AoA، یہ اسٹامپ پیپر (11) مارچ 2026 کو خریدا گیا تھا اور اس کی پچھلی تاریخ 5 مارچ (2026)ہے، اور طلاق کے بجائے لفظ Dovice استعمال کیا گیا ہے۔ اور یہ کاغذ بھیجنے والا کہہ رہا ہے کہ یہ میں نے ڈرانے کی خاطر بھیجا ہے۔ کیا واقعی طلاق واقع ہوئی ہے؟
صورت مسؤلہ میں شوہر مسمیٰ نے جب طلاق کی نیت سے تحریری طور پر اپنی بیوی کو ان الفاظ" میں اس کو dovice دیتا ہوں"کے ذریعے تین طلاقیں دیدیں ، اگرچہ اس کے تلفظ میں انہوں نے غلطی کی ہو ،تب بھی اس سے اس کی بیوی پر شرعاً تین طلاقیں واقع ہو کر حرمت مغلظہ ثابت ہوگئی ہے، لہذا اب رجوع نہیں ہوسکتا اور حلالہ شرعیہ کے بغیر دوبارہ باہم عقد نکاح بھی نہیں ہوسکتا ،جبکہ عورت ایام عدت گزرنے کے بعد دوسری جگہ نکاح کرنے میں بھی آزاد ہوگی۔
کما فی الھندیۃ: رجل قال لامرأته ترا تلاق. هاهنا خمسة ألفاظ. تلاق وتلاغ وطلاغ وطلاك وتلاك عن الشيخ الإمام الجليل أبي بكر محمد بن الفضل - رحمه الله تعالى - أنه يقع وإن تعمد وقصد أن لا يقع ولا يصدق قضاء ويصدق ديانة إلا إذا أشهد قبل أن يتلفظ به اھ(كتاب الطلاق، الباب الثاني في إيقاع الطلاق،ج: 1،ص: 357،مط: دار الفکر)
و فی البحر: ومنه الألفاظ المصحفة وهي خمسة: تلاق وتلاغ وطلاغ وطلاك وتلاك فيقع قضاء ولا يصدق إلا إذا أشهد على ذلك قبل التكلم بأن قال امرأتي تطلب مني الطلاق وأنا لا أطلق فأقول: هذا ولا فرق بين العالم، والجاهل وعليه الفتوى،اھ(باب ألفاظ الطلاق،ج: 3،ص: 271،مط: دار الکتاب الاسلامی)
و فی فتح القدیر: وأما المصحف فهو خمسة ألفاظ: تلاق، وتلاغ، وطلاغ، وطلاك، وتلاك. ويقع به في القضاء ولا يصدق إلا إذا أشهد على ذلك قبل التكلم،اھ(باب إيقاع الطلاق،ج: 4،ص: 8،مط: دار الفکر)