طلاق

ایک مجلس میں دی ہوئی تین طلاقویں کتنی شمار ہوں گی؟

فتوی نمبر :
93812
| تاریخ :
0000-00-00
معاملات / احکام طلاق / طلاق

ایک مجلس میں دی ہوئی تین طلاقویں کتنی شمار ہوں گی؟

محترم مفتی صاحب، السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ! امید ہے آپ خیریت سے ہوں گے۔ میرا نام طاہر ہے اور میں اس وقت پرتگال میں رہائش پذیر ہوں۔ میں نہایت عاجزی، ندامت اور دل کی گہرائی سے ایک نہایت حساس اور اہم شرعی مسئلے میں آپ سے رہنمائی چاہتا ہوں، میری شادی کو تقریباً 22 سال ہو چکے ہیں، اور اللہ تعالیٰ کے فضل سے ہمارے تین بچے ہیں۔ میں اپنی بیوی اور بچوں سے بے حد محبت کرتا ہوں اور ہمیشہ اپنے گھر کو بچانے اور سنبھالنے کی کوشش کرتا رہا ہوں۔ میری نیت کبھی بھی اپنے گھر کو توڑنے یا اپنی بیوی کو چھوڑنے کی نہیں رہی، چند ماہ قبل ایک نہایت افسوسناک واقعہ پیش آیا جس نے مجھے شدید ذہنی اذیت اور پریشانی میں مبتلا کر دیا ہے۔ میں رات بھر تقریباً 10 گھنٹے Uber پر ڈرائیونگ کر کے صبح گھر واپس آیا تھا۔ میں انتہائی تھکا ہوا، ذہنی دباؤ کا شکار اور جسمانی طور پر بھی کمزور حالت میں تھا۔ جب میں گھر پہنچا تو ماحول میں کشیدگی تھی، میری بیوی ناراض تھیں، بات نہیں کر رہی تھیں اور رویہ سخت تھا۔ میں نے بار بار نرمی سے بات کرنے کی کوشش کی مگر ان کی خاموشی اور سختی کی وجہ سے میرا غصہ آہستہ آہستہ بے قابو ہوتا چلا گیا، اسی حالتِ غصہ اور جذباتی دباؤ میں، میں نے اپنے آپ کو سنبھالنے کی کوشش کرتے ہوئے کچن کے کچھ برتن توڑ دیے تاکہ اپنے غصے کو نکال سکوں اور صورتحال کو کسی طرح قابو میں لا سکوں، مگر اس سے میری کیفیت مزید بگڑ گئی۔ میری بیٹی بھی اس دوران وہاں آ گئی تھی اور پورا ماحول انتہائی جذباتی اور بے قابو ہو چکا تھا، پھر اسی شدید غصے، ذہنی دباؤ، تھکن اور ایک طرح کی غیر متوازن کیفیت میں، میں نے اپنی بیوی سے کہا: "تمہیں طلاق چاہیے؟" اور فوراً اسی لمحے ایک ہی نشست میں بغیر کسی وقفے کے یہ الفاظ کہہ دیے: "طلاق، طلاق، طلاق"۔ یہ تینوں الفاظ میں نے مسلسل ایک ہی تسلسل میں ادا کیے، ان کے درمیان کوئی الگ جملہ، وقفہ یا نئی نیت شامل نہیں تھی۔ اس کے فوراً بعد میں نے کہا: "اب خوش ہو گئیں؟" اور وہاں سے اپنے کمرے میں چلا گیا، محترم مفتی صاحب، میں نہایت وضاحت کے ساتھ عرض کرنا چاہتا ہوں کہ اگرچہ میں ظاہری طور پر ہوش و حواس میں تھا، لیکن حقیقت میں میری ذہنی اور جذباتی حالت بالکل متوازن نہیں تھی۔ میں شدید غصے، تھکن، ذہنی دباؤ اور اضطراب کا شکار تھا۔ اس وقت میرے دل میں ہرگز یہ ارادہ نہیں تھا کہ میں اپنی بیوی کو طلاق دوں یا اپنے گھر کو ختم کروں۔ یہ الفاظ محض ایک وقتی، شدید جذباتی اور بے قابو حالت میں میرے منہ سے نکل گئے، جن پر مجھے فوراً اور بعد میں بھی شدید ندامت اور شرمندگی ہوئی، اس واقعے کے بعد سے میں مسلسل ذہنی پریشانی میں مبتلا ہوں، میں نے اللہ تعالیٰ سے سچی توبہ کی ہے اور اپنے کیے پر دل سے معافی مانگ رہا ہوں۔ میں اپنی بیوی اور بچوں سے جدا ہونا نہیں چاہتا اور ہر ممکن کوشش کر رہا ہوں کہ اپنے گھر کو بچا سکوں، اس دوران میں نے اپنی بیوی کو نرمی، محبت اور احترام کے ساتھ منانے کی کوشش کی، میں نے ان کا ہاتھ تھاما اور دو مرتبہ ان کے سر پر بوسہ بھی دیا، صرف اس نیت سے کہ ان کو اپنی محبت اور خلوص کا یقین دلا سکوں اور رشتہ برقرار رکھ سکوں۔ میرا ہرگز یہ ارادہ نہیں تھا کہ میں ان سے علیحدگی اختیار کروں، محترم مفتی صاحب، آپ سے مؤدبانہ درخواست ہے کہ میری اس مکمل صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے قرآن و سنت اور فقہ حنفی (دیوبندی) کی روشنی میں درج ذیل امور میں میری رہنمائی فرمائیں: کیا ایک ہی وقت میں کہی گئی "طلاق، طلاق، طلاق" شرعاً تین طلاق شمار ہوں گی یا ایک؟ کیا شدید غصے، ذہنی دباؤ اور غیر متوازن کیفیت میں دی گئی طلاق کے حکم میں کوئی فرق آتا ہے؟ کیا میرے لیے رجوع (رجعت) کی کوئی صورت باقی ہے؟ اگر رجوع ممکن ہے تو اس کا درست شرعی طریقہ کیا ہوگا؟ کیا اس صورت میں نیا نکاح کرنا ضروری ہوگا یا نہیں؟ اس دوران بیوی کا ہاتھ پکڑنا یا سر پر بوسہ دینا کیا شرعاً رجوع میں شمار ہو سکتا ہے؟ میں نہایت پریشانی اور اضطراب کی حالت میں آپ سے رہنمائی کا طلبگار ہوں۔ میری سچی خواہش ہے کہ میرا گھر بچ جائے اور میں اپنی غلطی کی اصلاح کر سکوں۔ اللہ تعالیٰ آپ کو جزائے خیر عطا فرمائے اور ہمیں صحیح راستہ دکھائے۔ جزاکم اللہ خیراً،

