میں دبئی میں رہتا ہوں، میرا ایک خاتون کے ساتھ پانچ سال تک تعلق رہا، لیکن اس کے والدین اس رشتے پر راضی نہیں تھے، گزشتہ سال فروری میں ہم نے پاکستان میں ایک لا فرم (Law Firm) کے ذریعے نکاح کیا، لیکن میری بیوی نے یہ امید رکھتے ہوئے کاغذی کارروائی (رجسٹریشن وغیرہ) مؤخر کرنے کو کہا کہ شاید اس کے والدین مان جائیں، لیکن دسمبر میں اس کے والدین نے اس کی منگنی/رشتہ کسی اور جگہ طے کر دیا، اور جنوری میں اسے زبردستی پاکستان لے گئے، وہاں اس نے مجھ سے طلاق کا مطالبہ کیا، اور میں نے اسے صرف ایک طلاق دی، طلاق کے سات دن بعد اس نے دوسرے شخص سے نکاح بھی کر لیا اور رخصتی بھی ہو گئی، ہمارے درمیان ازدواجی تعلق (جماع) نہیں ہوا تھا، البتہ ہم ایک دوسرے کے ساتھ وقت گزارتے تھے، جسمانی قربت بھی تھی اور ہم باقاعدگی سے ہفتہ وار باہر بھی جاتے تھے، میرا سوال یہ ہےکہ کیا اس عورت پر عدت واجب تھی؟ کیا اس کا دوسرا نکاح درست ہے؟ چونکہ طلاق کو ابھی دو ماہ بھی نہیں ہوئے، کیا مجھے اپنی دی ہوئی طلاق میں رجوع کا حق حاصل ہے؟ کیا میں عدالت میں اس کے دوسرے نکاح کو چیلنج کر سکتا ہوں؟
مفتی غیب نہیں جانتا، وہ سوال کے مطابق جواب دینے کاپابندہوتاہے ،سوال کے سچ یا جھوٹ کی ذمہ داری سوال کرنے والے پرعائدہوتی ہے، اس مختصرتمہیدکے بعدواضح ہوکہ اگرسائل کابیان حقیقت پرمبنی ہو اس میں کسی قسم کی غلط بیانی سے کام نہ لیاگیاہواس طورپرکہ سائل اورمذکورلڑکی دونوں نے باقاعدہ گواہوں کی موجودگی میں حق مہرکے تقررکے ساتھ نکاح کیاہواور سائل مذکور لڑکی کا کفو (ہم پلہ) ہو، اگر چہ بوجوہ قانونی تقاضوں کےمطابق نکاح کودستاویزی شکل نہ دی گئی ہو، تب بھی مذکورنکاح درست منعقدہوچکاتھا، اگر چہ والدین کی رضامندی کے بغیر اس طرح چھپ کر نکاح سخت معیوب اور ناپسندیدہ اقدام ہے، اور آئندہ اس سے اجتناب لازم ہے، چنانچہ اس نکاح کے بعداگرواقعۃًان دونوں کےدرمیان خلوتِ صحیحہ (ایسی تنہائی جس میں جماع سے کوئی شرعی یا طبعی مانع نہ ہو) واقع ہوچکی ہو، اگرچہ جماع نہ ہوا ہو، توایسی صورت میں مذکورلڑکی پرطلاق کے بعد شرعاً عدت واجب تھی، لہذا دورانِ عدت کیا گیا دوسرا نکاح شرعاً درست نہیں ، بلکہ اگر دوسرے شوہر کو اس کی عدت کا علم ہو اور اس کے باوجود اس معتدہ عورت سے نکاح کیا تو شرعاً ایسا نکاح سرے سے منعقد ہی نہیں ہوا، لہٰذا اس نکاح ثانی کے بعد ہمبستری کے باوجود عورت پر عدت لازم نہیں، بلکہ سابق عدت ہی لازم ہوگی۔
لیکن اگر نکاح کرتے وقت دوسرے شوہر کو اس کے معتدہ ہونے کا علم نہیں تھا تو شرعاً یہ نکاح فاسد ہے، چنانچہ نکاح کے بعد اگر اب تک صحبت نہ کی ہو تو شوہر پر مہر اور عورت پر عدت بھی لازم نہ ہوگی، لیکن اگر شوہر صحبت کرچکا ہو تو اس صورت میں عورت پر عدت اور شوہر پر حق مہر اور مہر مثل میں سے جو کم ہو ، وہ لازم ہے، بہر دو صورت دوسرے شوہر پر لازم ہے کہ بیوی کو متارکت کے الفاظ (میں نے تمہیں چھوڑ دیا وغیرہ) بھی کہہ دے، تاکہ عدت (جو کہ اس صورت میں واجب ہے)کے بعد عورت پہلے شوہر کی عدت مکمل کر کے دوسری جگہ نکاح کرنے میں آزاد ہو، چونکہ بقولِ سائل اس نے صرف ایک طلاقِ رجعی دی تھی ، اس لیے عدت کے اندر سائل کو رجوع کا حق حاصل ہے ، لہذااس تناظرمیں سائل جوبھی قانونی کاروائی کرناچاہے ،وہ اس کامجازہے ۔
کما فی الھدایۃ: ولا ينعقد نكاح المسلمين إلا بحضور شاهدين حرين عاقلين بالغين مسلمين رجلين أو رجل وامرأتين الخ (کتاب النکاح، ج 2، ص 5)۔
وفی الدرالمختار: ومن شرائط الإيجاب والقبول: اتحاد المجلس لو حاضرين، وإن طال الخ (3/14)۔
و فی الھندیۃ: لا يجوز للرجل أن يتزوج زوجة غيره وكذلك المعتدة،كذا في السراج الوهاج. سواء كانت العدة عن طلاق أو وفاة أو دخول في نكاح فاسد أو شبهة نكاح، كذا في البدائع. الخ (کتاب النکاح ج 1 ص 280 ط: ماجدیہ )۔
وفی البحر الرائق: أما نكاح منكوحة الغير ومعتدته فالدخول فيه لا يوجب العدة إن علم أنها للغير؛ لأنه لم يقل أحد بجوازه فلم ينعقد أصلا فعلى هذا يفرق بين فاسده وباطله في العدة ولهذا يجب الحد مع العلم بالحرمة لكونه زنا كما في القنية وغيرها الخ (کتاب الطلاق ج 4 ص 156 ط: دار الکتاب)۔