میں ایک سرکاری یونیورسٹی میں ایک ایسے مضمون کا استاد ہوں جس سے متعلق مجھے بہت سے خارجی پراجیکٹ اور انفرادی کام ملتے رہتے ہیں، مثلاً کسی ادارے کے لیے نصاب سازی کا کام یا کسی ناشر کیلیے ترجمہ کا کام ،ان کاموں کا میں معاوضہ لیتا ہوں، واضح رہے میں اپنی سرکاری جامعہ میں نصاب سازی اور فنِ ترجمہ تدریسی مضامین کے طور پر پڑھاتا ہوں جس میں ان خارجی سرگرمیوں سے اپنی تدریس کو بہتر بنانے کا براہِ راست موقع ملتا ہے، جس کا عملی فائدہ طلباء کو ہوتا ہے، کیا اپنی تدریس کو بہتر بنانے کی نیت سے دفتری اوقات میں اس نوع کے خارجی اور انفرادی پراجیکٹ پر کام کرنا جائز ہے،؟جب کہ دفتری اوقات کے اکثر گھنٹے بالکل فارغ بھی ہوتے ہیں اور حاکمِ بالا کی طرف سے یہ صریح ہدایت بھی ہے کہ ان فارغ اوقات کو مدرسین اپنی صلاحیتوں کو فروغ دینے میں استعمال کریں؟
واضح رہے کہ کسی بھی ادارہ کے ملازمین کی حیثیت اجیرِخاص کی ہوتی ہے، اور اجیر خاص کے لیے ملازمت کے مقررہ اوقات میں اپنی مفوضہ ذمہ داریوں کے علاوہ اپنے کسی ذاتی کاموں میں مشغول ہونا شرعاً جائز نہیں۔ لہٰذا صورت مسئولہ میں سائل کے لیے یونیورسٹی کے مقررہ اوقات میں مفوضہ تدریسی ذمہ داریوں کے علاوہ ذاتی پراجیکٹ پر کام کرنا شرعاً جائز نہیں جس سے اجتناب لازم ہے ۔ البتہ اگر دفتری اوقات میں اپنی مفوضہ ذمہ داری کا کوئی کام نہ ہو اور سائل کو مجاز حکام کی طرف سے فارغ اوقات میں اپنے ذاتی اور انفرادی کام کرنے کی صرا حتاً اجازت ہو تو ایسی صورت میں سائل کے لئے اپنے خارجی پراجیکٹ پر کام کرنے کی گنجائش ہوگی،ورنہ نہیں ۔
کمافی الدرالمختار :(والثاني) وهو الأجير (الخاص) ويسمى أجير وحد (وهو من يعمل لواحد عملا مؤقتا بالتخصيص ويستحق الأجر بتسليم نفسه في المدة وإن لم يعمل ج 6ص:69 مبحث الاجیر الخاص ط:ایچ ایم سعید)
وفی الدرالمختار مع ردالمختار: وليس للخاص أن يعمل لغيره، ولو عمل نقص من أجرته بقدر ما عمل فتاوى
(قوله وليس للخاص أن يعمل لغيره) بل ولا أن يصلي النافلة. قال في التتارخانية: وفي فتاوى الفضلي وإذا استأجر رجلا يوما يعمل كذا فعليه أن يعمل ذلك العمل إلى تمام المدة ولا يشتغل بشيء آخر سوى المكتوبة وفي فتاوى سمرقند: وقد قال بعض مشايخنا له أن يؤدي السنة أيضا. واتفقوا أنه لا يؤدي نفلا وعليه الفتوى. وفي غريب الرواية قال أبو علي الدقاق: لا يمنع في المصر من إتيان الجمعة، ويسقط من الأجير بقدر اشتغاله إن كان بعيدا، وإن قريبا لم يحط شيء فإن كان بعيدا واشتغل قدر ربع النهار يحط عنه ربع الأجرة. (قوله ولو عمل نقص من أجرته إلخ) قال في التتارخانية: نجار استؤجر إلى الليل فعمل لآخر دواة بدرهم وهو يعلم فهو آثم، وإن لم يعلم فلا شيء عليه وينقص من أجر النجار بقدر ما عمل في الدواة (ج 6 ص:70 [مطلب ليس للأجير الخاص أن يصلي النافلة] ط: ایچ ایم سعید )