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

واضح ہو کہ غصہ کی حالت میں طلاق دینے سے شرعاً طلاق واقع ہوجاتی ہے ، اسی طرح قرآن و سنت کی واضح نصوص اور چاروں ائمہ کے مذہب کے مطابق ایک مجلس میں ایک ساتھ دی گئی تین طلاقیں تین ہی شمار ہوتی ہے ، چنانچہ اگرچہ سائل طلاق دیتے وقت شدید غصہ کی حالت میں ذہنی دباؤ ، تھکن اور ایک طرح کی غیر متوازن کیفیت میں مبتلاء تھا، لیکن چونکہ سائل خود اس بات کا اقرار کر رہا ہے کہ الفاظ طلاق ادا کرتے وقت وہ ظاہری طور پر ہوش و ہواس میں تھا ، لہذا سائل نے جب غصے کی حالت میں اپنی بیوی کو ایک ساتھ مذکور الفاظ "طلاق، طلاق،طلاق کہے ،تو اس سے اس کی بیوی پر تینوں طلاقیں واقع ہوگئی ہیں ، اس لیے رجوع کی کوئی صورت باقی نہیں رہی ، چنانچہ ہاتھ پکڑنا یا بوسہ دینا شرعاً رجوع شمار نہیں ہوگا ، کیونکہ رجوع صرف طلاق رجعی میں ہوتا ہے ، جبکہ یہاں طلاق مغلظہ واقع ہوچکی ہے۔ اسی طرح عدت کے اندر یا عدت کے بعد بغیر حلالہ شرعیہ دوبارہ نکاح نہیں ہوسکتا ، لہٰذا دونوں پر لازم ہے کہ فوراً ایک دوسرے سے علیحدگی اختیار کریں ، اور میاں بیوی والے تعلقات ہرگز قائم نہ کریں ، ورنہ دونوں سخت گنہگار ہوں گے ، جبکہ عورت ایامِ عدت گزرنے کے بعد اپنی مرضی سے دوسری جگہ نکاح کرنے میں بھی آزاد ہے ۔

مأخَذُ الفَتوی

کما فی احکام القرآن للجصاص : قال أبو بكر: قوله تعالى : ( الطلاق مرتان فإمساك بمعروف أو تسريح بإحسان ) الآية ، يدل على وقوع الثلاث معامع كونه منهياعنها،اھ(ج: ١ ، ص : ٣٨٦ )
وفیہ ایضاً : فالكتاب والسنة وإجماع السلف توجب إيقاع الثلاث معا و إن كانت،معصية، اھ (ج:١، ص: ٣٨٧ )
وفی رد المحتار: قلت: وللحافظ ابن القيم الحنبلي رسالة في طلاق الغضبان قال فيها: إنه على ثلاثة أقسام: أحدها أن يحصل له مبادئ الغضب بحيث لا يتغير عقله ويعلم ما يقول ويقصده، وهذا لا إشكال فيه. والثاني أن يبلغ النهاية فلا يعلم ما يقول ولا يريده، فهذا لا ريب أنه لا ينفذ شيء من أقواله. الثالث من توسط بين المرتبتين بحيث لم يصر كالمجنون فهذا محل النظر، والأدلة على عدم نفوذ أقواله. اهـ. ملخصا من شرح الغاية الحنبلية، لكن أشار في الغاية إلى مخالفته في الثالث حيث قال: ويقع الطلاق من غضب خلافا لابن القيم اهـ وهذا الموافق عندنا لما مر في المدهوش اھ (ج: ٣،ص:٢٤٤،مط:سعید)
و فی الفتاوی الھندیۃ : و إذا قال لامرأتہ أنت طالق و طالق و طالق و لم یعلقہ بالشرط إن کانت مدخولۃ طلقت ثلاثاً اھ (ج:١،ص:٣٥٥،مط: ماجدیۃ)

