (ج:1، ص:374، ط: سہیل اکیڈمی)۔
وفی الدر المحتار: "لا يجب على الزوج تطليق الفاجرة.
وفی رد المحتار تحت (قوله لا يجب على الزوج تطليق الفاجرة) ولا عليها تسريح الفاجر إلا إذا خافا أن لا يقيما حدود الله فلا بأس أن يتفرقا اهـ مجتبى والفجور يعم الزنا وغيره وقد «قال - صلى الله عليه وسلم - لمن زوجته لا ترد يد لامس وقد قال إني أحبها: استمتع بها اھ (كتاب الحظر والإباحة، فصل في البيع، فرع: يكره إعطاء سائل المسجد إلا إذا لم يتخط رقاب الناس، ج: 6، ص: 427، ط: دار الفكر )