2020میں شوہر نے بولا "آپ کے پاس شام سے پہلے تک کا ٹائم ہے گھر آجاؤ ورنہ میری طرف سے فارغ ہو"، بیوی نہیں گئی، چند ماہ بعد گئی تھی، مقصد بیوی کو دبانا تھا ،بعد میں شوہر نے بولا کچھ عرصے بعد 2024 میں شوہر کی ماں نے بولا اسے فیصلہ دے دو میاں بیوی کی چھوٹی سی بات پر لڑائی ہوئی، پھر شوہر نے بولا "میں اپنے ہوش و حواس میں آپکو فیصلہ دیتا ہوں" ایک مرتبہ بولا ،اس کے بعد سے بیوی اپنی امی کے گھر ہی ہے، 2026 میں پھر شوہر نے بولا آپس میں بات ہو رہی تھی ،دونوں کی میسیج پر شوہر نے بولا "کچھ بھی نہیں ہو سکتا ہے نہ مجھے اپنی لائف خراب کرنی ہے جاؤ آزاد ہو میری طرف سے "، اب ان میں سے کون کون سی طلاق واقع ہوئی طلاق رجعی ہے یا بائن ؟
واضح ہو کہ "فارغ" کا لفظ عندالقرینہ طلاقِ صریح بائن کے لیے استعمال ہوتا ہے ، اس لیے مذاکرہ یا جھگڑےکے وقت ، ان الفاظ کے بولنے سے ، بلانیت بھی طلاقِ بائن واقع ہوجاتی ہے،لہذا صورت مسؤلہ میں اگر مذکور شخص نےاپنی بیوی کو مذکور الفاظ " آپ کے پاس شام سے پہلے تک کا ٹائم ہے گھر آجاؤ ورنہ میری طرف سے فارغ ہو "کہہ دئے تو اس سےاس کی بیوی پر ایک طلاق بائن معلق ہو چکی تھی ، چنانچہ اس تعلیق کے بعد شام سے پہلے تک چونکہ وہ گھر واپس نہیں گئی تو اس پر ایک طلاق بائن واقع ہوکر میاں بیوی کا نکاح ختم ہو چکاتھا ، جس کے بعد ان دونوں کا بغیر تجدید نکاح کےساتھ رہنا درست نہ تھا، جتنا عرصہ وہ ساتھ رہے ہیں، گناۃ میں مبتلا رہے ہیں، جس پر ان دونوں کو بصدق دل توبہ و استغفار لازم ہے، جبکہ پہلی طلاق کے وقوع کے بعد عورت نے جتنا عرصہ میکہ میں رہی، اس عرصہ میں اسے تین ماہواریاں آکر اس کی عدت گزر چکی تھی، تو اس کے بعد مختلف اوقات میں کہے گئے الفاظ طلاق سے مزید کوئی طلاق واقع نہیں ہوگی ، تاہم اب اگر وہ دونوں ساتھ رہنا چاہتےہوں تو تجدید نکاح کرکے ساتھ رہ سکتے ہیں، لیکن آئندہ کے لئے شوہر کے پاس فقط دوطلاقوں کا اختیار ہو گا ، اس لئے آئندہ طلاق کے معاملہ میں خوب احتیاط لازم ہے۔
کمافی الھندیۃ: واذا أضافہ الی الشرط وقع عقیب الشرط اتفاقاًمثل أن یقول کامرأتہ ان دخلت الدار فأنت طالق الخ (کتاب الطلاق الباب الرابع فی الطلاق بالشرط، ج: ١، ص: ٤٨٨، ط: ماجدیہ)
وفيها ايضاََ: (وما يصلح جوابا وشتما) خلية برية بتة بتلة بائن حرام والأحوال ثلاثة (حالة) الرضا (وحالة) مذاكرة الطلاق بأن تسأل هي طلاقها أو غيرها يسأل طلاقها (وحالة) الغضب (الی قولہ) وفي حالة مذاكرة الطلاق يقع الطلاق في سائر الأقسام قضاء إلا فيما يصلح جوابا وردا فإنه لا يجعل طلاقا كذا في الكافي وفي حالة الغضب يصدق في جميع ذلك لاحتمال الرد والسب إلا فيما يصلح للطلاق ولا يصلح للرد والشتم كقوله اعتدي واختاري وأمرك بيدك فإنه لا يصدق فيها كذا في الهداية اھ (الفصل الخامس في الكنايات في الطلاق، ج: ١، ص: ٣٧٤، ط: ماجديه)