واللہ تعالی اعلم بالصواب
اظہر امین عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 93812کی تصدیق کریں
0     134
Related Fatawa متعلقه فتاوی
  • تحریر کردہ طلاق نامہ کے ذریعہ طلاق کا حکم

    یونیکوڈ   اسکین   طلاق 6
  • مذاق میں بیوی کو طلاق کاغذ پر لکھ کر دیدی

    یونیکوڈ   اسکین   طلاق 1
  • بیوی کو حرام زادی کہنے سے نکاح متاثرہوگا؟

    یونیکوڈ   اسکین   انگلش   طلاق 2
  • دل دل میں طلاق دینا

    یونیکوڈ   اسکین   طلاق 1
  • ایک کاغذپر تین طلاق لکھ کر دینے سے کتنی طلاقیں واقع ہوں گی؟

    یونیکوڈ   اسکین   طلاق 1
  • تم میری بہن کی طرح ہو کہنے سے بیوی پر طلاق واقع ہوگی؟

    یونیکوڈ   اسکین   طلاق 1
  • بیرون ملک شادی کے لئے پہلی بیوی کے نام عارضی طلاق نام بنوانا

    یونیکوڈ   اسکین   طلاق 2
  • پچپن میں نکاح کے بعد بالغ ہونے پر لڑکا پاگل ہوگیا طلاق کیسے ہوگی؟

    یونیکوڈ   اسکین   طلاق 1
  • اسلام قبول کرنے کے بعد عیسائی شوہرسے نکاح خودبخودختم ہوجاتاہے؟

    یونیکوڈ   اسکین   انگلش   طلاق 0
  • طلاق نامہ پر دستخط کرنے سے طلاق واقع ہوجاتی ہے؟

    یونیکوڈ   طلاق 0
  • حمل کی حالت میں طلاق دینے کا حکم

    یونیکوڈ   طلاق 2
  • طلاق کا واقعہ سنانے سے مزید طلاق واقع ہونے سے متعلق سوال

    یونیکوڈ   طلاق 1
  • "میں تم کو طلاق دیتا ہوں "بیوی کو غصہ میں تین دفعہ بول دینا

    یونیکوڈ   طلاق 2
  • بیوی کی غیر موجودگی میں, سسر کو تین بار کہہ دینا کہ" میں نے تیری بیٹی کو طلاق دیدی "

    یونیکوڈ   طلاق 1
  • بیوی کو ڈرانے کے لیے الفاظ طلاق بولنا

    یونیکوڈ   طلاق 1
  • واٹس اپ کی ریکارڈنگ کے ذریعے طلاق

    یونیکوڈ   انگلش   طلاق 2
  • بیوی کی غیر موجودگی میں اس کی طرف نسبت کئے بغیر طلاق کا حکم

    یونیکوڈ   طلاق 0
  • وقوع طلاق کے لیے گواہ شرط ہے؟

    یونیکوڈ   طلاق 0
  • یونین کونسل کی جانب سے پہلی طلاق کا نوٹس بھیجے جانے سے مزید وقوعِ طلاق کا حکم

    یونیکوڈ   طلاق 0
  • بیوی کو طلاق کا مسئلہ سمجھاتے ہوئے الفاظ طلاق کہنے کا حکم

    یونیکوڈ   طلاق 1
  • موبائل پر طلاق دینے کا حکم

    یونیکوڈ   طلاق 2
  • لفظِ " فارغ "سے طلاق واقع ہونے کا حکم

    یونیکوڈ   طلاق 4
  • بیوی نے کہا کہ "مہر دو اور جانے دو" جواب میں شوہر کا "ٹھیک ہے " کہنے کا حکم

    یونیکوڈ   طلاق 0
  • "طلاق لو اور جاؤ" کہنے سے طلاق ہوگی یا نہیں؟

    یونیکوڈ   طلاق 0
  • گھر والوں کی دباؤ میں آکر طلاق نامہ پر دستخط کرنے سے طلاق کا حکم

    یونیکوڈ   طلاق 2
Related Topics متعلقه موضوعات