میری شادی کے کچھ وقت کے بعد شوہر بیرون ملک چلے گئے اور بیرون ملک جانے سے پہلے لڑائی جھگڑے میں مجھ سے یہ بولا کہ میری طرف سے تم فارغ ہو اور پھر باہر ملک چلےگئے اور پھر 10 ماہ بعد میرے ہاں ایک بیٹے کی پیدائش ہوئی اسی دوران انہوں نے بچے کا نادرہ میں اندراج کرنے سے بھی انکار کر دیا ہے یہ بول کہ میں شادی نہیں رکھنا چاہتا اور نہ ہی بچے کو اپنا نام دینا چاہتا۔ اور نہ ہی میں تم سے کوئی رشتہ یا کوئی تعلق رکھنا چاہتا ہوں
میرے بیٹے کی پیدائش کے دو ہفتے کے بعد انہوں نے اپنے باپ کو ایک وائس میسج بھیجا جس میں انہوں نے کہا کہ میری طرف سے وہ کاغذات میں فارغ ہے یا میں نے اسے اپنی کاغذات میں فارغ کر دیا ہے اور اس کے کچھ عرصے کے بعد انہوں نے پھر اپنے ہاتھ سے ایک تحریر لکھی جس میں انہوں نے لکھا کہ میں اسے ایک طلاق دیتا ہوں اور دو طلاق بعد میں دوں گا یہ بھی انہوں نے اپنے باپ کو بھیجی لیکن پھر مجھے ان کے رشتہ داروں کے توسط سے یہ وائس میسج اور ہاتھ سے لکھی ہوئی تحریر میرے تک پہنچی جس کو میں نے دیکھ کر پہچان لیا جو کہ ایک امیج تھا کہ یہ میرے شوہر کے ہاتھ کی لکھی ہوئی ہے اور ان کے ہاتھ بھی اس تصویر میں نمایاں ہیں.
اب میرا خاوند مجھے مجبور کر رہا کہ میں واپس اس کے گھر جا کے اس کے باپ کے پاس رہوں جبکہ وہ طلاق دے چکا ۔ اور اب وہ ان سب باتوں سے انکار کر رہے کہ میں نے اس طرح کچھ نہیں کہا۔ اور اس طرح طلاق نہیں ہوتی۔
اب میں یہ پوچھنا چاہتی ہوں کہ کیا مجھے تین طلاق ہو چکی ہیں یا دو ہوئی ہیں ۔ اب کیا رجوع ممکن ہے۔اور اگر ممکن تو اس کا طریقہ کیا ہو گا
واضح ہو کہ "فارغ ہو"کا جملہ عند القرینہ صریح بائن کے لیے استعمال ہوتا ہے اور اس سے بلا نیت بھی قرینہ پائے جانے کی صورت میں طلاق بائن واقع ہوجاتی ہے، لہذا سائلہ کے شوہرنےبیرون ملک جاتےوقت لڑائی جھگڑے کے دوران اگر مذکور الفاظ " میری طرف سے تم فارغ ہو " کہہ دئیے ہو تو اس سے سائلہ پر ایک طلاق بائن واقع ہو کر میاں بیوی کے درمیان نکاح بالکلیہ ختم ہوچکا ہے،چنانچہ اس کے بعد دی جانے والی طلاقیں اگر بچے کی ولادت کے بعد دی گئی ہوں تو یہ طلاق محل نہ ہونے کی وجہ سے لغو ہوچکی ہے ،جبکہ عورت عدت گزر جانے کے بعد دوسری جگہ نکاح کرنے میں بھی آزاد ہے ،اور اگر اسی خاوند کے ساتھ ہی دوبارہ رہنا چاہتی ہو تو اس کے لیے ضروری ہے کہ باقاعدہ ایجاب وقبول اور مہر کے تقرر کے ساتھ از سر نو نکاح کرے ،جبکہ ایسی صورت میں سائلہ کے خاوند کے پاس آئندہ فقط دو طلاقوں کا اختیار باقی رہیگا ۔
کما فی الدر المختار: (لا) يلحق البائن (البائن) إذا أمكن جعله إخبارا عن الأول كأنت بائن بائن، أو أبنتك بتطليقة فلا يقع لأنه إخبار فلا ضرورة في جعله إنشاء،اہ
وفی رد المحتار: وإذا طلقها تطليقة بائنة ثم قال لها في عدتها أنت علي حرام أو خلية أو برية أو بائن أو بتة أو شبه ذلك وهو يريد به الطلاق لم يقع عليها شيءاہ(باب الکنایات،ج: ٣،ص:٣٠٨،مط: سعيد)
وفي الهندية: (الفصل الخامس في الكنايات) لا يقع بها الطلاق إلا بالنية أو بدلالة حال كذا في الجوهرة النيرة ،الخ (الفصل الخامس في الكنايات ،ج:١،ص:٣٧٤،مط : ماجدية)
وفي الدر المختار: فالحالات ثلاث: رضا وغضب ومذاكرة والكنايات ثلاث ما يحتمل الرد أو ما يصلح للسب، أو لا ولا (فنحو اخرجي واذهبي وقومي) تقنعي تخمري استتري انتقلي انطلقي اغربي اعزبي من الغربة أو من العزوبة (يحتمل ردا، ونحو خلية برية حرام، الخ
وفي رد المحتار تحت قوله حرام) من حرم الشيء بالضم حراما امتنع،وسيأتي وقوع البائن به بلا نية في زماننا للتعارف،(الى قوله) والحاصل أن المتأخرين خالفوا المتقدمين في وقوع البائن بالحرام بلا نية حتى لا يصدق إذا قال لم أنو لأجل العرف الحادث في زمان المتأخرين، فيتوقف الآن وقوع البائن به على وجود العرف كما في زمانهم. وأما إذا تعورف استعماله في مجرد الطلاق لا بقيد كونه بائنا يتعين وقوع الرجعي به كما في فارسية سرحتك ومثله ما قدمناه في أول باب الصريح من وقوع الرجعي بقوله " سن بوش " أو " بوش " أول في لغة الترك مع أن معناه العربي أنت خلية، وهو كناية لكنه غلب في لغة الترك استعماله في الطلاق،(باب الكنايات، ج :٣، ص: ٣٠١، مط: سعيد)